جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

مسلمانوں کی انقلاب آفرین دریافتیں اوریورپی سائنس دانوں کی سرقہ نویسی!

datetime 9  ستمبر‬‮  2015 |

آ ٹھویں صدی سے لے کر بارہویں صدی تک کے دور کو ’’ ازمنہ تاریک ‘‘ ( Dark Ages) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اہل یورپ کے لیے یہ ازمنہ تاریک تھا۔ اس دور میں عرب اور غیر عرب مسلمان سائنسدان سائنس کے میدان میں عروج کی بلندیوں کو چھورہے تھے۔ مسلمان اس دور میں ترقی یافتہ تھے اور یورپ پسماندہ۔آ ج جبکہ نئی ایجادات اور آلات سامنے آ رہے ہیں ہم اس دور کا موازنہ اس آ ٹھویں سے بارہویں صدی عیسوی پر محیط دورکے ساتھ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ سائنسی ایجادات کی تعدا دگو کم تھی لیکن مسلمان سائنسدان ‘سائنس کے میدان میں یورپ سے بہت آ گے تھے۔آ ج سکولوں کالجوں میں جو پڑھایا جارہا ہے اس میں سارے کا سارا علم ’’ علم مغرب ‘‘ ہے۔ اس کی وجہ میڈیا ( ذرائع ابلا غ ) ہے کیونکہ ’’ آ ج کا میڈیا مغربی دنیا کے ہاتھ میں ہے۔ ‘‘ اس میں کو ئی مبالغہ آ رائی نہیں کہ میڈیا یورپ اور امریکا کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ ان کے پاس زیادہ سٹیلائیٹ اور ٹیلی ویژن ہیں۔ سی این این اور بی بی سی ان کی زبان بولتے ہیں انٹر نیٹ پر امریکا کا قبضہ ہے۔ سچ کو وہ جو شکل دینا چاہیں توڑ موڑ کر دے دیتے ہیں جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے میں ان کا ثانی نہیں۔
ابن نفیس نامی مسلمان نے دوران خون کا عمل دریافت کیا تھا لیکن میڈیکل کی کتابوں میں ابن نفیس کی جگہ ولیم ہا ورے کا نام دیا گیا ہے کہ یہ دریافت اس کی ہے۔ دوران خون کے عمل کی دریافت ابن نفیس نے ۴۰۰ برس قبل کی تھی۔ اہل یورپ نے مسلمانوں کی کتابوں سے استفادہ نہیں کیا تھا بلکہ ان علوم کو چرا کر اپنے ناموں سے پیش کیا تھا۔ اسی طرح ۱۱۵۴ ء میں طوسیٰ نے دنیا کا پہلا نقشہ بنایا تھا۔ ریاضیات میں مسلمان ریاضی دانوں کا بڑا شہر ہ تھا۔ اعشاری نام مسلمانوں نے متعارف کروایا تھا۔ عر بی کے اعداد کو ہی ایک دو تین وغیرہ کہا جاتاہے۔ دیگر اعداد رومن ہیں۔ یورپی سائنسدانوں کے اسی سرقہ کو دیکھ کر علامہ اقبالؓ نے فر مایا تھا :
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آ باء کی
جو دیکھیں انکو یورپ میں تو دل ہو تا ہے سیپارہ
عرب طوسیٰ پہلا ریاضی دان تھا جس نے پہلی بار فیثا غورثی مسائل کو دریافت کیا۔ اہم مسائل فیثاغورث سے تو با خبر ہیں مگر طوسیٰ نے ہی مربع کی ساختیاتی اشکال کی ریاضیاتی تشریح کی تھی۔البیرونی کے نام سے کون واقف نہیں ۔ وہ ٹر نو میٹری میں سند کا درجہ رکھتا تھا۔ الکندی بیک وقت فلسفی‘ ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھا۔ جب نیوٹن اور گلیلیو نے کہا تھا کہ تمام طبعی قوانین متعینہ یا مطلق (Absoulte) ہیں تو الکندی نے کہا کہ وہ اٖضافی (Relative) ہیں ۔ آ ج ہم آئن سٹائن کے نظریہ اضافت سے تو آ گاہ ہیں لیکن الکندی کو کوئی نہیں جانتا۔ حالانکہ وہ پہلا شخض تھا جس نے نظریہ اضافت کی بات کی تھی۔ محمد حسن اور شاکر تین بھائی تھے ان کے ناموں سے بھی ہم آ شنا نہیں۔انہوں نے بیحرہ احمر کے ایک زاویے سے زمین کے قطر کی پیمائش کی اور یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین چپٹی ہے۔
مسلمان کیمیا دانوں نے بڑا نام کمایا تھا۔ جابر بن حیان کے نام کو مغرب والوں نے لاطینی شکل دے کر انہیں گیبر کہنا شروع کر دیا۔ ہم جب یہ نام پڑھتے ہیں تو انہیں یورپی سمجھنے لگتے ہیں ۔ ابن حیان نے ’’ الکحل ‘‘ پر تحقیق کی۔ دراصل یہ عربی زبان کے لفظ ’’ النحل ‘‘سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے بھوت وغیرہ ۔ ’’ الکلی ‘‘ عربی سے ماخوذ ہے ۔ جابر بن حیا ن نے کیمیا پر ۲۰۰۰ مضامین لکھے تھے۔
علم طب کے شعبے میں نامور شخض محمد ذکر یا رازی تھے۔ چیچک اور خسرہ کی بیماریوں پر انہوں نے تحقیق کی۔ یہ وہی ماہر طب ہیں جنہوں نے مرکیوری مرہم کا استعمال کیا۔ بچوں کی بیما ریوں پر آ پ نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ایران کا محقق زکریا الرازی(۹۲۵ء) دنیا کا پہلا کیمیا دان تھا جس نے سلفیورک ایسڈ تیار جو ماڈرن کیمسٹری کی بنیادی اینٹ تسلیم کیاجاتا ہے۔ اس نے ایتھو نول بھی ایجاد کیا اور اس کا استعمال میڈیسن میں کیا ۔ اس نے کیمیائی مادوں کی وجہ بندی (نامیاتی اور غیر نامیاتی)بھی کی۔
زکریا الرازی پہلا آ پتو میسٹریٹ تھا جس نے بصارت فکر اور تحقیقی انہماک سے نتیجہ اخذ کیا کہ آ نکھ کی پتلی روشنی ملنے پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ الرازی نے اپنے علمی شاہکار کتاب الحاوی میں گلاؤ کو ما کی تفصیل بھی بیان کی۔اس نے چیچک پر دنیا کی پہلی کتاب ’’ الجدری والحسبہ ‘‘ لکھی جس میں اس نے چیچک اور خسرہ میں فرق بتلایا تھا۔اس نے سب سے طبی امداد ( فرسٹ ایڈ) کا طریقہ جاری کیا تھا۔ اس نے عمل جراحی میں ایک آ لہ نشتر Seton بنایا تھا ۔ اس نے ادویہ کے درست وزن کے لیے میزان طبعی ایجاد کیا۔ یہ ایسا ترازو ہے جس سے چھوٹے سے چھوٹا وزن معلوم کیا جاسکتا ہے۔ سائنس روم میں یہ اب بھی استعمال ہوتا ہے۔الکحل بھی رازی نے ایجاد کی تھی۔طبیب اعظم زکریا الرازی پہلا انسان ہے جس نے جراثیم کے مابین تعلق معلوم کیا جو طبی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بغداد میں کس مقام پر ہسپتال تعمیر کیا جائے تو اس نے تجویز کیا کہ جہاں ہوا میں لٹکا گوشت دیر سے خراب ہو اس مقام پر ہسپتال تعمیر کیا جائے ۔علی بن عباس نے علم طب پر ۲۰ جلدوں پر مشتمل مقالہ تحریر کیا۔ علی ابن سینا کو لے لیں۔یہ سینہ زوری نہیں کہ مغرب نے انہیں اوی سینا کا نام دے کر یورپی بنا دیا ہے۔اور ابو الحسین ابن عبداﷲابن سینا کو او سی سینا بنا کر ان کی خدمات کا سہرا مغربی دنیا کے سر باند ھ رہے ہیں ۔ یہ وہی ابن سینا ہیں جنہیں مشرق کے ارسطو کا لقب دیا گیا۔ ان کی مشہور زمانہ کتاب ’’ قانون ‘‘ پو رے یورپ میں اٹھارہویں صدی تک طب میں سند کا درجہ رکھتی تھی اور اسے ایک حوالے کی کتاب تصور کیا جاتا تھا۔
الزاہروی بطور ڈینٹسٹ مشہور تھے۔ سادہ بطور جراح اور ماہر علم زچہ بچہ بھی بڑی شہرت رکھتے تھے۔ الزاہروی نے جراحی(سرجری)گائناکالوجی اوردندان سازی میں استعمال ہونے والے بیشمار آ لات ایجاد کئے۔ Planctarium اسلامی اسپین کے سائنسدان عباس ابن فرناس (887ء) نے قرطبہ میں نویں صدی میں بنایا تھا۔ یہ شیشے کا تھا۔ اس میں آ سمان کی پروجیکشن اس طور سے کی گئی تھی کہ ستاروں‘ سیاروں‘کہکشاؤں کے علاوہ بجلی اور بادلوں کی کڑک بھی سنائی دیتی تھی۔
قدیم یونانی حکماء کانظریہ تھا کہ انسان کی آ نکھ سے شعاعیں(لیزر کی طرح) خارج ہوتی ہیں جن کے ذریعے ہم اشیاء کو دیکھتے ہیں ۔ دنیا کا پہلا شخص جس نے اس نظریہ کی تردید کی وہ دسویں صدی کا عظیم مصری ریاضی دان اور ماہر طبیعات ابن الہیثم تھا۔ اس نے ہی دنیا کا سب سے پہلا پن ہول کیمرہ ایجاد کیا۔ اس نے کہا کہ ر وشنی جس سوراخ سے تاریک کمرے کے اندر داخل ہوتی ہے وہ جتنا چھوٹا ہو گا پکچراتنی ہی عمدہ (شارپ) بنے گی۔اس نے ہی دنیا کا سب سے پہلا کیمرہ آ بسکورہ تیار کیا۔خلیفہ ہارون الرشید ایک عالی دماغ انجینئر تھا۔ سوئیز نہر کھودنے کا خیال سب سے پہلے اس کو آ یا تھا تاکہ بیحرہ روم اور بیحرہ احمر کو آ پس میں ملا دیا جائے ۔ اس نے عین اس مقام پر نہر کھودنے کا سوچا جہاں اس وقت سوئیز کنال موجود ہے۔
مسلمان ماضی میں کئی علوم میں نمایاں مقام رکھتے تھے آ ج مسلمان سائنس کے میدان میں بے شک بہت پیچھے ر ہ گئے ہیں؟ جس کی وجہ قرآن سے اور اسلام سے دوری ہے۔یورپ کی ترقی کا راز ان کی مذہب بیزاری میں پوشیدہ ہے جبکہ مسلمانان عالم کی پسماندگی کا سبب ان کی اسلام سے دوری ہے۔آج بھی اگر ہم قرآن حکیم کو اپنارہبر بنا لیں اسے اپنی زندگیوں پر نافذ کر لیں تو وہ دن دور نہیں جب مسلمان دنیا بھر میں عروج حاصل کرلیں اور بقول اقبال ان سے دنیا کی امامت کا کام لیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…