امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلائی جہاز نیو ہورائزنز سے حاصل ہونے والی پلوٹو کی جو پہلی تصاویر جاری کی ہیں ان سے پتہ چلا ہے کہ اس سیارے پر شمالی امریکہ کے پہاڑی سلسلے راکیز جتنے بلند برفانی پہاڑ موجود ہیں۔سائنسدانوں کی ٹیم نے پلوٹو پر دل کے نشان والے علاقے کو کلائیڈ ٹومبا کا نام دیا ہے۔ کلائیڈ نے سنہ 1930 میں پلوٹو کو دریافت کیا تھا۔نیو ہورائزنز منگل کو پلوٹو کے قریب سے گذرا تھا اور اس وقت اس کا پلوٹو سے فاصلہ صرف ساڑھے 12 ہزار کلومیٹر تھا۔اس خلائی جہاز نے پلوٹو کےبارے میں بہت زیادہ ڈیٹا بھیجا ہے جس میں سے کچھ تصاویر جاری کی گئی ہیں۔اس مشن کے سائنسدان جان سپینسر نے صحافیوں کو بتایا پلوٹو کی سطح پر قریب سے لی گئی پہلی تصاویر میں دکھائی دیتا ہے کہ گذشتہ 100 ملین سالوں کے دوران آتش فشانی جیسے ارضیاتی عمل کے نتیجے میں زمینی سلسلہ نمودار ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’اس تصویر میں ہمیں ایک بھی گڑھا نظر نہیں آیا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سلسلہ بہت زیادہ پرانا نہیں ہے۔‘
مشن کے چیف سائنسدان ایلن سٹرن کا کہنا تھا کہ اب ہمارے پاس ایک الگ دنیا میں چھوٹے سیارے کی معلومات ہیں جو ساڑھے چار ارب برسوں کے بعد کی سرگرمی کو ظاہر کرتا ہے۔ایلن سٹرن نے کہا کہ اس دریافت سے سائنسدان پلوٹو کا ازسرِ نو جائزہ لیں گے۔پلوٹو کی سطح پر قریب سے لی گئی پہلی تصاویر میں دکھائی دیتا ہے کہ گذشتہ 100 ملین سالوں کے دوران آتش فشانی جیسے ارضیاتی عمل کے نتیجے میں زمینی سلسلہ نمودار ہوا ہے۔ اس تصویر میں ہمیں ایک بھی گڑھا نظر نہیں آیا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سلسلہ بہت زیادہ پرانا نہیں ہے۔
سائنسدان جان سپینسرانھوں نے کہا کہ تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ پلوٹو میں دل کی شکل کا علاقہ ہے اور اس کے کنارے پر 11,000 فِٹ اونچا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جس کا موازنہ سائنسدانوں نے شمالی امریکہ کے پہاڑی سلسلے راکیز سے کیا ہے۔جان سپینسر کے مطابق پلوٹو پر میتھین، کاربن مونو آکسائیڈ اور نائٹروجن والی برف کی ایک دبیز تہہ ہے جو اتنی مضبوط نہیں کہ اس سے پہاڑی سلسلہ بن سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پلوٹو کے درجۂ حرارت پر برفیلا پانی بڑے پہاڑوں کو سہارا دے سکتا ہے۔پلوٹوکی نئی تصویر سے پتہ چلتا ہے اس پر چار سے چھ میل لمبا ایک شگاف ہے جو اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ وہاں پہاڑی سلسلہ متحرک ہے۔نیو ہورائزنز منگل 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11:50 پر اس سیارے کے قریب ترین پہنچا اور اس کا پلوٹو سے فاصلہ صرف 12,500 کلومیٹر تھا۔پلوٹو کے قریب سے 14 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گزرتے ہوئے نیو ہورائزنز نے سیارے کی تفصیلی تصاویر کھینچیں اور اس کے بارے میں دیگر سائنسی معلومات اکٹھی کیں۔نیو ہورائزنز کا 2370 کلومیٹر چوڑے پلوٹو کے قریب سے گزرنا خلا کو جاننے کی تاریخ کا انتہائی اہم لمحہ ہے۔
اس کامیابی کے نتیجے میں عطارد سے لے کر پلوٹو تک نظامِ شمسی کے تمام نو کلاسیکی سیاروں تک کم از کم ایک خلائی سفر کا عمل مکمل ہو گیا ہے
پلوٹو پر بلندوبالا برفانی پہاڑوں کی موجودگی کا انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































