جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

یوم سوگ یا عہدِ سوگ؟

datetime 15  مئی‬‮  2015 |

جو ایران اور سعودی عرب سمیت پورے خطے میں فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے آئے۔‘اب سوال یہ ہے کہ اس نئی حکمت عملی پر کارفرما گروہ کون ہیں؟ اب تک حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے دونوں گروہوں یعنی جنداللہ اور دولت اسلامیہ کے بیانات بظاہر مصدقہ نہیں۔کامران بخاری کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کا دعویٰ تو بعید از قیاس لگتا ہے لیکن جنداللہ اس قسم کے حملے کرنے کی قابلیت کا ماضی میں بھی مظاہرہ کر چکا ہے۔لیکن عارف رفیق کے مطابق ’جب تک کوئی گروہ باقاعدہ ثبوت کے ساتھ ذمہ داری قبول نہ کرے، مثلاً حملہ آوروں کے بارے میں قابل تصدیق معلومات، اس کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ میری رائے میں یہ حملہ آور باقاعدہ کسی تنظیم سے نہیں بلکہ اپنی ہی ڈگر پر چلنے والے جہادی تھے۔‘لیکن عارف رفیق کے خیال میں اگر ان حملہ آوروں کا دولت اسلامیہ سے براہ راست تعلق نہیں بھی تو ان کا طریق واردات پاکستانی جہادیوں پر دولت اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی چھاپ کا اشارہ ضرور دیتا ہے۔’حملہ انتہا پسندوں میں ایک طرح کی مایوسی اور اپنی طاقت کے فوری اظہار کی شدید ضرورت کا عندیہ دیتا ہے‘وزیراعظم نواز شریف نے کراچی حملے پر جمعرات کو ملک بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا لیکن ایسے سوگ عام طور پر

04

شاذونادر ہونے والے المناک واقعات کے لیے ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایسے واقعات کب سے روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔پاکستانی یہ حقیقت کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں کہ اسماعیلی برادری پر اتنا بڑا حملہ انوکھا ضرور ہے لیکن اس کے پیچھے کارفرما زہریلی سوچ پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔دہشت گردی کے واقعات پر نظر رکھنے والے ساو¿تھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق پچھلے برس 200 سے زیادہ لوگ فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھے تھے۔ لیکن اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں ہی انتہا پسند اس ہدف کو پار کر چکے ہیں۔ حالیہ دور میں فرقہ واریت کے اعتبار سے 2013 پاکستان کا تاریک ترین سال تھا جب 525جانیں ضائع ہوئی تھیں۔اور اسماعیلیوں پر حملے کے بعد خدشہ یہ ہے کہ موجودہ سال 2013 سے بھی زیادہ خونریز ہو سکتا ہے۔ پاکستانی یقیناً یہ دعا کر رہے ہوں گے کہ ملک کے سکیورٹی ادارے اپنی انسدادِ شدت پسندی کی حکمت عملی طے کرتے وقت اس حملے کو اس پس منظر میں دیکھ سکیں۔
جمعرات 14 مئی پاکستان میں یوم سوگ ضرور ہے لیکن ملک بھر میں پھیلی فرقہ وارانہ آگ کے تناظر میں پاکستانی یوم سوگ سے نہیں، عہدِ سوگ سے گزر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…