جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

خیبرپختونخوامیں تعلیم کاانصاف۔۔معمرشخص نے وہ کردکھایاجوحکومت نہ کرسکی

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

”جب میں کسی دوسرے گاوں جاتا اور وہاں پر بچوں کو اسکول جاتے دیکھتا تو شدت سے یہ محسوس ہوتا کہ ہمارے گاو¿ں میں بھی اسکول ہونا چاہیے۔ میں نے اپنے گھر کے قریب اپنی خاندانی زمین کو اسکول کے لئے وقف کیا، پہاڑ توڑ کر سطح ہموار بنائی اور درختوں سے چھت کا انتظام کیا۔“

0,,18457441_401,00
انہوں نے مزید کہا کہ اسکول میں نرسری سے پرائمری تک بچوں کے لئے ایک ہی استاد ہے، جو بیک وقت تمام بچوں کو پڑھاتا ہے، ”اسکول کو حکومت نے مکتب کا درجہ تو دے دیا ہے لیکن تئیس سال گزرنے کے باوجود بھی اسکول اپنی پرانی حالت میں ہے۔“
لعل شریف کے دن کا آغاز اسکول کی صفائی سے ہوتا ہے جبکہ اس کی غیر موجودگی میں یہ کام ان کی ساٹھ سالہ اہلیہ لعل ذادگئی انجام دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لعل شریف تین کلو میٹر دور ندی سے اسکول کے بچوں کے لئے پانی لاتا ہے اور لعل شریف یہ کام بلا معاوضہ کرتے ہیں۔ لعل شریف کے مطابق گاو¿ں کے زیادہ تر افراد ناخواندہ ہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں پر نہ تو کوئی خاتون ٹیچر ہے اور نہ ہی ڈاکٹر، ”علاقے کی آبادی چھ ہزار نفوس پر مشتمل ہیں، یہاں کے لوگ تعلیم سے محبت کرتے ہیں اور یہاں کے طلبا ءو طالبات کئی کلو میٹر دور واقع مڈل اور ہائی سکول جاتے ہیں۔“

0,,18457440_303,00
نارنجئی اسکول کے طلباءو طالبات ایک ساتھ زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ایک کھلا میدان ہے اور درختوں کے شاخوں سے بنائی گئی ایک چھت، جب بارش ہوتی ہے تو اسکول سے بھی چھٹی ہو جاتی ہے۔ استاد تاجبر خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اسکول میں اس وقت سو سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ”میں خود بھی کئی کلو میٹر دور سے روزانہ یہاں آتا ہوں۔ یہاں کے لوگ اور بچے تعلم سے محبت کرنے والے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اسکول کی عمارت بنوانے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں کردار ادا کرے۔“

0,,18457420_401,00
اسکول کی طالبہ حسینہ نے بتایا کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ٹیچر بننا چاہتی ہیں کیونکہ ان کے علاقے میں کوئی ٹیچر نہیں ہے، ” ہم اس تپتی دھوپ میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، ہمارے صاف ستھرے کپڑے خراب ہوتے ہیں، ہمیں شدید گرمی لگتی ہیں لیکن پھر بھی ہم اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔“
حسینہ مزید کہتی ہیں کہ جب میں دیگر علاقوں میں اسکولوں کے بچوں کو دیکھتی ہوں تو مجھے دکھ ہوتا ہے کہ وہاں تو بچوں کے لئے عمارت ہے ،کلاس رومز ہیں، ڈیسک ہیں، تمام سہولیات ہیں اور ہمارے لئے کچھ نہیں۔
لعل شریف کی اس جدو جہد کو علاقے کے لوگ بھی سراہتے ہیں۔ تعلیم کے لئے سرگرم ایکٹیوسٹ ڈاکٹر جواد نے بتایا کہ یہ بات قابل تعریف ہے کہ لعل شریف اس عمر میں تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں، ایسے لوگوں ہی کی بدولت ہمارا معاشرے میں روشنی ہے اور لوگ تعلیم کی اہمیت کو محسوس کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…