جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

گریجویٹ معیشت دان جس نے غریب بچوں کی کتابوں کے لئے بھیک مانگی

datetime 25  اگست‬‮  2015 |

زندگی کامطلب یہ نہیں کہ وہ صرف اپنے لئے گزاری جائے بلکہ زندگی کااصل مقصد دوسرے کے کام آناہے اورایسے کام کرنے والے افراد کوانگلیوں پرگناجاسکتاہے جن میں ایک 73سالہ آرسیلواراج بھی ہے ۔سیلواراج جس کاتعلق کرانڈی سے ہے اوروہ بچپن میں پولیو کاشکارہوگیاتھاجس نے اپنی زندگی بھیک مانگ کربسرکی ۔سیلواراج شروع میں کوئی بھیک مانگنے والانہیں تھالیکن اس نے بھیک مانگنااس وقت شروع کی جب اس کو معاشیات میں گریجویشن کے باوجود ملازمت نہ ملی تواس نے 2006میں بھیک مانگناشروع کردی۔سیلواراج نے بھیک مانگنے کاآغازاپنے آبائی علاقے کرونانڈی نگرسے کیا۔شروع میں وہ بھی ایک عام بھیکاری نظرآتاتھالیکن وہ دوسرے بھیکاریوں سے زیادہ بھیک اکٹھی کرلیتاتھا۔اس نے اس خیرات کواکٹھاکیااورایسے بچوں پرخرچ کرناشروع کردی جوکہ تعلیم توحاصل کرناچاہتے تھے لیکن ان کے پاس وسائل نہیں تھے اورنہ ایسے بچوں کے والدین تعلیمی اخراجات برداشت کرسکتے تھے ۔
سیلواراج ایک معیشت دان تھااورجانتاتھاکہ تعلیم کی ایک انسانی زندگی میں کیامقام ہے اورکتنی ضروری ہے ۔اس لئے اس نے خیرات اکٹھی کی اورایسے بچوں کے لئے کتابیںخریدناشروع کردیں جوکہ بہت غریب تھے اورکتابیں نہیں خرید سکتے تھے اورایسے بچوں کے لئے زندگی کوئی آسان نہ تھی ۔سیلواراج جوکہ خودبھی معذورتھالیکن اس نے اپنی معذوری کوایک طرف ڈال دیااوراپنی معذوری کواپنے کام میں آڑے میں نہیں آنے دیا۔اس سے قبل بھی وہ غریب بچوں کی مدد1968تک کرتارہاتھالیکن 2006میں اس نے ایسے بچوں کے لئے بھیک مانگناشروع کردی جب اس کوملازمت کی تلاش کے دوران ہرجگہ سے نوویکسنسی کے بورڈزآویزاںنظرآئے حتی کہ اس کوایک پنکچرلگانے کی دکان پربھی ملازمت نہ مل سکی ۔ملازمت کی تلاش کے دوران اس کو لوگوں کے مختلف رویوں کاسامناکرناپڑالیکن اس نے اب یہ امید باندھ لی کہ اگراس کوکچھ نہیں ملاتوکوئی بات نہیں وہ دوسروں کے کام آئے تویہ بڑی بات ہوگی اورجب اس نے بھیک مانگ کروسائل نہ رکھنے والے بچوں کی امداد کرناشروع کی تواس کوخوشی ملتی تھی ۔چنائے میں ایک ایساطالب علم بھی تھاجس کوسیلواراج ماہانہ پانچ سوروپے بھیجتاتھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…