کے الزامات ہیں۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس اور چین کا معلومات حاصل کرنے کا مطلب تھا کہ ’ہمارے کام کے بارے میں علم‘ نے برطانیہ کو ’اہم معلومات‘ تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔ برطانوی حکام کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ ایجنٹس ناصرف اپنی جگہ تبدیل کر چکے تھے بلکہ اب وہ ان جگہوں پر رہ کر کام بھی نہیں کر رہے تھے۔ان کے مطابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ انٹیلی جنس حکام کو بھی اس بارے میں تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی معلومات سے کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اس کے برطانوی عوام کے تحفظ پر کیا اثرات ہوں گے۔سنوڈن نے اگست 2013 میں روس میں پناہ لی تھی ۔سنڈے ٹائمز کے مطابق مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی معلومات کی رسائی روس کو حاصل ہونے کی بعد
’مخالف ممالک‘ سے اپنے ایجنٹس واپس بلانے پر مجبور ہوگئی ہیں۔اخبار کے مطابق سینیئر حکومتی سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چین نے بھی انکرپٹڈ دستاویزات کو کریک کر لیا ہے جس سے کی مدد سے برطانوی اور امریکی جاسوسوں کی شناخت ممکن ہوجائے گی۔سنڈے ٹائمز کی خبر کے شریک لکھاری ٹم شپمین نے بتایا: ’میری معلومات کسی برے کے ہاتھ نہیں لگیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تحکمانہ انداز میں ڈاو¿ننگ سٹریٹ، ہوم آفس، انٹیلی جنس سروسز کے لوگوں نے بتایا ہے کہ روس اور چین کے پاس یہ تمام معلومات ہیں اور اس کے نتیجے میں ہمیں اپنے جاسوسوں کو واپس بلانا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ حکام ایڈورڈ سنوڈن کے معلومات حاصل کرنے پر برہم ہیں۔اخبار میں برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی جی سی ایچ کیو کے سابق ڈائریکٹر سر ڈیوڈ اومنڈ کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کیا ہے کہ روس اور چین کی معلومات تک رسائی ’ایک بہت بڑا سٹریٹیجک دھچکہ‘ ہے جو برطانیہ، امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کو ’نقصان‘ پہنچا رہا ہے۔




















































