جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیاکاقدیم ترین زلزلہ کب اورکہاں آیا؟ پڑھیئے دلچسپ حقائق

datetime 7  جون‬‮  2015 |

تاریخ کا قدیم ترین زلزلہ کب اور کہاں آیا، یہ تو وثوق سے نہیں کہا جاسکتا البتہ وہ پہلا زلزلہ جو انسان نے اپنی تحریر میں ریکارڈ کیا تقریباً تین ہزار برس قبل 1177 قبل مسیح میں چین میں آیا تھا۔ اس کے بعد قدیم ترین ریکارڈ 580 قبل مسیح میں یورپ اور 464 قبل مسیح میں یونان کے شہر اسپارٹا کے زلزلے کا ملتا ہے۔ مورخین کا خیال ہے یہ زلزلہ اسپارٹا اور ایتھنس کے درمیان لڑی جانے والی پولینیشین جنگ کے دور میں آیا تھا۔پورے شہر کو ملیا میٹ کردینے والا زلزلہ 226 قبل مسیح یونان کے جزیرے رہوڈس میں آیا تھا۔ جس نے یہاں کے شہر کیمر یوس کو نیست و نابود کردیا اور ساتھ ہی اس شہر کے ساحل پر نصب عظیم الشان مجسمہ ہیلوس بھی تباہ ہوگیا جس کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتا ہے۔ تب سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔2004ء میں سب سے بڑی تباہی 26 دسمبر کو انڈونیشیا کی ریاست سماٹرا میں زیرِ سمندر زلزلے سونامی سے آئی۔ جس سے اْٹھنے والی لہریں انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، بھارت، تھائی لینڈ، سری لنکا، مینمار (برما)، مالدیپ، صومالیہ، کینیا، تنزانیہ، سیشلز (مدغاسکر) اور جنوبی افریقہ تک گئیں۔ اس تباہی سے ہونے والی اموات 5 لاکھ سے زائد ہیں جبکہ سرکاری طور پر ہلاکتوں کا اندازہ 2 لاکھ 83 ہزار ایک سو چھ لگایا گیاتھا۔ 2005ء میں انڈونیشا میں زلزلے سے 1313 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی سال ایران میں بھی زلزلہ آیا جس میں 790 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ جاپان میں ایک اور چلی میں گیارہ افراد زلزلے سے جاں بحق ہوئے۔ 8 اکتوبر 2005ء کو اب تک کا شدید ترین زلزلہ پاکستان کے شمالی علاقے میں آیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.6 تھی۔ اس زلزلے سے کشمیر، اسلام آباد، بالاکوٹ، مانسہرہ، ہزارہ سمیت بہت سے چھوٹے بڑے دیہاتوں اور قصبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حال ہی میںنیپال کا تباہ کن زلزلہ ایک ایسی آفت تھی، جس کے بارے میں ماہرین جانتے تھے کہ یہ ضرور آئے گی، لیکن زلزلوں کے ماہرین کے پاس اب بھی ایسے زلزلوں کی تفصیلی پیش گوئی کرنے کے لیے مطلوبہ معلومات ناکافی ہیں۔ 25اپریل2015ء کو نیپال میں آنے والے زلزلے نے کھٹمنڈو میں گھروں کو شدید نقصان پہنچایا، ثقافتی ورثوں کو تباہ کیا، جبکہ زلزلے کی وجہ سے ماؤنٹ ایورسٹ پر لینڈ سلائیڈ میں بھی کئی لوگ مارے گئے۔نیپال خاص طور پر زلزلوں کی زد میں رہتا ہے، کیونکہ یہ زیرِ زمین دو بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں، انڈوآسٹریلیائی پلیٹ اور ایشیائی پلیٹ، کی سرحد پر واقع ہے۔ ان دونوں پلیٹوں کے آپس میں ٹکرانے سے ہمالیہ کے پہاڑوں نے جنم لیا، اور اسی وجہ سے یہاں زلزلے معمول اور متوقع ہیں۔ 25اپریل کی دوپہر کو نیپال کے زلزلے سے جو بھی بچ کر نکلا ہے، وہ یہی کہہ رہاہے کہ ہم نے ایک گلزار جگہ کو ویران بنتے دیکھا ہے۔ہر اس آدمی کے سامنے موت کا وہ منظر ہے جو اس نے ان دردناک لمحوں میں دیکھا تھا۔ جو بھی نیپال کے اس خوفناک حادثے سے گزر کر لوٹ کر آیا ہے، وہ جب بات کرتا ہے تو موت کا منظر سامنے گھومنے لگتا ہے۔1934کے بعد نیپال میں آئے اس تباہ کن زلزلے نے اس غریب ملک کو بیسیوں برس پیچھے دھکیل دیاہے۔ کھمنڈو میں شاید ہی کوئی ایسا گھر بچا ہوگا جہاں سے لاشیں نہ نکلی ہو۔مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ آریہ گھاٹ پر آخری رسومات کے لئے لمبا انتظار کرنا پڑا۔اس حادثے نے گھروں، مندروں اور تاریخی عمارتوں کو پل بھر میں ملبے میں تبدیل کردیا۔ لوگوں کی جان لینے والے زلزلے سے بچے لوگوں کے سامنے اب پناہ گاہ، خوراک اور صاف ستھری ہوا جیسی بنیادی ضرورتیں پوری کئے جانے کا چیلنج ہے۔ ہمالیہ کی گود میں بسے اس ملک کو 7.9 شدت کے زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا۔ سڑکوں میں بڑی بڑی ڈراریں آگئی ہیں اور پرانی عمارتوں کے منہدم ہوجانے کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا اور اس وجہ سے کھلے آسمان کے نیچے لوگوں کو سرد رات گزارنی پڑی۔ بعد میں بھی ہلکے جھٹکے آتے رہنے کی وجہ سے لوگ سو نہیں پائے۔آیئے اس قیامت خیز زلزلے میں موت کے منہ سے بچ جانے والوں کی زبانی جانتے ہیں کہ کس طرح موت ان کو چھو کر گذر گئی۔ اس قیامت کے ایک عینی شاہدر مزدور کہتے ہیں کہ یہ علاقہ زلزلے سے انجان نہیں ۔ کئی لوگوں کو لگا کہ معمولی زلزلہ ہے،گزر جائے گا لیکن وہ بات نہیں تھی۔اسی دوران ایک اور خوفناک منظر ہمارے سامنے سے گزرا جب ہم نے دیکھا کہ ملبے میں دبی ایک خاتون کسی طرح نکلنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ آس پاس کے لوگ بد حواسی کی حالت میں سڑک پر بھاگ رہے ہیں۔ اطراف کی عمارتیں بھی گر رہی تھیں۔جو نکل پانے میں کامیاب ہو ا وہی بچ پایا۔ ورنہ کئی لوگ سڑکوں سے بھاگنے کے دوران ہی پاس کی عمارت کے گر جانے کی وجہ سے دب گئے۔ پتہ نہیں ان لوگوں کا کیا ہوا؟وہ بچے یا نہیں۔ ہم لوگ جہاں رہتے تھے وہاں آس پاس کے لوگوں کا بھی کوئی حال معلوم نہیں ہے۔ لوگ بھاگے جارہے تھے، بھاگے جارہے تھے۔ کچھ بھی بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ صورت حال یہ ہے کہ زخمیوں کو ہسپتال میں جگہ نہیں مل پارہی ہے۔ لوگ ابھی بھی اپنے گھروں میں جانے سے ڈر رہے ہیں۔ زلزلے کاایک اور شکار کہتے ہیں کہ شروعاتی جھٹکا تھمنے کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہئے، ہم نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔ہم میں سے کچھ لوگ فوری طور پر چادریں اور کھانے پینے کی چیزیں لینے کے لئے گھر کے اندر دوڑے،کیونکہ زلزلے کے بعد دوبارہ آئے زوردار جھٹکے سے ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہم گھر میں واپس نہیںجاسکیں گے۔ میں نے وہاں سے دو موٹر سائیکل نکالی اور انہیں کھلی جگہ پر رکھ دیا۔ تاکہ ضرورت پڑنے پر کسی کوہسپتال لے جاسکوں۔شام میں میں نے اپنے آس پاس کی جگہوں کا سرسری جائزہ لیا۔ کارکنوں کے ایک گروپ کو ایک بہت بڑی پلاسٹک شیٹ ملی تھی، جس کی مدد سے انہوں نے خیمہ بنایا۔اس میں تقریبا 70-60 لوگوں کو ٹھکانا مل گیا۔رات کھلے آسمان کے نیچے گزری۔ آنکھوں سے نیند غائب تھی۔نہ کوئی ٹریفک کا شور اور نہ کوئی چہل پہل۔ وہ منظر ایسا تھا ، گویا وقت ٹھہر گیا ہو۔ زلزلہ کے بعد منہدم ہوئے مکانوں کے ملبے میں لاشیں دبی ہوئی تھیں اور سینکڑوں زخمی لوگ درد سے کراہ رہے تھے اور مدد کے لئے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ لیکن افرا تفری کے اس ماحول میں ان کی آواز سننے کا ہوش کسے تھا۔سبھی اپنی جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے نظر آرہے تھے۔95فیصد گھر ملبے کے ڈھیر میں بدل گئے ہیں۔ جو گھر بچے بھی ہیں، اس میں رہنے والے گھر چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔ ہیں۔نیپال میں قیامت تو گذر گئی لیکن اس کے اثرات کئی نسلیں بھگتیں گی –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…