فیری چیمنیز، ترکی:
ترکی کے علاقے وسطی انتولیا کے شہرکیپا ڈوشیا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں زیر زمین پریوں کا بسیرا تھا اور ہوا کی آمدو رفت کے لیے چمنیاں لگائی گئی تھیں جب کہ اس جگہ کو تلواروادی، وادی محبت اور وادی گلاب میں تقسیم کیا گیا۔ اس خوبصورت علاقے میں سیاحوں کی سہولت کے لیے گھوڑے اور گائیڈز موجود ہوتے ہیں۔
چمکدار بڑے پیلے بہتے چشمے، امریکا:
امریکی ریاست ویو منگ میں پہلی نظر میں ابلتے ہوئے لاوا کی طرح نظر آنے والے سرخ اور پیلے گرم چشمے دنیا کے تیسرے بڑے چشمے ہیں جو اپنی دلکشی کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ان کا پیلا رنگ، سرخ، اورنج، سبز اورنیلے رنگ کے شیڈ سورج کی روشنی میں کسی قوس و قزح کا سا حسین منظر پیدا کردیتے ہیں جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔ 40 میل پرپھیلے اس خوبصورت چشموں کا سب سے حسین اور سانسیں روک دینے والا منظرگول پیالے کی مانند نیلے رنگ کے چمشے کے باہر سبز، اورنج، سرخ اور سبز شیڈ ہیں
ڈالول، ایتھوپیا:
ایتھوپیا کے شمال مشرقی علاقے ارٹا ایلے رینج کی ڈالول ہائیڈروتھرمل فیلڈز اپنی ساخت اور رنگوں کے دلکش امتزاج کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس کا پیلا رنگ سلفر اور سفید رنگ نمک کی وجہ سے نظر آتا ہے جب کہ اس پر موجود چٹان اونٹ کی کوہان کی طرح اٹھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
زانگے ڈینکسیا لینڈ فارم، چین:
بچپن میں ڈٓرئنگ کرتے ہوئے تو آپ نے کئی رنگ کی چٹانیں تخلیق کی ہوں گی لیکن کبھی آپ نے حقیقت میں دیکھنے کا کبھی تصور نہیں کیا ہوگا لیکن حقیقت میں ایسی دلکش اور حسین رنگ برنگی چٹانیں چین کے صوبے زانگے میں موجود ہیں جنہیں دیکھ کر پہلی نظر میں تو یقین ہی نہیں آتا لیکن اس کے درمیان سفر کرتے ہوئے الف لیلیٰ کے طلسماتی پہاڑون کا گمان ہونے لگتا ہے۔ 2 کروڑ سال سے قدیم یہ چٹانیں سرخ ریتلی چٹانوں اور معدنیات سے بھری ہوئی ہیں جو چین کے لیے قیمتی خزانے سے کم نہیں۔
پونٹے ڈل انسا، ارجنٹائن:
ارجنٹائن میں واکاس اور میڈوزا کے دریا پر بن جانے والا قدرتی پل اور اس کے نیچے سے بہتا ہوا گرم پانی کا چشمہ دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ مشہور سیاح چارلس ڈارون نے 1835 میں یہاں کا دورہ کیا اور اعتراف کیا کہ اس چشمے کے پانی میں بہت شفا ہے اور اسی لیے لوگوں کی بڑی تعداد اس چشمے کے پانی سے نہاتی ہے۔
























































