اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یہ بات 27 سال پہلے کی ہے۔ کشمیر کے بھاڈی پورہ کے 70 سال کے محمد سبحان وانی کو سرکاری سکول میں 25 روپے تنخواہ پر خاکروب اور چوکیدار کی نوکری ملی تھی۔ دہائیوں بعد جب وہ ریٹائر ہوئے تب بھی ان کی تنخواہ 25 روپے تھی۔یہی نہیں، بلکہ 2005 میں جب سبحان وانی ریٹائر ہوئے اور ان کی جگہ ان کے بیٹے کو نوکری پر رکھا گیا تو اس کی تنخواہ بھی 25 روپے ہی طے ہوئی۔سبحان کا غم صرف یہی نہیں۔ انھوں نے کام اور معاوضے کے وعدے پر سکول کے لیے زمین دی تھی۔ معاوضہ سرکاری کاغذوں میں کہیں گم ہو گیا اور ان کی تنخواہ بس خاندان میں ہنسی مذاق کا موضوع ہے۔یہ پورا معاملہ سال 88-1987 میں شروع ہوا۔ اس وقت کے ذونل تعلیم افسر شیلا ٹنے محمد سبحان سے کہا تھا کہ وہ حکومت کو سکول کے لیے اپنی زمین دیں، بدلے میں انھیں نوکری دی جائے گی اور زمین کا معاوضہ تو ملے گا ہی۔سبحان وانی کہتے ہیں ’1988 میں مجھے کام دینے کا آرڈر دیا گیا جس کے مطابق میری تنخواہ ہر ماہ 25 روپیہ مقرر کی گئی۔ انھوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ اگر میں اپنی زمین سکول کے لیے دے دوں تو حکومت آنے والے دنوں میں میری تنخواہ بڑھائے گی۔‘’لیکن اس وقت سے لے کر آج تک میری تنخواہ نہیں بڑھی۔ وہ استاد بھی ریٹائر ہو گئے جو میرے سامنے اس سکول میں کام کرتے تھے۔ میں نے ان 25 روپے کے پیچھے مر رہا ہوں۔‘ان کا کہنا ہے کہ جو زمین انھوں نے سکول کے لیے دی تھی اس پر ان کے اخروٹ کے درخت تھے جن کو کاٹے جانے سے ان سے بڑا نقصان ہوا۔’ہر سال ہزاروں کی کمائی ہوتی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گا۔‘سبحان نے عدالت کا بھی رخ کیا تھا لیکن ان کے پاس کیس لڑنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔اس کا اثر سبحان کے خاندان کی زندگی پر بھی پڑا۔وہ کہتے ہیں ’پڑھا لکھا نہ ہونے کی وجہ سے مجھے پتہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔ میرے بچے بھی مجھ سے بہت ناراض ہیں۔ بچوں کو باپ سے امید ہوتی ہے کہ باپ بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ بچا کے رکھیں گے لیکن میرے پاس تو وہی 25 روپے ہیں۔ میں وہ کس کس کو دوں؟‘سبحان کے بیٹے ممتاز احمد کا کہنا ہے کہ ان کو گذشتہ دو سال سے 25 روپے کی وہ تنخواہ بھی نہیں ملی ہے۔یہ سکیم ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں چوتھی قسم میں نوکری دی جاتی ہے یعنی جنہوں نے آٹھویں جماعت پاس کی ہو۔ ان سیدھے سادھے اور ان پڑھ لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور یہ بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔ 25 روپے کی تنخواہ تو ایک مذاق ہے۔ضلع بھاڈی پورہ کے تعلیم کے افسر عبدالحمید نے یہ معاملہ صرف ان کا نہیں ہے بلکہ ان کے زون میں ایسے 200 لوگ ہیں جو سالوں سے 25 روپے کی تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔عبدالحمید کہتے ہیں ’یہ سکیم ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں چوتھی قسم میں نوکری دی جاتی ہے یعنی جنہوں نے آٹھویں جماعت پاس کی ہو۔ رہی بات معاوضے کی تو ان کے پاس معاہدہ ہے تو ہم اس کو دیکھیں گے۔’اگر محمد سبحان کی تنخواہ بڑھ گئی ہوتی تو اس وقت ان کی تنخواہ کم از کم 12 ہزار روپے ہوتی۔لیکن سبحان تو اپنی تنخواہ اور زمین کا معاوضہ حاصل کرنے کے لیے گذشتہ 28 سالوں سے سرکاری دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ہر بار یہی سن رہے ہیں کہ اس دفتر میں نہیں اس دفتر میں جاو¿۔اور ان کے 25 روپے کی تنخواہ میں تو اب ادویات بھی نہیں آتیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت





















































