جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

مکھیو باز آجاﺅ

datetime 15  جون‬‮  2015 |

وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کے علاوہ شاید میں اکیلا شخص ہوں جو وزیرِ اعظم نواز شریف کی اس بات سے صد فیصد متفق ہے کہ کراچی میں مکھی بھی مرجائے تو شہر بند ہوجاتا ہے، یہ کوئی اچھی بات نہیں۔کچھ لوگ وزیرِ اعظم کے اس جملے کو کراچی میں مرنے والوں کی توہین قرار دے کر جانے کیوں بات کا بتنگڑ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔دیکھیے یہ برا ماننے کی بات نہیں۔ذرا سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ ہمارے خطے میں مکھیاں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو پھلوں ، پھولوں اور مٹھائی وغیرہ کا رس چوس کے شہد بناتی، کھاتی اور کھلاتی ہیں اور اگر کوئی کم ذات مکھی ان کے چھتے کی جانب آنکھ اٹھا کے بھی دیکھے تو اسے بھی بھنبھوڑ دیتی ہیں۔آپ چاہیں تو انھیں مکھیوں کی اسٹیبلشمنٹ کہہ سکتے ہیں۔ پر ایسا نہیں کہ رس جمع کرنے والی چھتے کی ہر مکھی کا درجہ برابر ہے۔
بس یوں سمجھیے کہ شہد کا چھتہ بالکل ہم جیسے ملکوں کی فوٹو کاپی ہوتا ہے۔ اس میں بے شمار خانے در خانے ہوتے ہیں۔ چھتے کی حکمران نسل در نسل خاندانی ملکہ مکھی ہوتی ہے۔ اس ملکہ کے کارندے مکھے مکھیاں شاہی ہدایات و نگرانی میں چھتہ تعمیر کرتے ہیں اور مسلسل توسیع دیتے ہیں، نظم و نسق چلاتے ہیں اور رس جمع کرنے والی کارکن مکھیوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔لاابالی و غیر ذمہ دار کارکنوں کو چھتہ بدری سمیت جملہ سزائیں بھی دی جاتی ہیں، بیرونی خطرات سے چھتے کا تحفظ کیا جاتا ہے اور اردگرد کی ٹہنیوں اور پتوں پر براجمان شرپسند حشرات پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔مکھیوں کی دوسری قسم وہ ہے

09

جو بکثرت ہونے کے باوجود نسلاً کمتر اور چھوٹے دماغ کا طبقہ ہے۔ اس لیے وہ گندگی، کچرے، فضلے اور صاف غذا میں تمیز سے محروم ہے اور کبھی اگر کسی کھانے یا مٹھائی پر بیٹھ بھی جائے تو اڑا دیا جاتا ہے۔شہد کی منافع بخش مکھیوں کو تو ناز و نعم سے پالا جاتا ہے مگر عام مکھی کا تو ناک پے بیٹھنا بھی برداشت نہیں ہوتا۔دودھ میں گر جائے تو مکھی نکالنے کے بجائے پورا دودھ ہی پھینک دیا جاتا ہے۔ کوئی اس گھٹیا مخلوق کو کھلی کیا بند آنکھوں نگلنے پر بھی تیار نہیں۔ پھر بھی اللہ جانے یہ کیوں پیدا کی گئی اور وہ بھی اتنی زیادہ۔۔آپ خود ہی سوچیے کہ اگر یہ گندگی میں پرورش پانے والی، بیماریاں پھیلانے والی، ناکارہ مکھیاں محض عددی اکثریت کے بل بوتے پر خود کو شہد کی مکھیوں کے ہم پلہ سمجھنے لگیں اور پھر ان کے چھتے کے آس پاس بھی بڑی تعداد میں بھنبھنانا شروع کردیں کہ جسے جانے کتنی محنت سے اشرافیہ مکھیوں نے اشرافیہ مکھیوں کے لئے بنایا تو دل پہ ہاتھ رکھ کے کہیے کہ ایسی ناہنجار مکھیوں کا سوائے اسپرے کیا علاج ؟کیا یہ کافی نہیں کہ ان نیچوں کو اب تک برداشت کیا جارہا ہے۔ انھیں اڑنے ، بھنبھنانے اور مرضی کی غلاظت سےمرضی کی غذا چننے کا اختیار ہے۔ حالانکہ یہ نہ بھی ہوں تب بھی دنیا چلتی رہے گی، شہد بنتا، بٹتا، بکتا رہے گا، چھتہ پھلتا پھولتا رہے گا۔اس لئے اے گھٹیا مکھیو اگر اپنا وجود عزیز ہے تو خود کو چھتے والوں کے برابر سمجھنا چھوڑ دو ورنہ تم سب سے نمٹنے کے لئے چھتے کے چند چھاتہ بردار ہی کافی ہیں۔ تعداد میں بھلے تم کتنی بھی ہو جاو¿ مگر تمھاری مجموعی قیمت شہد کی ایک ادنا مکھی کے برابر بھی نہیں۔ اوقات پہچانو، غلاظت پر جیواور مرتی ہو تو مرو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…