جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ 80افراد جودنیاکی آدھی دولت پرقابض ہیں

datetime 7  جون‬‮  2015 |

دنیا میں امراء و فقراء کا فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے‘ امیر دن بہ دن امیر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے ۔ دولت مخصوص ہاتھوں تک محدود رہنے سے دنیا میں غریبوں کی زندگی مشکلات میں ہے ‘امراء عیش و عشرت میں ہیں اور غرباء فاقوں کا شکار۔دنیا میں غربت کے خاتمے کے خلاف سرگرم ’’آکسفام‘‘ نامی ایک تنظیم نے اپنی حالیہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے 80افراد دنیا کی آدھی سے زائد دولت کے مالک ہیں ‘یہ 80افراد دنیا کے کھرب پتیوں کا ایک فیصدہیں جن کے اثاثوں کی مالیت کھربوں ڈالرز ہے‘رپورٹ کے مطابق ان امیر ترین افراد کے پاس موجود دولت میں اگلے برس 600ارب ڈالرز کا اضافہ ہو جائے گا جس کے بعد یہ امیر ترین افراد دنیا کی آدھی دولت سے بھی زیادہ کے مالک ہو جائیں گے۔ دنیا بھر کے امیر ترین 80افراد میں 35کا تعلق امریکی شہریت سے ہے ‘سال 2014ء میں ان کی کل دولت کا تخمینہ 941بلین امریکی ڈالرز تھا‘ اس فہرست میں دوسرا نمبر جرمنی اور روس سے تعلق رکھنے والے سات امیر ترین افراد کا ہے۔ آکسفام کی رپورٹ میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ دنیا بھر میں دولت کی غیر مساوی تقسیم اسی طرح جاری رہی تو سال 2016تک دنیا کے ایک فیصد امیر ترین افراد دنیا کی بیشتر دولت کے مالک ہو جائیں گے جس سے نچلے طبقے کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔

jkj
دنیا بھر میں جائیداد صرف چند ہاتھوں تک کس طرح محدود ہوتی جاتی ہے اس کا اندازہ اس رپورٹ سے بخوبی ہو تا ہے ‘رپورٹ کے مطابق دنیا کی تمام دولت کے بقیہ آدھے حصے پر 700کروڑ سے زائد آبادی اپنی گزر بسر کر رہی ہے ۔ ورکنگ فاردی فیو نامی یہ رپورٹ مشہور بین الاقوامی تنظیم آکسفام نے تیار کی ہے ‘ اس سے پتا چلتا ہے کہ جائیداد کے معاملے میں عدم مساوات کی لعنت ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں ہی طرح کے ملکوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آکسفام نے دعویٰ کیا ہے کہ سرمایہ داروں نے سیاسی طاقتوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے معیشت کے کھیل کے ضابطوں کو اپنے حق میں کر لیا ہے اور جمہوریت کو کنارہ کش کرتے ہوئے ایک ایسی دنیا تشکیل دے دی ہے جہاں صرف 80لوگوں کے پاس دنیا کی پوری آبادی کی آدھی دولت سمٹ کر آگئی ہے ۔ آکسفام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ 1970ء کی دہائی کے بعد سے لے کر اب تک امیروں کی آبادی والے 30میں سے 28ملکوں میں امیروں پر عائد ہونے والے ٹیکس کی شرحوں میں گراوٹ دیکھی گئی ہے‘ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ امیر لوگ نہ صرف زیادہ کما رہے ہیں بلکہ اس کمائی پر وہ ٹیکس بھی کم دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 25برس کے دوران جائیداد کی مرکزیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ صرف ایک فیصد خاندان کے پاس ہی دنیا کی قریباً آدھی یعنی 46فیصد جائیداد جمع ہو گئی ہے‘ اس رحجان کو بدلنے کے لیے دنیا بھر میں حکومتوں کو فوراً قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں ورلڈ اکنامک فورم کی ایک میٹنگ میں شامل ہونے والے دنیا بھر کے ماہرین اقتصادیات اور دیگر شعبوں کی اہم شخصیات کے لیے آکسفام نے ایک چھ نکاتی اپیل بھی تیار کی تھی لیکن اس کے باوجود دولت کا مخصوص ہاتھوں میں ارتکاز روکا نہ جا سکا۔

dsfsd
آکسفام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی انما کے مطابق یہ انتہائی حیران کن ہے کہ دنیا کی آدھی دولت صرف اتنے ہی لوگوں کے پاس ہے جو ٹرین کی صرف ایک کوچ میں آرام سے آسکتے ہیں۔ آکسفام کے مطابق دنیا کے امیر وں نے بڑی تعداد میں اپنا سرمایہ ٹیکس حکام کی نگاہ سے بچا کررکھا ہوا ہے ۔ رپورٹ میں لگائے گئے اندازے کے مطابق قریباً 21لاکھ کروڑ ڈالر کی رقم ایسی ہے جس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے اور جس کا بڑا حصہ ٹیکس ہیونس کے نام سے مشہور ملکوں کے بینکوں میں جمع کیا جاتا ہے جہاں اس طرح کی جائیداد پر انہیں کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑتا ہے ۔ بھارت کے بارے میں اس رپورٹ میں کہا گیا کہ یہاں ارب پتیوں کی تعداد گزشتہ ایک دہائی میں دس گنا ہو گئی ہے ‘ امیر لوگ مخصوص ٹیکس ڈھانچہ اور سرکاری روابط کا استعمال کر کے مزید امیر ہو رہے ہیں جبکہ غریبوں پر کیا جانے والا خرچ بہت معمولی ہے۔
امریکن نیشنل بزنس میگزین ’’فوربز ‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013ء میں2446ارب پتی دنیا میں موجود تھے‘ جن کا کل اثاثہ قریباً 5.4ٹریلین امریکن ڈالر تھااور ان میں سے امریکا میں 1342ارب پتی موجود ہیں‘ ان میں سے سرفہرست 100ارب پتیوں میں تین بھارتی باشندے بھی ہیں‘اس فہرست میں غریب ترین شخص بھی کم از کم 5ارب ڈالر ز کا مالک ہے‘ اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2000ء میں پوری دنیا کی تمام دولت کا 40فیصد حصہ صرف ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے قبضے میں تھا اور دنیا کے دس فیصد امیر لوگ دنیا کی 85فیصد دولت پر قابض تھے‘ اس کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ سرکاری نظام امیروں کی بے جا حمایت کرتا ہے ۔آج ہم پورے یقین اور دکھ کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ یہ حالات اب تیزی سے امیروں کو مزید امیر بنارہے ہیں۔ 2001ء کے ایک جائزے میں امریکاکے بارے میں کہا گیا تھا کہ امریکا میں ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس 38فیصددولت ہے اور دس فیصد لوگوں کے پاس 71فیصد دولت ہے جبکہ 40فیصد غریب مل کر صرف اور صرف ایک فیصد دولت کے مالک ہیں۔ غریب ملکوں کا حال اس سے بھی کہیں بدتر ہے ۔آسان الفاظ میں اسے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک دعوت میں100مہمان اور 100روٹیاں ہیں‘ ایک امیر مہمان کو 38روٹیاں کھانے کو ملیں جبکہ 40غریب مہمانوں کو مل کر صرف ایک روٹی نصیب ہوئی ۔ اب ہم اچھی طرح سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ترقی یافتہ امریکا میں عام آدمی کا یہ حال ہے تو دیگر ممالک میں ان کا کیا حال ہو گا؟

gfhgjh
مائیکرو سافٹ وئیر کے بانی بل گیٹس اس وقت دنیا کے پہلے امیر ترین شخص ہیں جن کی دولت 85ارب ڈالرز ہے جبکہ میکسیکو کے میڈیا کے بے تاج بادشاہ کارلوس سلم دنیا کے دوسرے امیر ترین فرد ہیں‘جن کے پاس83ارب ڈالر ہیں اورسرمایہ کاروارن بفٹ ہیں جن کی دولت بالترتیب 76ارب ڈالر بنتی ہے ‘ تاہم روسی سماجی میڈیا کے ارب پتی یوری ملٹر اپنے ملک میں سب سے آگے ہیں۔ ماسکو میں 79ارب پتی بستے ہیں‘ ایک ہی شہر میں اتنے امیر ترین لوگوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے لیکن اب بھی کسی ملک میں ارب پتیوں کی زیادہ تعدادامریکا میں ہے جو 537کے قریب ہے ۔ چین میں نئے ارب پتیوں کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے۔ روبن لی سرچ انجن ’’بیدو‘‘ کے سربراہ ہیں ‘ وہ چین کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی دولت کی مالیت 9 بلین ڈالر ہے۔ارب پتیوں کی فہرست رکھنے والے ملکوں میں بھارت بھی شامل ہے۔ فوربز میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق 2012ء میں ہندوستان کے اندر 61ارب پتی تھے(یعنی جن کا اثاثہ 1ارب امریکن ڈالر سے زائد کا ہو )۔ فوربز ہر سال یہ رپورٹ شائع کرتی ہے۔ ریلائنس انڈسڑی کے مالک مکیش امبانی بھارت کے سب سے امیر ترین شخص ہیں اور ان کے اثاثوں میں زیادہ تیزی سے اضافے کی امید کی جارہی ہے۔ چین کی ایک ریسرچ فرم ’’ہورون‘‘ کیمطابق 2013ء میں ارب پتیوں کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے ۔ ریلائنس کے چیئرمین مکیش امبانی لگاتار آٹھویں مرتبہ سب سے مالدار بھارتی کی حیثیت سے پھر سامنے آئے ہیں جن کی دولت کا کل اثاثہ قریباً 18بلین امریکی ڈالر ہے ۔ بھارت میں 2012ء میں ارب پتیوں کی تعداد 61تھی مگر صرف سال بھر کے اندر یہ تعداد 70ہو گئی ۔ فوربز میگزین کے چیئر مین اسٹیوفوربس کہتے ہیں کہ اس سال جن 200نئے ارب پتیوں کا اضافہ ہوا ان کا تعلق برازیل ‘روس‘ بھارت اور چین سے ہے۔ بھارت میں جہاں ایک طرف ارب پتیوں کی دولت میں اضافہ ہوا ہے ‘وہیں غریبوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے ‘ یہ بات ہم نہیں بلکہ خود بھارتی حکومت کے ادارے پلاننگ کمیشن کے تابع ایک خود مختار ادارے ’’انسٹی ٹیوٹ آف ایپلائیڈ مین پاور ریسرچ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں دکھائی دینے والے معاشی چمک دمک اور اقتصادی ترقی اس ملک کے صرف چند لوگوں کے لیے ہے ورنہ عام لوگ درد و کرب اور مشقت بھری زندگی گزارنے پر ہی مجبور ہیں۔ آج ہندوستان میں سب سے اوپر کے صرف پانچ فیصد گھرانے ملک کے لگ بھگ 38فیصد اثاثے کے مالک بنے بیٹھے ہیں جبکہ نچلے طبقے کے 60فیصد عوام بمشکل ملک کے صرف 13فیصد اثاثے پر گزر بسر کر رہے ہیں اور دیہی علاقوں میں یہ تصویر مزید بھیانک ہو جاتی ہے۔بھارت کے 60فیصد لوگوں کو محض 10فیصد اثاثے پر گزاراکرنا پڑتا ہے‘ کھیتی باڑی پر گزارہ کرنے والوں اور مزدوری کرنے والوں کے پاس تو زندگی گزارنے کے بنیادی ذرائع بھی نہیں اور اکثر انہیں فاقہ کشی کی نوبت رہتی ہے۔

ghjgj
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے کل غریبوں کی آدھی تعداد صرف دو ملکوں میں آباد ہے اور یہ دو ممالک ہیں چین اور بھارت۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت میں غریبوں کی تعداد 45کروڑ سے زیادہ ہے اور یہ زیادہ تر دیہی علاقوں میں رہتے ہیں ‘ انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں اور ان کی روزانہ کی آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہے۔

مزید پڑھئے:جرمنی میں آپریشن کے بعد جسم میں رہ گئی اشیاء سے سینکڑوں اموات

پاکستان کے ارب پتیوں میں پہلا نام شاہد خان کا ہے ‘ یہ آٹو موٹیوز کے مالک ہیں اور ان کی دولت کا تخمینہ 4.5 بلین ڈالر لگایا جا رہا ہے‘ اس کے بعد آصف علی زرداری‘ میاں محمد منشاء‘ سر انور پرویز‘ میاں نوازشریف‘ صدرالدین ہاشوانی‘ ملک ریاض اور طارق سہگل کے نام پیش پیش ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی کرنسی چند ہاتھوں میں گردش کررہی ہے اور بیچارے غریب عوام ٹیکسوں اور مہنگائی کی بھرمار کا شکار ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی دولت کا مخصوص ہاتھوں تک محدود رہنا انتہائی خطرناک ہے اور اس وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج حائل ہوتی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…