جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

جادو ٹونے میں ملوث ہونے کے شبے میں خاندان کا قتل

datetime 10  جولائی  2015 |

ایک بھارتی گاؤں میں مشتعل افراد نے جادو ٹونے کرنے والے ایک خاندان کے چھ افراد کو قتل کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولین میں میاں بیوی اور اُن کے چار بچے شامل ہیں۔قاتل گاؤں لہانڑا سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔چھ افراد کے قتل کا لرزہ خیز واقعہ مشرقی بھارتی ریاست اُڑیسہ کے ضلعے کیئونجار کے ایک گاؤں لہانڑا میں پیش آیا۔ گاؤں کے پانچ مشتعل افراد کلہاڑوں کے ساتھ جادو ٹونے کرنے والے اس شخص کے گھر کے باہری دروازے کو توڑ کر داخل ہوئے۔ مقتول گاؤں سے باہر مٹی سے بنائے گئے جھونپڑی نما گھر میں رہتا تھا۔ جادو اور منتر کرنے والا مبینہ مقتول قاتلوں سے رشتہ داری بھی رکھتا تھا۔ اُسے سوتے ہوئے بقیہ افراد کے ہمراہ قتل کیا گیا۔مشتبہ قاتل، مقتول پر الزامات لگایا کرتے تھے کہ اس کے جادو ٹونےکی وجہ سے گاؤں کے بچے مسلسل بیمار رہتے تھے۔ قتل کی واردات کے دوران مقتول کے دو بچے کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے پولیس کو اِس وقوعے کا بتایا۔ علاقے کی پولیس کی سربراہ کویتا جَلن نے تصدیق کی ہے کہ بچ جانے والے بچوں کی اطلاع پر قتل کی اِس واردات کے بارے پولیس آگاہ ہوئی۔ پولیس نے پیر کی صبح میں خون میں لتھڑی ہوئی نعشوں کو اپنے قبضے میں لیا۔ قتل کی واردات میں استعمال ہونے والا ایک کلہاڑا مقتول کی جھونپڑی سے پولیس کو دستیاب ہوا۔پولیس نے مقتولین کے خون میں سے ایک آٹھ سالہ بچے کو زندہ بچا کر ہسپتال پہنچا دیا ہے۔ پولیس نے مبینہ قاتلوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ تمام قاتل گاؤں لہانڑا سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اُدھر اُڑیسہ ریاست کے ضلع ریاگاڑا میں بھی پولیس کو ایک شخص کی کچلی ہوئی لاش ملی ہے، جو جادو وغیرہ میں عملی طور پر ملوث تھا۔ بھارت میں جادو اور جنتر منتر کرنے والے عام ہیں اور اُن کی ہلاکتوں کا سلسلہ بھی سرکاری ڈیٹا میں موجود ہے۔
بھارت میں جادو ٹونے کی پریکٹس کے خلافِ قانون قرار دی جا چکی ہے۔ مختلف چیرٹی ورکرز اور غیر سرکاری تنظیموں کے کارکن کئی قبائلیوں میں جن، بھوت اور چڑیلوں کے بارے میں پائے جانے والے رویوں کی نفی کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ بھی اپنی ایجوکیشن اور اقتصادی پلاننگ میں اِن رویوں کو زائل کرنے کی خصوصی منصوبہ بندی کرے۔ ان قبائلیوں میں تعلیم عام کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ قبائلی علاقوں کے لوگ خاصے توہم پرستی کا شکار ہیں۔ تقریباً بیشتر علاقہ حکام نے نظرانداز کر رکھا ہے اور ماؤ نوازوں کی مسلح کارروائیوں نے عام لوگوں کی پریشانیوں کو دوچند کر دیا ہوا ہے۔ ایک سماجی تحریک اڑیسہ ریشنلسٹ سوسائٹی کے سیکرٹری دیبیندر سُوتر کا کہنا ہے کہ جب تک قبائلی علاقوں میں بنیادی ضروریات دستیاب نہیں ہوتی تب تک توہم پرستی کے رجحان پر قابُو نہیں پایا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…