برطانیہ کا صحافی ولیم سٹیڈ آٹومیٹک رائٹنگ کے حوالے سے خاص شہرت رکھتا ہے۔ اس نے آٹو میٹک رائٹنگ کے حوالے سے کئی کتابچے بھی تحریر کئے اور وہ اس حوالے سے مظاہرے بھی کیا کرتا تھا جو اکثر بالکل درست ثابت ہوتے تھے۔ مثلاً وہ کسی بھی شخص کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد اس کے متعلق سوچتا اور پھر قلم ہاتھ میں پکڑ کر لکھنا شروع کردیتا جو تحریر اس طور وجود میں آتی‘ اس میں موجود اکثر باتیں اس شخص کے بارے میں درست ہوتی تھیں۔ اس نوع کا ایک واقعہ اس کی ایک دوست لینا ڈیورنڈ کے حوالے سے بہت مشہور ہوا۔
واقعہ یوں ہے کہ ایک روز دونوں نے طے کیا کہ وہ رات کا کھانا اکٹھے کھائیں گے لیکن وہ اس روز وقت مقررہ پر نہیں پہنچ سکی۔ تب ہوٹل میں اس کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ولیم نے اس کے بارے میں سوچا اور پھر قلم ہاتھ میں پکڑ کر لکھنا شروع کیا جو تحریر وجود میں آئی اس کے مطابق اس خاتون کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ یوں تھا کہ وہ ولیم کی طرف آنے کے لیے سان فرانسسکو کے ایک سٹیشن سے ٹرین پر سوار ہوئی۔ جس ڈبے میں وہ بیٹھی تھی‘ اس میں اس کے علاوہ دو عورتیں اور ایک مرد بھی موجود تھا جو نشے میں دھت تھا۔ ایک سٹیشن پر عورتیں ٹرین سے اتر گئیں تو مرد اٹھ کر اس کے قریب آ گیا اور اس سے چھیڑ خانی کرنے لگا۔ اس کے جواب میں لینا نے اسے پرے دھکیلا لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا اور زیادہ طاقت سے اسے قابو میں کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے اپنی چھتری سے اسے پیٹنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں چھتری ٹوٹ گئی اور جونہی اگلے سٹیشن پر ٹرین رکی تو مرد اس میں کود کر باہر بھاگ گیا۔ تاہم وہ اس کی چھتری اپنے ساتھ لیتا گیا۔
ولیم نے وہ تحریر قریبی پولیس سٹیشن کو دکھائی اور اسے بتایا کہ مرد سٹینفورڈ کے سٹیشن پر اترا تھا اور اگر پولیس اسے تلاش کرنا چاہے تو نشانی کے طور پر وہ ٹوٹی ہوئی چھتری اس سے برآمد کرسکتی ہے۔ پولیس نے درخواست موصول ہوتے ہیں اس کے مطابق کارروائی کی اور سٹینفورڈ کی پولیس کو اس شخص کے بارے میں بتایا۔ اتفاق سے وہ شخص سٹیشن کے قریب ہی ایک شراب خانے میں بیٹھا مل گیا اور بہت آسانی سے گرفتار کرلیا گیا کیوں کہ اس کے پاس لینا کی ٹوٹی ہوئی چھتری مل گئی تھی۔ بعدازاں لینا ولیم کے پاس پہنچی تو یہ جان کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جس شخص نے ا س کے ساتھ زیادتی کی تھی‘ وہ اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے پہلے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس واقعہ کا میڈیا میں بہت چرچا ہوا۔
آٹو میٹک رائٹنگ ہمیشہ سے ہی ایک عجیب اور پراسرار مظہر رہا ہے۔ مختلف زمانوں میں مختلف ماہرین نے اس مظہر کی اپنے طور پر توجیہ کی لیکن کوئی ایک بھی ایسی توجیہ اس مظہر کو مکمل طور پر ثابت نہیں کرسکی۔ اس حوالے سے یہ رائے پیش کی جاتی ہے کہ آٹومیٹک رائٹنگ ہمارے دماغ ہی کی ایک ایسی صلاحیت ہے جو اکثر افراد میں خوابیدہ رہتی ہے یا اکثر اوقات یہ بے حس ہوتی ہے اور کبھی کبھار ہی بیدار ہوتی ہے۔ بعض لوگوں میں یہ صلاحیت زیادہ شدید ہوتی ہے اور اکثر بیدار حالت میں رہتی ہے جس کے نتیجے میں وہ دوسروں کے ذہنوں سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ خیال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ہم جو کچھ سوچتے ہیں وہ صرف ہمارے دماغ کی حد تک نہیں رہتا ہے۔ جس طرح آواز کی لہریں ہوتی ہیں جو ہوا میں سفر کرتی ہیں اور طویل عرصے تک موجود رہتی ہیں‘ اسی طرح دماغی سوچ بھی لہروں کی صورت میں موجود ہوتی ہے جو خلاء میں سفر کرتی ہے۔ ان لہروں کو گرفت میں کرنے کے لیے دماغ کی اعلیٰ صلاحیتوں کا بیدار ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اتنا حساس ہو کہ انہیں پکڑ سکے۔
تاہم آٹومیٹک رائٹنگ کے ذریعے زندہ لوگوں کے ذہنوں تک ہی رسائی ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذریعے مردہ لوگوں سے بھی رابطہ ممکن ہوسکتا ہے۔ یوں اس صلاحیت کے حامل افراد ایسی معلومات حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں جو صرف کسی مرے ہوئے شخص کے لیے علم میں ہوتی ہیں۔ اس کی بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔
بیرسٹر ایڈورڈ مارشل ہال برطانیہ کے معروف وکیلوں اور قانون سازی کے ماہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ اپنی بہن کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ رات کے کھانے میں کچھ مہمان بھی شامل تھے جن میں ایک ونگ فیلڈ بھی تھی جو مارشل ہال کی دوست تھی۔ وہ بہت پڑھی لکھی خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ آٹو میٹک رائٹنگ میں بھی بہت مہارت رکھتی تھی۔ مہمانوں نے اس سے کہا کہ کیا وہ اپنی صلاحیت کا کوئی نمونہ پیش کرسکتی ہے۔ اس نے ابتدائی طور پر انکار کیا لیکن جب مارشل ہال نے اصرار کیا تو وہ رضامند ہوگئی۔ مارشل ہال نے اپنے بریف کیس میں سے ایک خط نکالا جو دو ایک روز پہلے ہی اسے افریقہ سے آیا تھا۔ اس نے خط کو ایک لفافے میں بند کرکے ونگ فیلڈ کو دیا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ بتا سکتی ہے کہ یہ خط اسے کہاں سے آیا تھا۔
ونگ فیلڈ نے وہ لفافہ ہاتھ میں پکڑا اور کچھ دیر اپنے دماغ پر زور دے کر سوچا۔ پھر اس نے قلم ہاتھ میں پکڑا اور لکھا کہ اس خط کو لکھنے والا شخص مرچکا ہے۔ یہ بات سچ تھی۔ اور اس کا علم مارشل ہال کو بھی کچھ ہی دیر پہلے اپنے ایک دوست کے ٹیلی فون سے ہوا تھا لیکن ونگ فیلڈ کی تحریر اس مقام پر آکر رکی نہیں بلکہ قلم چلتا گیا۔ اس طور پر جو تحریر لکھی گئی اس کے مطابق خط جنوبی افریقہ سے بھیجا گیا تھا۔ ایک بات جو مارشل ہال نے اپنی بہن کو بھی نہیں بتائی تھی‘ وہ یہ تھی کہ یہ خط افریقہ سے مارشل ہال کے چھوٹے بھائی نے اسے بھیجا تھا۔ چوں کہ اپنے بھائی کی موت کا علم مارشل ہال کو خود ابھی کچھ دیر پہلے ہوا تھا اس لیے وہ اسے اپنی بہن کو نہیں بتا سکا تھا اور یوں بھی وہ اس موقع پر جب کہ گھر میں دعوت چل رہی تھی کہ وہ اتنے مہمانوں کے سامنے اپنی بہن کو یہ خبر سنا کر دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا اور سوچ رہا تھا کہ دعوت کے اختتام پر وہ بہن کو اس بارے میں بتائے گا۔
مرے ہوئے افراد سے آٹومیٹک رائٹنگ کے ذریعے رابطہ کرنے کا ایک واقعہ گلاسٹن بری ایبے کی دریافت کی صورت میں رونما ہوا اور اس نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ گلاسٹن بری ایک بڑے رقبے پر پھیلی خانقاہ تھی جس کے احاطے میں بہت سے گرجا گھر اور دیگر عمارات تھیں۔ گلاسٹن بری کی خانقاہ کی تعمیر پانچویں صدی عیسوی میں ہوئی تھی۔ اسی خانقاہ میں معروف اسطوریاتی بادشاہ آرتھر کا مقبرہ بھی تھا اور ایسے گرجا گھر بھی تھے جہاں ایک روایت کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام دو مرتبہ تشریف لائے تھے۔ عیسائیوں کے لیے اس خانقاہ کی بہت اہمیت تھی۔ لیکن انیسویں صدی کے پہلے نصف میں جب اصلاحی تحریکوں نے فروع پایا تو بادشاہ ہنری ہشتم کے حکم سے گلاسٹن بری کے آخری منتظم پادری کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس خانقاہ میں موجود دولت کو لوٹ لیا گیا اور اس سے ملحق تمام عمارات کو تباہ کردیا گیا۔ اس کے بعد کسی بھی حکومت نے اس خانقاہ کو ازسر نو تعمیر کروانے کی کوشش نہیں کی اور اس کے کھنڈرات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گھانس پھونس اور مٹی کے تودوں میں دب کر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
1907ء میں حالات پھر سے بدلے اور چرچ آف انگلینڈ نے اس خانقاہ کے کھنڈرات کو خرید لیا تاکہ اسے دوبارہ سے تعمیر کروایا جائے اور عیسائیوں کی مقدس زیارات کو بحال کیا جائے۔ لیکن کھنڈرات سے اندازہ نہیں ہوپاتا تھا کہ کون سی عمارت کس مقام پر موجود تھی اور یہ کہ وہ جگہ کون سی تھی جہاں حضرت عیسی علیہ السلام اپنی زندگی میں دو بار تشریف لائے تھے۔ نہ ہی بادشاہ آرتھر کے مقبرے کا ہی کچھ علم ہو پا رہا تھا۔ اس معمے کو حل کرنے کے لیے قدیم عمارات کے ماہر فریڈرک بانڈ کی خدمات حاصل کی گئیں اور اسے کہا گیا کہ ایک تو وہ ان کھنڈرات میں موجود مخصوص مقامات کی نشاندہی کرے اور دوم انہیں پرانی طرز پر ازسر نو تعمیر کرے۔ دوسرے کام کی اسے مہارت تھی لیکن پہلا کام اس کے بس کا نہیں تھا کیوں کہ کھنڈرات سے متعلق کوئی نقشہ کہیں سے دریافت نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس خانقاہ کی کوئی پرانی تصویر ہی موجود تھی کہ جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ کون سا مقام کہاں واقع تھا۔ فریڈرک بانڈ کے لیے یہ ایک چیلنج تھا۔ تب اس نے آٹومیٹک رائٹنگ کے ذریعے دنیائے ارواح سے رابطہ کرنے اور وہاں سے راہ نمائی حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے ایک دوست بارٹ لیٹ کی خدمات حاصل کیں جسے آٹومیٹک رائٹنگ میں خاصا تجربہ حاصل تھا۔
فریڈرک بانڈ نے اس حوالے سے ایک کتاب بھی لکھی جس میں اس نے اپنے تجربے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اس کتاب کا نام ’My Encounter with Automatic Writing‘ تھا اور یہ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں شائع ہوئی تھی۔ فریڈرک لکھتا ہے کہ وہ اپنے دوست کے ساتھ اپنے دفتر میں بیٹھ گئے۔ اس کے دوست نے میز پر ایک خالی کاغذ رکھا اور ایک پنسل ہاتھ میں پکڑ لی پھر اس سے کہا کہ وہ اس کے داہنے ہاتھ پر اس طرح ہاتھ رکھ دے۔ یوں آہستہ آہستہ اس کے دوست کے ہاتھ نے حرکت کی اور ایک تحریر لکھی جانے لگی۔ کبھی پنسل سے بس لکیریں ہی کھینچی جاتی تھیں جن کے مطلب کو فریڈرک بانڈ بخوبی سمجھ سکتا تھا کیوں کہ وہ ایک ماہر تعمیرات تھا اور اسے معلوم تھا کہ یہ لکیریں اصل میں گم شدہ خانقاہ کا نقشہ تھیں۔ یوں ہر دفعہ کچھ لکیریں کھینچنے کے بعد قلم پھر سے کچھ تحریر لکھنے لگتا جس میں ان لکیروں کے بارے میں تفصیلات فراہم کی جاتیں جیسے یہی کہ خانقاہ کا یہ مقام فلاں گرجا گھر ہے اور فلاں مقام پر کون سی عمارت واقع تھی۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹہ کی ریاضت کے بعد فریڈرک بانڈ کا ہاتھ خودبخود رک گیا۔ اس ایک ہی کاغذ پر جو کچھ الٹی سیدھی لکیریں اور الفاظ سامنے آئے‘ ان سے فریڈرک نے اپنے مطلب کی بات پالی اور وہ بہت واضح اور حتمی تھی۔ کیوں کہ بعد ازاں اس نے جب کھنڈرات کی کھدائی شروع کی تو وہاں سے ملنے والے اکثر شواہد نے اس نقشے اور تحریر کی تصدیق کی۔ سب سے عجیب بات اس تحریر کے بارے میں یہ تھی کہ اس کے آخر میں ایک نام بھی لکھا گیا تھا جس کا تاریخ میں کوئی حوالہ موجود نہیں تھا‘ یہ جوہانس برائینٹ تھا۔ بعدازاں تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہنری ہفتم کے دور میں یہ اس خانقاہ میں موجود ایک گرجا گھر کا منتظم تھا اور اس خانقاہ کے تباہ کئے جانے سے بہت پہلے 1533ء میں فوت ہوا تھا۔
اس تحریر کی بنیاد پر فریڈرک بانڈ نے بہت کامیابی کے ساتھ خانقاہ کو ازسر نوتعمیر کرکے چرچ آف انگلینڈ کو حیران کردیا۔ تاہم اس نے اگلے دس سال تک کسی کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ اس نے یہ کامیابی کیسے حاصل کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چرچ آف انگلینڈ روحانیت پرستی کا مخالف تھا اور ایسی باتوں کو غیر حقیقی اور بے معنی سمجھتا تھا۔ نیز اگر فریڈرک بانڈ اس تحریر کے بارے میں چرچ آف انگلینڈ کی انتظامیہ کو بتاتا تو ایسا ممکن تھا کہ اسے فاتر العقل تسلیم کرلیا جاتا اور جو شہرت اس نے خانقاہ کی تعمیر سے حاصل کی تھی‘ وہ اس سے محروم کردیا جاتا لیکن اس واقعے کے دس سال بعد اسے ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ خانقاہ تعمیر ہوچکی تھی اور فریڈرک بانڈ کو اپنے حصے کے پیسے بھی مل چکے تھے۔ اسے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تب اس نے ایک کتاب لکھنے کا بیڑہ اٹھایا اور اس خانقاہ سے متعلق اپنے تمام تجربات کو بالتفصیل لکھا ۔
بعدازاں فریڈرک بانڈ نے ایک اور کتاب لکھی جس کا نام ’The Gate of Remembrance ‘ تھا۔ ان کتابوں کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ چرچ آف انگلینڈ کی نظر میں ایک دم سے ملعون شخص قرار پایا جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا تھا کیوں کہ وہ فیصلے صحیح الدماغی سے نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے پاگل پن کو ان کی بنیاد بناتا تھا۔ فریڈرک بانڈ کو اس منصوبے سے علیحدہ کردیا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ آئندہ سے خانقاہ کی تزئین یا مرمت وغیرہ کا کام اسے نہ دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فریڈرک نے انگلستان کو خیر آباد کہہ دیا اور امریکہ میں آکر آباد ہوا۔ فریڈرک بانڈ کے تجربات کے بارے میں عالمی میڈیا میں بہت کچھ لکھا گیا اور اکثر لکھاریوں نے چرچ آف انگلینڈ کے فیصلے کی خوب مذمت کی۔
اس حوالے سے کارل ینگ کا نظریہ قابل غور ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک تو ہر انسان کی انفرادی یادداشت ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تمام انسان ایک اجتماعی یادداشت یا اجتماعی لاشعور میں بھی حصہ دار ہوتے ہیں۔ آٹومیٹک رائٹنگ کے ذریعے اصل میں ہم کسی مردہ شخص کی یادداشت تک نہیں بلکہ اپنے اجتماعی لاشعور تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ دماغ کی ایک نہایت نفیس سرگرمی ہے جس کے لیے ایک نہایت طاقت ور دماغ کی ضرورت ہوتی ہے اور ظاہر ہے ایسا ہر انسان کے ساتھ نہیں ہوتا۔ چند انسان ہی ہوتے ہیں جن کے دماغ ایسے طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ اجتماعی لاشعور تک رسائی حاصل کرلیں۔ فریڈرک بانڈ نے بھی اصل میں اس اجتماعی لاشعور تک رسائی حاصل کی اور ان یادداشتوں کو جان لیا جو راہب جوہانس برائینٹ کی انفرادی یادداشت کا حصہ تھیں۔ اس بات کو فریڈرک بھی تسلیم کرتا ہے اور اسی لیے اس نے اپنی کتاب میں اپنے تجربے کو اپنے وجدان سے تعبیر کیا ہے۔ دماغ کی ایسی اعلیٰ سرگرمی جس کے ذریعے وہ اجتماعی لاشعور تک رسائی پالے‘ وجدان کا نام دیا جا سکتا ہے۔
……خفیہ ہاتھ کی تحریریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































