پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آج کل ضلعی ریٹرننگ افسر کے دفتر میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والوں امیدواروں کا تانتا باندھا ہوا ہے۔ یہاں آنے والا ہر امیدوار ایک ہی طرح کا شکوہ کر رہا ہے ’میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے، مجھے انصاف چاہیے۔‘ضلع کچہری کی حدود میں واقع اس دفتر کے سامنے صبح سے لے کر شام تک لوگوں کی ایک ہجوم جمع رہتا ہے جس میں امیدواروں کے ساتھ ساتھ ان کے حامی بھی شامل ہیں۔ دو دن پہلے یہ تعداد اتنی زیادہ بڑھی گئی تھی کہ پولیس کو حالات پر قابو پانا مشکل ہوگیا تھا جس کے بعد پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا اور دفتر کے مرکزی گیٹ کو بند کرنا پڑا تھا۔ تاہم یہ سلسلہ پچھلے تین دنوں سے جاری ہے۔ ان امیدواروں میں ہارنے اور جیتنے والے دنوں طرح کے امیدوار شامل ہیں۔ ضلعی ریٹرننگ افسر کےدفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک سینکڑوں کی تعداد میں ایسی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس میں امیدواروں کی جانب سے دھاندلی کی شکایات کی گئی ہیں۔ ہر درخواست کے ساتھ امیدواروں کی جانب سے دھاندلی کے ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ تاہم ہر شکایت پر کاروائی کرنا یا ان درخواستوں کو الیکشن ٹربینول میں بھیج دینا حکومت کے لیے یقیناً ایک مشکل مرحلہ ہوسکتا ہے۔ ضلعی ریٹرننگ افسر کے دفتر کے علاوہ پشاور پریس کلب بھی سیاسی جماعتوں اور بلدیاتی چناؤ میں حصہ لینے والے امیدوراوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج کل شاید ہی ایسا کوئی دن گزرتا ہے جس میں کسی سیاسی جماعت نے دھاندلی کے خلاف کوئی احتجاج نہ کیا ہو یا امیدواروں نے پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب نہ کیا ہو۔ سرکاری طورپر بلدیاتی انتخابات کے اعلان میں ابھی مزید تین دن باقی ہیں لیکن اس سے پہلے ہی انتخابات کی حیثیت متنازع بنتی جارہی ہے۔ صوبے کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے نہ صرف ان انتخابات کو یکسر طورپر مسترد کردیا ہے بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کررہی ہیں۔




















































