مولانا مدنی نےکہا کہ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ہم کرایہ دار نہیں ہیں۔ ہم اس کے مالک ہیں۔ ہم ہندوستانی اتفاقی طور پر نہیں ہیں، ہم نے ہندوستانی ہونا پسند کیا ہے۔ ہم یہی اس حکومت کو بتانا چاہتے ہیں۔‘گذشتہ دنوں دہلی میں جميعت علمائے ہند کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس میں ملک کے کئی سرکردہ مسلم رہنماؤں نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز بیانات اور مذہبی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نے کہا کہ ’کئی ہندو تنظیم مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہیں اور حکومت خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مدرسوں کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے لیکن مسلمانوں کو صبر و تحمل دامن ہاتھ سے جانے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ کانفرنس میں آچاریہ پرمود كرشنم اور سوامی اگنی ویش نے بھی فرقوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی مذمت کی۔ مسلم لیڈروں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے مذہبی اداروں کو تحفظ فراہم کرے اور بعض ہندو تنظیموں کی مذہبی جارحیت اور نفرت پھیلانے کی کوششوں پر روک لگائے۔
مزید پڑھیے:دنیا کا واحد جہاز میوزیم
اگرچہ وزیر اعظم نریندر مودی گذشتہ مہینوں میں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ آئین کے تحفظ کے پابند ہیں لیکن گذشتہ دنوں اقلیتی فرقوں کے خلاف حملوں میں تیزی آئی ہے۔



















































