بغاوت سے پہلے چاہے کوئی منصوبہ نہ رہا ہو یا کوئی جماعت نہ بنائی گئی ہو مگر بغاوت کے شروع ہوتے ہی باغیوں نے جتھہ بندی کی کوشش ضرور شروع کر دی تھی‘ دہلی پر قبضہ ہوتے ہی پاس پڑوس کی سبھی ریاستوں اورراجستھان کے حکمرانوں سے خط و کتابت کے ذریعہ بغاوت میں حصہ لینے اور مدد کرنے کی اپیل کی گئی۔ دس ممبروں پر مشتمل دہلی میں ایک انتظامیہ کمیٹی قائم کی گئی ان کے چھ ممبران فوج سے اور چار سول صیغوں سے لئے گئے تھے ‘ان کے فیصلے کثرت رائے سے ہوتے تھے اور سارے کام کاج شہنشاہ کے نام پر کئے جاتے تھے اس کے بارے میں ایک انگریز افسر نے لکھا تھا ’’دہلی سرکار کی شکل آئینی فوج شاہی جیسی تھی‘ بادشاہ تو بادشاہ ہی تھا اور وہ اسی طرح معزز تھا ‘اس کا مرتبہ آئینی شہنشاہ جیسا تھا پارلیمنٹ کے بجائے اس کے پاس فوجیوں کو ایک کونسل تھی جسے تمام اختیارات حاصل تھے اور بادشاہ کسی بھی طرح فوجی کمانڈر نہیں تھا‘‘۔اسی طرح دوسری جگہوں پر بھی انتظامیہ کمیٹی بنانے کی کوشش کی گئی۔
بہادر شاہ کو باغیوں کے سبھی لیڈر اپنا شہنشاہ تسلیم کرتے تھے۔ انہیں کے نام کے سکے ڈھالے جاتے اور احکامات جاری کئے جاتے تھے ‘بریلی میں خان بہادر خان‘ مغل شہنشاہ کے نام پر حکومت چلاتے تھے ‘دوسری خاص بات یہ تھی کہ باغی چاہے میرٹھ یا کانپور میں ہوں ان کی پہلی خواہش دہلی جانے کی ہوتی تھی سیاسی ادارہ یا انتظامیہ کی ضرورت سبھی باغی شدت سے محسوس کرتے تھے‘ جس سے کہ وہ ہاتھ آئی ہوئی کامیابی کو محفوظ کر سکیں مگر انگریزوں کے جوابی حملے سے انہیں موقع ہی نہیں ملا کہ وہ اپنے سحاب نما دھندلے خیالات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔
باغیوں نے ایک سال سے بھی زیادہ مدت تک سخت دشواریوں کے باوجود اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی ان کے پاس گولہ بارود اور نئے ہتھیار حاصل کرنے کی کوئی سبیل نہیں تھی‘ انہوں نے جو سازوسامان برٹش ہتھیار خانوں سے حاصل کیا تھا ‘وہ بہت دنوں تک نہیں چل سکا۔ وہ ایسے دشمن سے مقابلہ کررہے تھے جو جدید ترین اسلحہ سے لیس تھا اور وہ اس سے صرف معمولی بلم‘ برچھا اور تلوار سے برسرجنگ تھے‘ ان سب کمیوں کے علاوہ خبر رسانی کا تیز رفتار بذریعہ ان کے پاس نہیں تھا ‘وہ بروقت اپنے لوگوں سے رابطہ نہیں قائم کر سکتے تھے نیز وہ ان کی طاقت اور کمزوریوں سے بھی ناواقف تھے‘ اسی وجہ سے وہ مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کیلئے نہیں پہنچ سکے ‘ہر ایک کو اپنی لڑائی اکیلے ہی لڑنا پڑی۔
اگرچہ باغیوں کو لوگوں کی کثیر تعداد کی ہمدردی حاصل تھی پھر بھی پورا ملک ان کے ساتھ نہیں تھا ‘تجارت پیشہ تعلیم یافتہ اور دیسی حکمران نہ صرف خاموش اور الگ تھلگ رہے بلکہ بڑی سرگرمی سے انگریزوں کی مدد کی۔
ان کے ذریعہ کلکتہ ا ور ممبئی میں میٹنگیں کی جاتیں‘ اور ان کی فتح کی دعائیں کی جاتی تھیں۔ ریاست ہڑپ پالیسی کے باوجود حکمران انگریزوں کے ساتھ تھے ‘ان کے ساتھ وہ ا پنا مستقبل محفوظ سمجھتے تھے انہوں نے اپنی فوج اور دیگر ذرائع سے کھل کر ان کی مدد کی تھی اگر یہی مدد سپاہیوں کو ملی ہوتی تو انہو ں نے یقیناً زیادہ اچھا مقابلہ کیا ہوتا۔
سپاہیوں کی قریباً آدھی تعداد نے نہ صرف بغاوت کی بلکہ اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف جنگ بھی کی۔ پانچ فوجی دستے جن میں سترہ سوانگریز اور تین ہزار دوسو ہندوستانی جوان تھے کی مدد سے انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کرلیا۔ کشمیری گیٹ کو بم سے اڑانے کاکام چھ انگریز افسروں اور چوبیس ہندوستانیو ں نے انجام دیا۔ ہندوستانیوں میں دس پنجابی اور بقیہ آگرہ و اودھ کے تھے۔ سچ تویہ ہے کہ جھانسی کی رانی یا کنور سنگھ یا احمد اللہ جیسے کچھ معزز لوگوں کو چھوڑ کر سپاہیوں کو کوئی مدد ان کے لیڈروں کے ذریعے نہیں ملی۔ ان کے زیاد تر لیڈروں نے بغاوت کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں‘اس لئے وہ بہت کچھ کرنے سے باز رہے۔ بہادر شاہ اور زینت محل کو اپنی فوج پر بھروسہ ہی نہیں تھا وہ اپنی حفاظت کے لئے انگریزوں سے گفت و شنید کرتے رہے‘ زیادہ تر تعلق داروں کو اپنی غرض سے مطلب تھا اور مان سنگھ جیسے لوگ تو حالات کے مطابق پلڑابدلتے رہے۔



















































