جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

سیاسی پناہ کے متلاشیوں کیلئے اچھی خبر… امیگریشن قوانین … ڈاکٹر ملک کے ساتھ

datetime 4  جولائی  2015 |

گذشتہ ہفتے برطانیہ میں آنے والے سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو ایک اچھی خبر ملی جس کے نتیجہ میں نظربند اورملک بدری کا سامنا کرنے والے سیکڑوں اسائلم سیکرز ضمانت پر رہا ہو سکیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ا سائلم کا اسلامی تاریخ سے بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ حضور اکرمؐ نے جب اسلام کی تبلیغ شروع کی تو نہ صرف ان کو بلکہ ان کے صحابہ کو بھی ناقابل برداشت تکالیف اور ظلم کا سامناکرنا پڑا۔ اسلام قبول کرنے والوں کی ایک بڑی اکثریت کا تعلق نچلے طبقہ سے تھا جن میں کہ غلام اور کنیزیں بھی شامل تھیں۔ جب ان لوگوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے مالکوں نے ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھانے شروع کردیئے۔ حضورؐ کے خوددانت شہید کردیئے گئے اور صحابہ کرام ؓ کی زندگی بھی اجیرن کردی گئی۔ ایک صحابیؓ کے مطابق اس کا مالک اس کو جلتے ہوئے انگاروں پر لٹا کر اوپر پتھر رکھ دیتا تھا حتیٰ کہ ان کے جسم کی چربی پگلنے سے انگارے بجھ جاتے تھے۔ حضورؓ کے خاندان کو خود عرصہ تک ایک گھاٹی میں رہنا پڑا۔انہی حالات کے پیش نظر حضورؓ کو مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔ ملکہ مکرمہ میں جب حالات نو مسلموں کے لئے دگرگوں ہوگئے تو حضور ؓ نے صحابہ کرام ؓ کو اسائلم کے لئے دوسرے ممالک جانے کی اجازت دے دی۔ اس طرح حضور ؓ کے کزن حضرت جعفر ؓ کی قیادت میں صحابہ کرام کا ایک گروپ قریبی ملک حبشہ کی جانب ہجرت کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔ قریش مکہ نے وہاں تک ان کا تعاقب گیا اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی سے ان صحابہ کرام کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ نجاشی جو کہ ایک انصاف پسند حکمران تھا، نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں طلب کیا تاکہ ان کا موقف سننے کے بعد ان کی واپسی یا ملک بدری کے بارےمیں فیصلہ کیا جائے۔ اس موقع پر حضرت جعفر ؓ نے جو تقریر کی اس کو پیش نظر رکھ کر اقوام متحدہ نے سیاسی پناہ یا اسائلم کا قانون بنایا ہے۔ حضرت جعفر ؓ کا موقف سننے کے بعد نجاشی نے مسلمانوں کو پناہ دے دی اور اس طرح ان کو ’’اسائلم‘‘ مل گئی۔ یہ سلسلہ نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا میں چلتا رہا۔ لوگ اپنے مذہبی یا سیاسی نظریات کی بنیاد پر اگر اپنے ملک میں جبر و استبداد کا سامنے کرنے پر مجبور ہوتے تو دوسرے ممالک یا ان کے حکمران ان کو اسائلم دے دیتے۔ یہ سلسلہ محض انسانی حقوق یا انسانیت کی بنیاد پر چلتا رہا لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ یہ متعلقہ ملک یا اس کے حکمران کی صدابدید پر ہوتا تھا کہ وہ سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو اسائلم دے یا انکار کردے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اس طرح کے حالات رونما ہوتے رہے کہ وہاں کے لوگوں کو اسائلم کا مستحق گردانا جانے لگا۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل جرمنی میں ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا۔ ان کو محض ان کے مذہب کی بنیاد پر بے دردی سے قتل کیا جانے لگا۔ لاکھوں کی تعدادمیں یہودی قتل کردیئے گئے باقی ماندہ دوسرے ممالک میں بھاگ جانے اوروہاں اسائلم طلب کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان حالات کے پیش اقوام متحدہ نے اس ضمن میں ایک جامع قانون بنانے کا فیصلہ کیا اور بالآخر 1951میں ایک کنونشن کا انعقاد کیا گیا جہاں پر ریفیوجی کنونشن مجریہ 1951 کے نام سے ایک قانون بنا دیا گیا ۔ اس قانون پر دنیا کے ’’مہذب‘‘ ممالک نے دستخط کئے جس کے نتیجہ میں یہ تمام ممالک اس بات کے پابند ہوگئے کہ اگر کسی شخص کو اپنے ملک میں مذہب ، نسل، شہریت ، سیاسی ، نظریہ، کسی گروپ میں شمولیت کی وجہ سے جبر و استبداد کا سامنا ہو یا جان کا خطرہ ہو تو وہ ان تمام ممالک جنہوں نے کہ اس کنونشن پر دستخط کئے ہیں، جس سے کسی ایک ملک جاکر وہاں اسائلم کلیم کرسکتا ہے۔ اس کنونشن کے بعد یہ معاملہ خوب اسلوبی سے چلتا رہا۔ برطانیہ میں جب امیگریشن کے نئے قانون کا اطلاق1971 میں کیا گیا۔ اس وقت تک ہر سال تقریباً دو سو لوگ برطانیہ میں اسائلم کے طلب گار ہوتے تھے آہستہ آہستہ یہ خبریں جب ایشیائی اور افرقیی ممالک تک پہنچیں کہ یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں اسائلم کی بنیاد رہنے کی اجازت آسانی سے مل جاتی ہے تولاکھوں کی تعداد میں ’’بہتر مستقبل‘‘ کی تلاش میں لوگوں نے ان ممالک کا رخ کیا۔ برطانیہ میں 1971تک ہر سال تقریباً دو سو لوگ اسائلم کلیم کرتے تھے لیکن 2002تک ان کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار سالانہ سے تجاوز کر گئی۔ جب اس قانون کا بے جا استحصال کیا جانے لگا تو دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح برطانیہ نے بھی اس سلسلہ میں سختی شروع کردی۔ اس ضمن میں ایسے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک ’’فاسٹ ٹریک‘‘ سسٹم بنایا گیا تاکہ بوگس اسائلم سیکرز کے مقدمات کو جلدی سے اور بغیر کسی اپیل کے مسترد کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…