جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

نک کی حیرت انگیزکہانی …… یہ کہانی پڑھ کرآپ کویقین ہوجائے گاکہ اس دنیامیں کچھ بھی ممکن ہے

datetime 14  جون‬‮  2015 |

نک وو جائیسک تیس برس قبل آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پیدا ہوا‘ نک کی پیدائش اس کے والدین کیلئے کسی صدمے سے کم نہ تھی کیونکہ وہ پیدا ہوتے ہی ایک عجیب و غریب معذوری کا شکار تھا‘ کندھوں کے قریب سے اس کے دونوں بازو غائب تھے جبکہ ٹانگوں کی جگہ دو انگلیوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا پاؤں بائیں کولہے سے باہر کی جانب نکلا ہوا تھا۔ اس حیران کن معذوری کو’ٹیٹرا امیلیا ڈس آرڈر‘ کہا جاتا ہے۔ ابھی تک اس معذوری کی کوئی بھی طبی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ نک کے والدین نے اسے تمام سہولیات سے مزین طرز زندگی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی‘ وہ اسے مین سٹیریم سکول سسٹم میں تعلیم دلوانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے رہے لیکن اس قسم کے وبال کے ساتھ نارمل زندگی گزارنا کٹھن تھا‘ زندگی کے ابتدائی آٹھ برس نک اس احساس کے زیر اثر ذہنی دباؤ کا شکار رہا کہ اس کا مستقبل تاریک ہے‘ جب وہ دس سال کا تھا تو اس نے باتھ ٹب میں ڈوب کر خود کشی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے دو تین دفعہ خود کشی کی کوشش کی مگر ناکام رہا کیونکہ ہر دفعہ اس کے لا شعور میں موجود احساس ندامت نے اسے بچا لیا۔ معذوری سے لڑتے ہوئے اس کا بچپن بیت گیا۔ تیرہ سال کی عمر میں اس نے اپنا اکلوتا پاؤں زخمی کر لیا جسے وہ ٹائپنگ‘ رائٹنگ اور سوئمنگ جیسے کاموں کیلئے استعمال کرتا تھا۔ اس چوٹ نے اسے یہ احساس دلایا کہ اسے اپنی معذوری پر دھیان دینے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر اظہار تشکر کی ضرورت ہے۔ نک نے خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک حیران کن سفر کا آغاز کیا‘ اس نے اپنی معذوری کو پس پشت ڈال کر زندگی کیلئے تعمیری اور مفید مقاصد کا انتخاب کیا۔

مزید پڑھئے:چلتے ہو تو چین کو چلئے! چین کے بارے میں چند مفید معلومات۔۔۔

سکینڈری سکول کے دوران نک کوئینز لینڈ کے نکورن سٹیٹ ہائی سکول کا کپتان منتخب ہوا اور خیرات اور معذوری کی مقامی تنظیموں کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کیلئے سٹوڈنٹ کونسل کے ساتھ کام کرنے لگا بعدازاں اس نے ’لائف ود آؤٹ لمب‘ کے نام سے ایک غیر منافع بخش تنظیم قائم کی۔ ان فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ اس نے تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اکیس سال کی عمر میں اکاؤنٹنگ اور فنانشل پلاننگ جیسے اہم مضامین میں بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کر لی۔


NickVujicic 6
مصیبتوں پر قابو پانے کا یقین اور اپنے بھروسے کی پختگی سے متعلق پر اثر طریقے سے بات کرنا نک نے ہائی سکول میں حصول تعلیم کے دوران ایک خاکروب سے متاثر ہوکر سیکھا۔ اس نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے تحریک دینے کی غرض سے بات چیت کرنا شروع کر دی۔ اگلے دو سال تک وہ چند نفوس پر مشتمل صرف دو درجن گروہوں سے ہی خطاب کر پایا تھا۔ مقرر کے طور پر وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے محنت کرتا رہا۔ اس سلسلے میں اس نے ایک تقریر سیکھانے والے کوچ کی خدمات بھی حاصل کیں جس نے دوران خطابت اپنی حرکات و سکنات بہتر سے بہتر بنانے کے اسے مختلف گر سیکھائے۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ نک نے خود کو دسویں گریڈ کے تین ہزار طلبہ کے سامنے کھڑا پایا جن سے اسے خطاب کرنا تھا۔ وہ بہت نروس تھا‘ اس کے گھٹنے کانپ رہے تھے مگر جب اس نے بولنا شروع کیا تو پہلے تین منٹوں میں ہی وہاں موجود آدھی سے زیادہ لڑکیاں رو رہی تھیں اور لڑکے اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک لڑکی نے ہاتھ کھڑا کر کے اسے متوجہ کیا اور بولی ’’مخل ہونے کیلئے معذرت خواہ ہوں لیکن میں آپ کے پاس آ کر آپ کو گلے لگانا چاہتی ہوں‘‘ وہ آئی اور سب کے سامنے نک سے بغل گیر ہو گئی اور اس کے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہنے لگی شکریہ‘ بہت بہت شکریہ۔ آج سے پہلے میں کبھی اس بات کا ادراک نہ کر سکی کہ میں جس انداز میں بھی بنائی گئی ہوں ‘ قابل ستائش ہوں۔
اس لڑکی کے اظہار تشکر نے نک کو تقویت بخشی اور آج وہ تحریکی مقرر کے طور پر چوالیس ممالک میں دو ہزار مرتبہ خطاب کر چکا ہے۔ اس کی تقاریر کا مرکز موجودہ دور کے نو عمری کے مسائل ہوتے ہیں۔ وہ اب تک پانچ براعظم کے تین ملین باشندوں سے خطاب کر چکا ہے۔ وہ زیادہ تر سکولوں‘ قومی اجتماع اور مستند سامعین سے مخاطب ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے:’’دوستو ہمیشہ بڑے خواب دیکھواور پھر کبھی ان کا تعاقب کرنا ترک مت کرنا‘ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی کسی غلطی کی تخلیق نہیں ہے‘ مثبت رویے اور اصول اپنائیں۔ یقیناً آپ بھی مصائب پر قابو پا سکتے ہیں‘‘۔


NickVujicic 10
نک اپنے اس کام کی تشہیر ٹیلی وژن اور تحریر سے کرتا ہے۔ اس کی پہلی کتاب’ لائف ود آؤٹ لمبس انسپائریشن فارر ڈیکولسلی گڈ لائف ‘ 2010ء میں شائع ہوئی۔ اس سے پہلے 2005ء میں وہ ینگ آسٹریلین آف دی ائیر ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوا‘ اس کی گھریلو زندگی اور روز مرہ کی سرگرمیوں پر ڈاکو منٹری فلم بن چکی ہے۔ وہ نوجوانوں کو تحریک دینے والی اپنی مختلف ڈی ویز کی مارکیٹنگ بھی کرتا ہے ۔ نک نے بٹر فلائے سرکس نامی شارٹ فلم میں بھی کام کیا جس نے 2009ء میں ڈور پوسٹ پراجیکٹ کا اول انعام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ نک کو شارٹ فلموں کے بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ نک اپنی بیوی کینی کے ساتھ کیلی فورنیا میں رہائش پذیر ہے‘ وہ گولف اور فٹ بال کھیلنے کا شوقین ہے۔ نک کہتا ہے ’’میں نے اپنے نجی کمرے میں جوتوں کا ایک جوڑا رکھا ہوا ہے کیونکہ میں معجزوں پر یقین رکھتا ہوں‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…