جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

مفاہمتی سیاست

datetime 7  ستمبر‬‮  2015 |

پاکستان کی موجودہ سیاسی حالات آج اُس ڈگر پر آن پہنچے ہیں جب نوّے کی دہائی میں ہونے والی الزام تراشی کی سیاست پھر سے شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے، بدقسمتی سے اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی ہمارے سیاستدان کچھ سیکھ نہیں سکے اور پھر سے ایک دوسرے کے خلاف زہریلے الزامات اُگلنے شروع کردیئے ہیں۔حالیہ الزامی سیاسی دنگل کا آغاز کراچی میں ہونے والی گرفتاریوں کے بعد ہوا ہے، جب پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ رینجرز نے کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کے خلاف بھی کرپشن کرنے پر گھیرا تنگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی جوتشیوں کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ رینجرز سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے خلاف بھی کارروائی کرے۔پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اپنے خلاف تمام مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری لے لی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بھی گرفتاری سے خوفزدہ ہیں۔صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ متحدہ قومی موومنٹ بھی کراچی میں ہونے والے آپریشن کی وجہ سے حکومت سے سخت نالاں ہے اور صوبائی اسمبلی سمیت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے احتجاجا مستعفی ہوچکی ہے۔تحریک انصاف تو اس جمہوری حکومت کی پیدائش سے ہی مخالف ہے او دن کا دھرنہ دینے اور جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد بھی سکون سے نہیں بیٹھی۔ خوش قسمتی کہیں تحریک انصاف کی یا بدقسمتی کہیں نواز لیگ کی۔ الیکشن ٹربیونلز کے چار میں سے تین فیصلے تحریک انصاف کے حق میں آنے کے بعد عمران خان کی دم توڑتی سیاست دوبارہ سے زندہ ہوگئی ہے۔حالیہ سیاسی پیشرفتوں کے بعد نواز لیگ کی حکومت کے مشکل دن شروع ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور اس کی وجہ بڑی اپوزیشن جماعتوں کی ناراضگی ہے۔ ابھی تک ان جماعتوں کی جانب سے مشترکہ لائحہ عمل تو سامنے نہیں آیا مگر ان تمام جماعتوں کا حدف یقینی طور پر حکومت ہے۔تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران بھی حکومت کو مشکل حالات کا سامنا تھا مگر اس وقت تمام پارلیمانی جماعتیں حکومت کے ساتھ تھیں۔ مگر اب حکومت اس سیاسی دلدل میں اکیلے ہی دھنستی نظر آرہی ہے۔حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی کا بنے والا محاز ویسے تو تحریک انصاف کے مطالبے کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے، جس کے تحت پیپلز پارٹی چاروں صوبائی ممبرز الیکشن کمیشن کو مستعفی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، مگر حقیقت میں پیپلز پارٹی، حالیہ دنوں میں ہونے والی گرفتاریوں اور مستقبل میں ہونے والی ممکنہ گرفتاریوں سے بچنے کے لئے یہ سیاسی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔متحدہ کراچی میں ہونے والے آپریشن اور لندن میں چلنے والے مقدموں کی تحقیقات کے سلسلے میں حکومتی مدد ناملنے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ کے ٹھکانوں پر پڑنے والے رینجرز کے چھاپے اور گرفتاریاں بھی مستعفی ہونے کی وجہ ہیں۔ سندھ میں ہونے والے آپریشنز کے ظاہری کپتان وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ ہیں۔ جو کہ ایکشن ہونے کے بعد ری ایکشن دیتے ہوئے سر پیٹتے دکھائی دیتے ہیں۔پیپلز پارٹی اور متحدہ دیکھنے میں تو احتجاج حکومت کے خلاف کر رہی ہیں، مگر حقیقت میں جو قوتیں ان آپریشنز کے پیچھے ہے، دونوں جماعتیں ہی اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتیں۔ دونوں جماعتیں ہی جانتی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کراچی میں امن لانے اور کرپشن ختم کرنے کی ٹھان لی ہے، مگر دونوں ہی بے بس ہو کر بے بس حکومت کو بلیک میل کر رہی ہیں۔اسٹیبلشمنٹ بھی چالاکی سے کام لیتے ہوئے حکومت کو استعمال کر رہی ہے اور حکومت ظاہری آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے، ایسے حالات میں سندھ رینجرز کی جانب سے لئے گئے کسی بھی ایکشن پر حکومت باآسانی اپنا کندھا یہ کہہ کر جھاڑ لیتی ہے کہ کراچی آپریشن کے کپتان تو قائم علی شاہ ہیں۔سمانیوزکے صحافی نویدنسیم کے مطابق اس کے علاوہ میڈیا میں آنے والی اطلاعات اور کراچی کے لوگوں کے بقول کراچی میں حالات بہت تیزی سے بہتر ہورہے ہیں، ایسے میں پیپلز پارٹی یا متحدہ کس منہ سے کراچی آپریشن روکنے کا مطالبہ کریں؟۔اطلاعات کے مطابق پنجاب میں بھی کرپشن کرنے والوں کی گرفتاریاں جلد شروع ہونے والی ہیں اور اگر حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے چند وزیر جیل کا مزہ چکھتے ہیں تو یقیناً حکومت بھی کچھ کرنے سے قاصر ہوگی، اس کے علاوہ حکومت بھی اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کا سکون سے بیٹھنے کا مشورہ دیگی۔ایسے حالات میں حکومت کے خلاف بنے والا اتحاد اس بار ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور اس اتحاد کے بنے کی بنیادی وجہ کرپشن کے خلاف آپریشن ہوگا، مگر یہ اپوزیشن اتحاد حکومت کو دیگر معاملات پر بلیک میل کرتے ہوئے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی دھمکیاں دیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…