’’جھانسی کی رانی نے17جون1858ء کو لڑتے ہوئے جان قربان کر دی‘ جنرل ہیوگ روز جس نے ان کو ہرایا تھا ‘ رانی کی تعریف یوں کی ’’ مردہ پڑی یہ وہی عورت ہے جوباغیوں میں واحد مرد تھی‘‘
صرف انگریزوں سے نفرت کرنے کی وجہ سے باغیوں میں وقتی اتحاد پیدا ہوا تھا‘ اس کے علاوہ نہ ان کے سامنے کوئی سیاسی نظریہ تھا اور نہ مستقل کا واضح نقشہ وہ صرف اپنے ماضی کے جاہ و جلال کے تصور میں غرق تھے اور اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو حاصل کرنے کے لئے برسرجنگ تھے‘ سیاسی نظام قائم کرنے کی اہلیت ان میں مطلق نہیں تھی ان کے بارے میں جان لارنسن نے بہت سچ کہا تھا’’ اگر ان میں ایک بھی باصلاحیت لیڈر نکل آتا تو ہم ہمیشہ کیلئے ہار جاتے‘‘۔
ایسا مقدر میں ہی نہیں تھا بہرحال باغیوں نے بے مثل ہمت ٗ بہادری ٗ ایثاروقربانی کا مظاہرہ کیا ان میں سے ہزاروں نے اپنے عزیز ترین مقصد کے حصول کیلئے بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے موت کو گلے لگالیا ان کی اولوالعزمی سے کہیں ز یادہ طاقتور برٹش فوج کی جوابی کارروائی تھی‘ سب سے پہلے 20ستمبر1857ء کو دہلی کا زوال ہوا۔ طویل اور گھمسان لڑائی کے بعد بہادر شاہ نے ہمایو ں مقبرہ میں پناہ لی ان کوگرفتار کر کے برما بھیج دیاگیا چونکہ دہلی باغیوں کی مجموعی پناہ گاہ تھی‘ اس لئے انگریزوں کا اس پر قبضہ ہوتے ہی بغاوت کی کمر ٹوٹ گئی۔ برٹش فوج نے ایک کے بعدایک مرکز پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ جھانسی کی رانی نے17جون1858ء کو لڑتے ہوئے جان قربان کر دی۔ جنرل ہیوگ روز جس نے ان کو ہرایا تھا نے رانی کی تعریف یوں کی ’’مردہ پڑی یہ وہی عورت ہے جوباغیوں میں واحد مرد تھی‘‘ ۔نانا صاحب نے ہار نہیں مانی اور وہ شروع1859ء میں یہ امید لے کر نیپال چلے گئے کہ وہ دوبارہ جنگ کریں گے۔ کنورسنگھ نے ضعیفی کے باوجود بڑی چستی دکھائی اور آخری سانس یعنی اپنی موت9مئی1858ء تک انگریزوں کو پتا نہیں چلنے دیا کہ وہ کہاں ہیں؟ اپریل1859 ء تک تانیتاٹوپے نے بڑی کامیابی سے انگریز کے ساتھ گوریلا لڑائی جاری رکھی مگر ایک ز میندارکی دغابازی سے وہ انگریزوں کے ذریعہ پکڑ کر شہید کر دئیے گئے۔
’’صرف انگریزوں سے نفرت کے باعث باغیوں میں وقتی اتحاد پیدا ہوا‘ ورنہ ان کے سامنے کوئی سیاسی نظریہ تھا اور نہ مستقل کا واضح نقشہ‘ وہ صرف ماضی کے تصور میں غرق تھے اورعظمت رفتہ کے لئے برسرجنگ تھے‘ سیاسی نظام قائم کرنے کی اہلیت ان میں مطلق نہیں تھی ‘ان کے بارے میں جان لارنسن نے کہا تھا ’’ اگر ان میں ایک بھی باصلاحیت لیڈر نکل آتا تو ہم ہمیشہ کیلئے ہار جاتے‘‘۔
اس طرح ہندوستان میں انگریزی سلطنت کے سب سے بھیانک چیلنج کا خاتمہ ہوا‘ اب صرف قیاس آرائی ہی باقی ہے کہ انگریزوں کے خلاف اگر ہندوستانیوں کی بغاوت کامیاب ہو جاتی تو تاریخ کی سمت کیا ہوتی؟ اگر بغاوت نے تاریخ کے رخ کو مخالف سمت میں موڑ کر پرانے جاگیردارانہ نظام کو پھر سے قائم کر دیا ہوتا تو کیا نتائج نکلتے؟ یہاں ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی اتنا تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ تمام تر خامیوں ا ور کمزوریوں کے باوجود بدیسی حکومت سے ملک کو آزاد کروانے کی سپاہیوں کی کوشش حب الوطنی کا واضح ثبوت ہے ۔ یہ ترقی پسندی کے تحت کیاگیا اہم کام تھا۔ اگرکسی تاریخی واقعہ کی اہمیت کو اس کی اہمیت کی فوری کامیابی تک محدود نہ کیا جائے تو 1857ء کی بغاوت صرف تاریخی ٹریجڈی نہیں بلکہ اپنی تمام ناکامیوں کے باوجود اس نے ایک عظیم حوصلہ دیا جس کے تحت بعد میں وہ کچھ حاصل کرلیاگیا جو بغاوت میں حاصل نہیں ہواتھا۔



















































