اگر ہائی ویز انگلینڈ کی جانب سے پیش کیے ایک منصوبے پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو انگلینڈ میں گاڑی چلانے والے افراد سفر کے دوران اپنی گاڑیاں ری چارج کر سکیں گے۔
حکومتی ادارے ہائی ویز انگلینڈ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے وہ وائرلیس پاور ٹرانسفر ٹیک کا تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ اسے ملک کی موٹرویز اور بڑی شاہراہوں پر زیر زمین نصب کریں گے۔تاہم ایک ماہر اس بارے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ منصوبہ ثمرآور ہو سکتا ہے؟’چارج ایز یو ڈرائیو‘ ٹیکنالوجی، یعنی گاڑی چلنے کے ساتھ ساتھ اس کے چارج ہونے کی تکنیک اس سے پہلے کہیں اور بھی استعمال میں لائی جا چکی ہے۔بی بی سی کے مطابق سنہ 2013 میں جنوبی کویا کے شہر گومی میں 12 کلو میٹر طویل روٹ پر بسوں کو یہ سہولت دی گئی تھی وہ اس سڑک پر سفر کے دوران بسوں کو چارج کر سکیں۔یہ کام شیپڈ میگنیٹک فیلڈ ان ریزوننس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

جنوبی کویا کے شہر گومی میں بسوں کو یہ سہولت دی گئی تھی وہ سڑک پر سفر کے دوران بسوں کو چارج کر سکیں
سڑک کے نیچے بجلی کی تاریں برقی مقناطیسی میدان پیدا کرنے کا کام دیتی ہیں، جنھیں ایک آلے میں نصب کوائل حاصل کرتا ہے اور انھیں بجلی میں تبدیل کرتا ہے۔
گذشتہ برس انگلینڈ کے قصبے ملٹن کینز میں اسی طرح کا ایک چھوٹے پیمانے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جس میں بسوں کو سڑک کے اندر نصب پلیٹوں کے ذریعے بغیر کسی تار کے بغیر ری چارج کیا جا سکتا تھا۔تاہم اس منصوبے میں گاڑیوں کو توانائی کے حصول کے لیے کچھ منٹ انتظار کرتا پڑتا تھا۔ہائی ویز انگلینڈ کے ترجمان سٹوارٹ ٹامپسن نے بی بی سی کو بتایا: ’اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم سنہ 2016 یا 2017 میں آف روڈ تجربات کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں ایسی سڑک پر جو عوام کے استعمال میں نہ ہو۔‘’ابھی بالکل ابتدا ہے۔ یہ تجربات کہاں کیے جائیں گے اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔‘ہائی ویز انگلینڈ کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹرز کی تعیناتی کے بعد اس حوالے سے تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔عوامی سڑک پر اس کو لانے کے کا فیصلہ 18 مہینے تجربات کرنے کے بعد کیا جائے گا۔

ہائی ویز انگلینڈ کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹرز کی تعیناتی کے بعد اس بارے میں تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی
ٹرانسپورٹ کے وزیر اینڈریو جونز کہتے ہیں: ’چھوٹی گاڑیوں کو چلتے ہوئے ری چارج کرنے کی استعداد حیرت انگیز امکانات ظاہر کرتی ہے۔‘وہ کہتے ہیں: ’جیسا کہ تحقیق ظاہر کرتی ہے، ہم سفر کی بہتری اور کاروباری و نجی استعمال کے لیے چھوٹی گاڑیوں کے حوالے سے مزید ممکنات کی کھوج لگا سکتے ہیں۔‘تاہم کارڈف بزنس سکول کے الیکٹرک ویئکل سینٹر آف ایکسیلنس کے ڈائریکٹر اس منصوبے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ڈاکٹر ہاک نیووینہیئس کہتے ہیں: ’اس بارے میں کوشش کرنا قابل فہم ہے، اور ٹیکنالوجی واقعی کام کرتی ہے۔ لیکن مجھے یہ بہت زیادہ جرات مندانہ کام محسوس ہوتا ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ ٹیزلا (گاڑیوں کی کمپنی) نے گذشتہ چند برسوں میں کیا حاصل کیا ہے، وہ ہر چھ ماہ بعد بیٹری کی مسافت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ چنانچہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔‘اگر یہ منصوبہ بالآخر نتیجہ خیر ثابت نہیں ہوتا تب بھی ہائی ویز انگلینڈ کے موٹروے نیٹ ورک پر 20 منٹ کی مسافت پر پلگ ان چارجنگ پوائنٹ کی تنصیب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انگلینڈ میں ’الیکٹرک موٹر ویز‘ کا منصوبہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































