یاسر عرفات

فلسطینی کاز کے لئے پہلے گوریلا اور بعد میں عوامی جدوجہد کی قیادت کرنے والے یاسر عرفات کو 1994 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا لیکن یہ انعام بھی اسرائیل کے ساتھ بانٹا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ 3 شخصیتوں کو ملا تھا جن میں یاسر عرفات کے علاوہ اسرائیل کے شمیون پیریز اور ایزک رابن کو بھی حصہ دار بنایا گیا تھا۔
شیرین عبادی

ایران کی وکیل، سابق جج، انسانی حقوق کارکن کو 2003 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ ایران میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر یہ انعام دیا گیا۔ وہ اسلام کے دائرے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار ہیں۔ انہوں نے اس ایوارڈ کو اسلام پرست خواتین کی جدوجہد کو بین الاقوامی اعتراف قرار دیا تھا۔ یہ ایوارڈ عبادی کو ایسے وقت دیاگیا تھا جبکہ عالمی میڈیا میں قیاس کیا جارہا تھا کہ یہ ایوارڈ پوپ جان پال دوم کو دیاجائے گا۔
محدم البردعی
ماہر قانون، سفارتکار، مصر کے سابق نائب صدر کو یہ ایوارڈ 2005 میں اس وقت دیاگیا جب انہوں نے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے دنیا میں نیو کلیئر ہتھیاروں کے پھیلاو کے خلاف عالمی کوششوں کی، قیادت کی خاص طور پر ایران جیسے ممالک کو نیو کلیئر طاقت بننے سے روک کر عالمی ستائش حاصل کی اگرچہ اس دور میں پاکستان، ہندوستان جوہری طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
محمد یونس
بنگلہ دیش کے بینکر، جنہوں نے چھوٹی بچتوں اور چھوٹے قرض کے نظریے کو فروغ دے کر خاص طور پر خواتین کو خود مکتفی ہونے میں مدد کی۔ 2006 کا امن کا نوبل انعام ان کو دیاگیا۔ محمد یونس نے گرامین بینک کے کئی خواتین کی زندگیوں میں تبدیلیاں لائی ہیں۔ ان کے اس نظریے کو ہندوستان میں بھی اختیار کیا گیا اور اپنی مدد آپ گروپس قائم کئے گئے۔
توکل عبدالسلام کرمان
ایک یمنی صحافی ہے۔ اس خاتون نے یمن میں بحیثیت سیاست داں جو جدوہد شروع کی اس کو تسلیم کرتے ہوئے 2011 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ کرمان کے علاوہ افریقہ کی مزید دو خواتین ایلن جانسن اور لیما گبوائی کو بھی دیا گیا جنہوں نے اپنے براعظم میں خواتین کے حقوق کیلئے زبردست جدوجہد کی تھی۔ 32 سالہ کرمان اس وقت یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی سب سے سے کم عمر خاتون تھیں۔
ملالہ یوسف زئی

9 اکتوبر2012ء کو چند شقی القلب دہشت گردوں نے 15سالہ ملالہ کو گولیاں مار کر قتل کرنے کی کوشش کی‘ جو سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کر رہی تھی۔ معجزانہ طور پر اس کی زندگی محفوظ رہی‘ابتدائی علاج کے بعد مزید علاج کے لیے اسے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال بھجوا دیا گیا۔ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے2014ء کا نوبل امن انعام ملالہ یوسف زئی اور ہندوستان کے کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔ نوبل انعام کی تاریخ میں ملالہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت ہیں۔



















































