’مجھے یقین نہیں آ رہا تھا، اس سے پہلے میں ایک زندہ لاش کی طرح تھا مگر نئے ہاتھوں نے مجھے نئی زندگی دے دی ہے۔‘عبدالرحیم کو ایک بھارتی شہری کے ہاتھ لگائے گئے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد انھوں نے ہاتھ عطیہ کرنے والے شخص کے خاندان سے ملاقات کر کے ان کا شکریہ ادا کیا اور میں ساریزندگی ان کا احسان مند رہوں گا۔آپریشن کی فیس اور دوسرے اخراجات کے بارے میں انھوں نے کہا: ’افغان حکومت کی جانب سے کوئی خاص مالی مدد نہیں ملی، تمام اخراجات انھوں نے خود، اپنے دوستوں اور اپنے علاقے کے لوگو ں کی مدد سے جمع کیے۔‘ انھوں نے بتایا کے آپریشن کے بعد مسلسل مبارکباد وصول کر رہے ہیں۔
مزید پڑھئے:پیار کی باتیں مکڑا بھی کرتا ہے
عبدالرحیم نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پوری طرح صحت یاب ہونے کے بعد پھر سے پولیس سروس میں شامل ہو جائیں۔عبدالرحیم نے کہا کہ آپریشن کے بعد انھوں نے اپنے پرانے دستخط بھی کیے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے چار بیٹے بھی خاندان کے دوسرے افراد کی طرح اس کامیاب آپریشن پر بہت خوش ہیں۔



















































