جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

انگلینڈ میں ’الیکٹرک موٹر ویز‘ کا منصوبہ

datetime 13  اگست‬‮  2015 |

اگر ہائی ویز انگلینڈ کی جانب سے پیش کیے ایک منصوبے پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو انگلینڈ میں گاڑی چلانے والے افراد سفر کے دوران اپنی گاڑیاں ری چارج کر سکیں گے۔
حکومتی ادارے ہائی ویز انگلینڈ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے وہ وائرلیس پاور ٹرانسفر ٹیک کا تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ اسے ملک کی موٹرویز اور بڑی شاہراہوں پر زیر زمین نصب کریں گے۔تاہم ایک ماہر اس بارے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ منصوبہ ثمرآور ہو سکتا ہے؟’چارج ایز یو ڈرائیو‘ ٹیکنالوجی، یعنی گاڑی چلنے کے ساتھ ساتھ اس کے چارج ہونے کی تکنیک اس سے پہلے کہیں اور بھی استعمال میں لائی جا چکی ہے۔بی بی سی کے مطابق سنہ 2013 میں جنوبی کویا کے شہر گومی میں 12 کلو میٹر طویل روٹ پر بسوں کو یہ سہولت دی گئی تھی وہ اس سڑک پر سفر کے دوران بسوں کو چارج کر سکیں۔یہ کام شیپڈ میگنیٹک فیلڈ ان ریزوننس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
11
جنوبی کویا کے شہر گومی میں بسوں کو یہ سہولت دی گئی تھی وہ سڑک پر سفر کے دوران بسوں کو چارج کر سکیں
سڑک کے نیچے بجلی کی تاریں برقی مقناطیسی میدان پیدا کرنے کا کام دیتی ہیں، جنھیں ایک آلے میں نصب کوائل حاصل کرتا ہے اور انھیں بجلی میں تبدیل کرتا ہے۔
گذشتہ برس انگلینڈ کے قصبے ملٹن کینز میں اسی طرح کا ایک چھوٹے پیمانے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جس میں بسوں کو سڑک کے اندر نصب پلیٹوں کے ذریعے بغیر کسی تار کے بغیر ری چارج کیا جا سکتا تھا۔تاہم اس منصوبے میں گاڑیوں کو توانائی کے حصول کے لیے کچھ منٹ انتظار کرتا پڑتا تھا۔ہائی ویز انگلینڈ کے ترجمان سٹوارٹ ٹامپسن نے بی بی سی کو بتایا: ’اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم سنہ 2016 یا 2017 میں آف روڈ تجربات کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں ایسی سڑک پر جو عوام کے استعمال میں نہ ہو۔‘’ابھی بالکل ابتدا ہے۔ یہ تجربات کہاں کیے جائیں گے اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔‘ہائی ویز انگلینڈ کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹرز کی تعیناتی کے بعد اس حوالے سے تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔عوامی سڑک پر اس کو لانے کے کا فیصلہ 18 مہینے تجربات کرنے کے بعد کیا جائے گا۔
12
ہائی ویز انگلینڈ کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹرز کی تعیناتی کے بعد اس بارے میں تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی
ٹرانسپورٹ کے وزیر اینڈریو جونز کہتے ہیں: ’چھوٹی گاڑیوں کو چلتے ہوئے ری چارج کرنے کی استعداد حیرت انگیز امکانات ظاہر کرتی ہے۔‘وہ کہتے ہیں: ’جیسا کہ تحقیق ظاہر کرتی ہے، ہم سفر کی بہتری اور کاروباری و نجی استعمال کے لیے چھوٹی گاڑیوں کے حوالے سے مزید ممکنات کی کھوج لگا سکتے ہیں۔‘تاہم کارڈف بزنس سکول کے الیکٹرک ویئکل سینٹر آف ایکسیلنس کے ڈائریکٹر اس منصوبے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ڈاکٹر ہاک نیووینہیئس کہتے ہیں: ’اس بارے میں کوشش کرنا قابل فہم ہے، اور ٹیکنالوجی واقعی کام کرتی ہے۔ لیکن مجھے یہ بہت زیادہ جرات مندانہ کام محسوس ہوتا ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ ٹیزلا (گاڑیوں کی کمپنی) نے گذشتہ چند برسوں میں کیا حاصل کیا ہے، وہ ہر چھ ماہ بعد بیٹری کی مسافت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ چنانچہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔‘اگر یہ منصوبہ بالآخر نتیجہ خیر ثابت نہیں ہوتا تب بھی ہائی ویز انگلینڈ کے موٹروے نیٹ ورک پر 20 منٹ کی مسافت پر پلگ ان چارجنگ پوائنٹ کی تنصیب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…