نہیں مرناچاہئے تھاکیونکہ وہ ایک بہترمستقبل کی خاطریہ سب کچھ کررہے تھے ۔اس نے کہاکہ میں صرف کینیڈین حکام کواس کاقصوروارنہیں ٹھہرارہی بلکہ اس کی ذمہ دارپوری دنیاہے ۔
جبکہ بچے کے والد عبداللہ کردی نے انتہائی غمگین انداز میں بتایاکہ میں نے اپنے بچوں اور بیوی کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک جان سے ہاتھ دھوتے گئے اورمیں نے کشتی چلانے کی کوشش کی لیکن ایک اور اونچی لہر نے اسے الٹا دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ سب کچھ ہوا۔تین سالہ ایلان اپنے پانچ سالہ بھائی گیلپ اور ماں ریحان کے ساتھ ڈوب گئے۔ ان کے والد عبداللہ کردی اس حادثے میں بچ گئے۔ عبداللہ نے سفر سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔عبداللہ کی بہن تیما کردی، جو کینیڈا کے شہر وینکوور میں رہتی ہیں، اس نے بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے میں ان کی مدد کر رہی تھیں۔اورمیں انھیں سپانسر کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہم انھیں وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیںہوسکے اور اسی وجہ سے وہ کشتی میں گئے۔کردی خاندان کے پاس اس لیے بھی کوئی اور راستے نہیں بچا تھا کیونکہ ترکی سے نکلنے کے لیے شامی کرد پناہ گزینوں کو پاسپورٹ درکار ہوتا ہے۔




















































