جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

اسامہ بن لادن کے خفیہ خطور حیرت انگیز انکشافات

datetime 22  مئی‬‮  2015 |

بدھ کے روز پوشیدہ نہ رہنے والے ایک خط میں، جسے ‘سی آئی اے’ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے، ‘اے ایف پی’ کو فراہم کیا، جس کی آزادانہ طور پر توثیق یا تصدیق نہیں کی جاسکتی، بن لادن نے ایران کے سفر پر اپنی ایک بیوی کو محتاط رہنے کا انتباہ جاری کیا تھا، کیونکہ ‘اب خفیہ سن گن لینے والے چھوٹے چپس بن چکے ہیں، اتنے باریک کہ وہ آسانی کے ساتھ ایک سرنج کے اندر سما سکتے ہیں۔ ‘انھوں نے یہ خط ستمبر2010ء میں تحریر کیا تھا۔ اس خط کا ترجمہ خود ‘سی آئی اے’ نے کیا ہے۔
بن لادن نے انھیں بتایا کہ ‘سب چیزیں پیچھے چھوڑ دو’، کیونکہ ‘ایرانیوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ عین ممکن ہے کہ جس سامان کو آپ اہنے ہمراہ لائی ہو اس میں کوئی ایسا چپ نصب نہ کر دیا گیا ہو’۔یہ خط ان بیسیوں چیزو ں میں سے ایک ہے، جو دو مئ2011ء کو امریکی کمانڈوز کی جانب سے پاکستان کے شہر، ایبٹ آباد میں لادن کے گھر پر چھاپے کے دوران دیگر انٹیلی جنس مواد کے ساتھ برآمد ہوا، جس شہر میں پاکستانی فوج کی چھاﺅنی ہے۔ اس چھاپے کے دوران بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا۔
دیگر خطوط میں، کبھی کبھار بن لادن اپنے اڑیل ساتھیوں کو وضاحت پیش کیا کرتے تھے کہ سکیورٹی کیوں اشد ضروری ہے، اس وقت بھی جب عالمی جہاد کی کارروائی کو جاری رکھنا مشکل مرحلہ تھا۔بقول ان کے، ‘خط و کتابت کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال توجہ طلب معاملہ ہے۔ عام پیغامات کے لیے تو یہ ٹھیک ہے، لیکن مجاہدین کی رازداری کا تقاضا اسکی اجازت نہیں دیتا، جس کے لیے خاص پیغام رساں کی خدمات لینا ہی واحد طریقہ باقی ہے’۔عبد الرحمٰن القائدہ کے ایک کمانڈر تھے، جنھیں محمود اور بن لادن کا دست راست کہا جاتا تھا۔ وہ اس حد تک محتاط طریقہ کار پر ناخوش تھے۔اپنے ایک خط میں آن لائن خبررسانی پر زور دیتے ہوئے، عبد الرحمٰن کہتے ہیں، ‘یہ معاملہ بہت ہی گنجلک ہے۔ ہم الجیریا، عراق، یمن اور صومالیہ کے بھائیوں سے کس طرح رابطہ کر سکتے ہیں؟’بقول ان کے، کبھی کبھی، احتیاط برتتے ہوئے بھی، ہمارے پاس اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ جہاں تک عراق کا تعلق ہے، ہم ایسا ہی کریں گے۔ البتہ، یہ ہے بہت ہی مشکل کام’۔تاہم، اس موضوع پر، بن لادن انتہائی سخت روی کا مظاہرہ کرتے تھے۔
امریکی فوج نے بن لادن کو ہلاک کیا، جو اس شدت پسند تنظیم کے سربراہ تھے جس نے 11 ستمبر2001ء کو امریکہ پر دہشت گرد حملے کیے، جن میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے۔امریکی ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین، ڈیون نیونز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ، ‘یہ بات عین امریکہ عوامی مفاد میں ہے کہ ہمارے شہری، دانشور، صحافی اور تاریخ داں وقت نکال کر بن لادن کی دستاویزات کو پڑھیں اور سمجھیں’۔نیونز نے کہا کہ بدھ کو جاری کی جانے والی 86 نئی رپورٹوں کے بعد، ڈی کلاسیفائیڈ ہونے والی رپورٹیں کی مجموعی تعداد 120 ہو جاتی ہیں، جو، بقول ان کے ‘درست سمت ایک قدم ہے’۔انھوں نے مزید کہا کہ میں اس بات کا متمنی ہوں کہ یہ جاری کوششیں بارآور ثابت ہوں اور ایبٹ آباد سے متعلق سینکڑوں باقی رپورٹیں جلد ڈی کلاسیفائیڈ ہوں، تاکہ کانگریس کے ارکان کی ضرورت پوری کی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…