جنید خان کو ورلڈ 2011 کے لیے قومی اسکواڈ میں شامل کیا گیا لیکن وہ منظر عام پر اس وقت آئے جب انہوں نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اننگ میں پانچ وکٹوں سمیت سیریز میں 14 وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کو سیریز جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگلے سال دورہ ہندوستان میں انہوں نے اپنی شاندار سیم اور سوئنگ باؤلنگ سے تمام ہی بلے بازوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ مسلسل انجری مسائل کے باعث جنید ورلڈ کپ میں شرکت نہ کر سکے لیکن اب ان کی ایک بار پھر ٹیم میں واپسی ہوئی جہاں وہ پہلی بار اپنی سرزمین پر قومی ٹیم کی نمائندگی کیلئے پرعزم ہیں۔ جنید اب تک 20 ٹیسٹ اور 51 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز رکھتے ہیں۔
اظہر علی
اظہر علی ہیڈنگلے میں 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں فتح گر نصف سنچری کے بعد منظر عام پر آئے اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ایک روزہ کرکٹ میں وہ قومی ٹیم کے مستقل رکن نہ بن سکے لیکن ٹیسٹ میچز میں اپنی مستقل مزاجی کی بدولت وہ جلد ہی ٹیم کے اہم رکن بن گئے۔ پاکستان کی ایک روزہ ٹیم کی قیادت اظہر کو سونپے جانے پر تمام ہی حلقوں نے شدید تنقید کی لیکن بنگلہ دیش کے خلاف شاندار کارکردگی کی بدولت انہوں نے تمام ناقدین کے منہ بند کر دیے۔ وہ اب تک 41 ٹیسٹ اور 17 ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور پاکستانی ٹیم کے قائد کی حیثیت سے اپنی سرزمین پر پہلا میچ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
محمد عرفان
محمد عرفان کی کارکردگی کا صلہ انہیں دورہ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیم میں شمولیت کی صورت میں ملا جہاں انہوں نے متاثر کن کھیل پیش کیا۔ عرفان کو جب جب موقع ملا انہوں نے اپنے کھیل سے متاثر کیا لیکن فٹنس مسائل کے سبب وہ کئی مرتبہ ٹیم سے باہر ہوئے جبکہ ورلڈ کپ میں بھی جنوبی افریقہ کے خلاف متاثر کن کارکردگی کے بعد وہ انجری کا شکار ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے۔ چار ٹیسٹ اور 45 ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے عرفان تاحال انجری کا شکار ہیں اور انہیں ممکنہ طور پر پاکستان کی اپنی سرزمین پر نمائندگی کیلئے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
احمد شہزاد
احمد شہزاد کو پاکستان کی نوجوان نسل کے باصلاحیت بلے بازوں میں سے ایک ہیں اور آسٹریلیا کے خلاف پہلی سیریز میں بہتر کارکردگی کے بعد انہوں نے اپنی آٹھویں ہی ایک روزہ اننگ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہملٹن میں سنچری بنا کر تابناک مستقبل کی نوید سنائی۔ سات فٹ سے زائد قد کے حامل محمد عرفان نے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم 2010 میں انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز میں رکھا لیکن وہ اس وقت متاثر کن کھیل پیش کرنے میں ناکام رہے لیکن مسلسل جدوجہد کا صلہ 2012 میں اس وقت ملا جب انہیں دورہ ہندوستان کے لیے ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ اس دورے میں انہوں نے جنید خان کے ساتھ ہندوستانی ٹیم کو ان کے ہی گھر بھیگی بلی بننے پر مجبور کردیا اور پاکستان نے سیریز اپنے نام کی۔






















































