نک وو جائیسک تیس برس قبل آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پیدا ہوا‘ نک کی پیدائش اس کے والدین کیلئے کسی صدمے سے کم نہ تھی کیونکہ وہ پیدا ہوتے ہی ایک عجیب و غریب معذوری کا شکار تھا‘ کندھوں کے قریب سے اس کے دونوں بازو غائب تھے جبکہ ٹانگوں کی جگہ دو انگلیوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا پاؤں بائیں کولہے سے باہر کی جانب نکلا ہوا تھا۔ اس حیران کن معذوری کو’ٹیٹرا امیلیا ڈس آرڈر‘ کہا جاتا ہے۔ ابھی تک اس معذوری کی کوئی بھی طبی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ نک کے والدین نے اسے تمام سہولیات سے مزین طرز زندگی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی‘ وہ اسے مین سٹیریم سکول سسٹم میں تعلیم دلوانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے رہے لیکن اس قسم کے وبال کے ساتھ نارمل زندگی گزارنا کٹھن تھا‘ زندگی کے ابتدائی آٹھ برس نک اس احساس کے زیر اثر ذہنی دباؤ کا شکار رہا کہ اس کا مستقبل تاریک ہے‘ جب وہ دس سال کا تھا تو اس نے باتھ ٹب میں ڈوب کر خود کشی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے دو تین دفعہ خود کشی کی کوشش کی مگر ناکام رہا کیونکہ ہر دفعہ اس کے لا شعور میں موجود احساس ندامت نے اسے بچا لیا۔ معذوری سے لڑتے ہوئے اس کا بچپن بیت گیا۔ تیرہ سال کی عمر میں اس نے اپنا اکلوتا پاؤں زخمی کر لیا جسے وہ ٹائپنگ‘ رائٹنگ اور سوئمنگ جیسے کاموں کیلئے استعمال کرتا تھا۔ اس چوٹ نے اسے یہ احساس دلایا کہ اسے اپنی معذوری پر دھیان دینے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر اظہار تشکر کی ضرورت ہے۔ نک نے خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک حیران کن سفر کا آغاز کیا‘ اس نے اپنی معذوری کو پس پشت ڈال کر زندگی کیلئے تعمیری اور مفید مقاصد کا انتخاب کیا۔
مزید پڑھئے:چلتے ہو تو چین کو چلئے! چین کے بارے میں چند مفید معلومات۔۔۔
سکینڈری سکول کے دوران نک کوئینز لینڈ کے نکورن سٹیٹ ہائی سکول کا کپتان منتخب ہوا اور خیرات اور معذوری کی مقامی تنظیموں کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کیلئے سٹوڈنٹ کونسل کے ساتھ کام کرنے لگا بعدازاں اس نے ’لائف ود آؤٹ لمب‘ کے نام سے ایک غیر منافع بخش تنظیم قائم کی۔ ان فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ اس نے تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اکیس سال کی عمر میں اکاؤنٹنگ اور فنانشل پلاننگ جیسے اہم مضامین میں بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کر لی۔

اس لڑکی کے اظہار تشکر نے نک کو تقویت بخشی اور آج وہ تحریکی مقرر کے طور پر چوالیس ممالک میں دو ہزار مرتبہ خطاب کر چکا ہے۔ اس کی تقاریر کا مرکز موجودہ دور کے نو عمری کے مسائل ہوتے ہیں۔ وہ اب تک پانچ براعظم کے تین ملین باشندوں سے خطاب کر چکا ہے۔ وہ زیادہ تر سکولوں‘ قومی اجتماع اور مستند سامعین سے مخاطب ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے:’’دوستو ہمیشہ بڑے خواب دیکھواور پھر کبھی ان کا تعاقب کرنا ترک مت کرنا‘ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی کسی غلطی کی تخلیق نہیں ہے‘ مثبت رویے اور اصول اپنائیں۔ یقیناً آپ بھی مصائب پر قابو پا سکتے ہیں‘‘۔




















































