جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

چولستان کی بیٹی نے علاقے کی قسمت بدل ڈالی،کیسے؟

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اِس منصوبے سے پہلے چولستانی بچوں کو تعلیم شروع کرنے کے لیے بڑے قصبوں یا شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ جو والدین اتنی تکلیف کاٹ لیتے تھے ان کے بچے چار جماعتیں پڑھ جاتے تھے البتہ بچیوں کو اِس قدر دور پڑھانے کے لیے لے جانے یا بھیجنے کا روجھان نہ ہونے کے برابر تھا۔تقریباً چھ سال پہلے بچیوں کے اپنے گاؤں میں اپنے پرائمری سکول کا غیر رسمی منصوبہ شروع ہوا تو بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں چولستان کے قریبی دیہات میں مقامی لوگوں نے سکولوں کی جگہیں وقف کیں۔چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے دور دراز کے گاؤں سے آ کر پڑھانے والی استانیوں کی تنخواہوں کی ذمہ داری سنبھالی۔ لیکن یہ منصوبہ بھی سنہ 2014 میں ختم ہو رہا تھا جب مصباح چھٹی جماعت میں جانے والی تھیں۔غیر رسمی پرائمری سکولوں کے بچوں نے اپنے سکول بچانے کے لیے بہاولپور شہر میں علامتی سکول لگائے، سرکاری افسران کو خطوط بھیجے۔ شہر کی مرکزی سڑک پر چولستان کے دیہاتی بچوں کے علامتی سکول کو پولیس نے ختم کرا دیا۔ میڈیا کے نمائندے فلمبندی تو کرتے رہے لیکن بچے شہ سُرخیوں میں نہ آئے۔ ایسا کوئی اعلان سننے کو ملا نہ کوئی عمل دیکھنے میں آیا جس سے بچوں کو لگے کہ ان کے سکول بند نہیں ہوں گے۔بچوں اور انتظامیہ کی کشمکش کے دنوں میں ضلعی رابطہ افسر عمران سکندر مصباح کے سکول کا معائنہ کرنے آئے۔ ایک درخت اور کچے کمرے میں 100 کے قریب بچوں کو پڑھاتی اُستانیوں والے سکول کا دورہ کرکے لوٹنے لگے تو پیچھے سے ’ایکسکیوزمی سر‘ کی آواز آئی۔عمران سکندر بڑے نرم لہجے میں اس آواز کو یاد کرتے ہیں۔
’میں بھی تھوڑا سا ٹھٹکا کہ انگریزی میں آواز آئی ہے۔ وہ بچی کھڑی ہو گئی اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے کہا کہ چولستان کے بچوں کے لیے سکول نہیں ہو سکتا۔ چولستان کے بچے بچے نہیں ہوتے۔ میرے خیال میں اُس نے بڑی ہمت اور خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا۔‘ضلعی انتظامیہ اور چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ہنگامی بنیادوں پر مصباح کے گاؤں کے لیے پختہ سکول تعمیر کرنے کی رقم کا بندوبست کیا۔ چونکہ وہ پانچویں جماعت پاس کرنے والی تھیں اِس لیے جب تک عمارت مکمل ہوئی تو چار دیواری، چار کمروں، طویل برآمدے، دو ٹائلٹ، پینے کے پانی کے نلکے اور صبح کی اسمبلی کے لیے سٹیج پر مبنی اِس سکول کو مڈل سکول کا درجہ بھی دے دیا گیا تاکہ مصباح اپنے گاؤں کے اپنے سکول میں ہی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
’اُس بچی نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ اُس کی کہانی میں نے ہر فورم پر بتائی۔ ہر کوئی متاثر ہوا۔ اِس وجہ سے ہمیں اِس کی منصوبہ بندی اور منظوری میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔‘بات مصباح کے گاؤں تک نہیں رُکی۔ گذشتہ ایک سال میں مزید پانچ سکول بنے اور چولستان کے قریب 75 دیہات کے لیے دو یا تین کمروں والے پختہ سکولوں کی عمارتیں منظور ہوئیں جن کی تعمیر موسمِ گرما کی تعطیلات سے پہلے مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔عمران سکندر کے مطابق چولستان کے اِن سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی سرپرستی مل گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ اِنھیں پہلی دفعہ طلبا کی حیثیت سے سرکاری اعداد و شمار میں شمار جا رہا ہے اور اِن کے مستقبل کے متعلق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔منصوبے کے تحت جس سکول کے بچے، پرائمری سے آگے بڑھیں گے، اُسے مڈل کا درجہ اور مزید سہولتیں ملتی جائیں گی۔تین اضلاع میں زیرِتعمیر عمارتوں کو دیکھ کر ہی نسبتاً زیادہ والدین نے بچوں کو سکول بھیجنا شروع کر دیا ہے اور ایک سال میں مجموعی تعداد 20 فیصد بڑھ کر پانچ ہزار ہو گئی ہے۔لڑکیوں کے لیے نئے سکول بن رہے ہیں لیکن اُن کی تعداد 65 فیصد ہے۔ باقی سب لڑکے ہیں اور انھیں اِس لیے نہیں روکا جاتا کیونکہ ان کے لیے قریب کوئی سکول نہیں۔75 سکولوں کے بچوں میں ساتویں جماعت کی واحد طالبہ مصباح شاہین ہیں۔ سب فی الحال اُن سے پیچھے ہیں اور سرکاری افسران انھیں ’ملالائے چولستان‘ کہتے ہیں۔ایک سال میں اُن کے سکول کے بچوں کی تعداد دُگنی ہو گئی ہے۔ درخت کے سہارے بچوں کی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی تو ختم ہو رہی ہے لیکن نئے سہارے کی گنجائش بھی کم پڑنے لگی ہے۔ضلعی رابطہ افسر عمران سکندر کے بقول ’ہمارا اندازہ ہے کہ چولستان کے 15 سے 20 ہزار بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…