جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

میرے ساتھ دھاندلی ہوئی، مجھے انصاف چاہیے

datetime 6  جون‬‮  2015 |

مقامی حکومتوں کے لیے ہونے والے ان انتخابات کی حیثیت اس وقت متنازع ہوگئی جب حکمران جماعت تحریک انصاف کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد نے پولنگ کے دن دھاندلی کے سنگین الزامات لگائے اور نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرکے حکومت کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا جس پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔ لیکن اکثر مبصرین جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد کی طرف سے دھاندلی سے متعلق بیانات پر تنقید بھی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں لہذا محضٰ بیانات دینے سے وہ خود کو دھاندلی کے الزامات سے بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی بلکہ باالفاظ دیگر وہ خود بھی اس دھاندلی میں برابر کے شریک ہیں۔ بالخصوص جماعت اسلامی زیادہ تنقید کی زد میں ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے ہیں۔ ادھر حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی سنیچر کو ہونے والے انتخابات کو مسترد کیا ہے۔ اے این پی کے سربراہ اسنفدیار ولی خان نے پشاور میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران صوبائی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی انتخابات عبوری سیٹ اپ کے ماتحت کرانے چاہییں۔
سیاسی جماعتوں کی طرف سے مسلسل احتجاج اور بیانات سے صوبائی حکومت بھی اب بظاہر شدید دباؤ کا شکار نظر آتی ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر دوبارہ انتخابات کا انعقاد کیا بھی جاتا ہے جس طرح تحریک انصاف کے سربراہ نے عندیہ بھی دیا تو وہ دوبارہ اسی صوبائی حکومت کے ماتحت ہوں گے؟ دوسری جانب یہ انتخابات انتہائی پرتشدد رہے اور اب تک 24 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کیا صوبہ دوبارہ ایسے پرتشدد واقعات کا متحمل ہوسکتا ہے؟ خیبر پختونخوا میں یہ الزامات ایسے وقت سامنے آرہے ہیں جب جوڈیشنل کمیشن کی جانب سے 2013 کے عام انتخابات کے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ اگر یہاں پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ پورا نہیں کرتی تو اخلاقی طورپر جوڈیشل کمیشن کے تناظر ان کی پوزیشن بھی کمزور ہوسکتی ہے۔
بشکریہ (بی بی سی )

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…