سپاہیوں کی بے اطمینانی فوج ہی تک محدود نہیں تھی عوام میں بھی بڑا غم وغصہ تھا‘ حقیقت میں سپاہی فوجی وردی میں کسان ہی تو تھا ‘وہ گاؤں کی آبادی اور مٹی سے جڑا تھا ایک فوجی افسر نے ڈلہوزی کو اس کی پالیسی کے ردعمل کے امکانی نتائج سے اس طرح خبردار کیاتھا’’ آپ کی فوج ملک کے کسان باشندوں سے بنی ہے‘ کسان کے اپنے حقوق ہیں‘ اگر ان میں دست اندازی کی گئی تو آپ بہت دنوں تک فوج کی وفاداری پر بھروسہ نہیں کرسکتے‘ اگرآپ ہندوستان کے دستور و رواج میں مداخلت کرتے ہیں تو فوج ان کی ہمدرد ہو جائے گی کیونکہ فوج تو انہیں میں سے بنی ہے اور اس طرح لوگوں کے حقوق کی پامالی کا مطلب ہے ‘فوجیوں کی خود یا ان کے بیٹوں یا ان کے رشتہ داروں کے حقوق کی پامالی‘‘۔
ان دنوں اودھ کے قریباً ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد فوج میں بھرتی تھا‘ ایسے فوجیوں کی تعداد75 ہزار تھی اودھ میں ہونے والا واقعہ ان سپاہیوں کو متاثر کرتا تھا‘کاشتکاری کے نئے قانون جن کے تحت ضبط شدہ اراضی کو خیراتی اداروں کو دے دیا گیا تھا ‘اس سے ان کی خوشحالی بہت متاثر ہوتی تھی ایسے سخت قانون کے خلاف فوجیوں کی طرف سے پندرہ ہزار عرضیاں دی گئی تھیں ‘دہلی میں باغیوں کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ سپاہی انگریزی حکومت کی زیادتی کے خلاف کس قدر چوکنا تھے اور فوجی کسی نہ کسی طرح عوام سے جڑے تھے۔
سپاہیوں کی بغاوت کے ساتھ غیر فوجی بغاوت خصوصیات سے شمال مغربی صوبوں اور اودھ میں شروع ہو گئی۔ صرف مظفر نگر اورسہارنپور اس سے مستثنیٰ تھے مغربی صوبے اور اودھ دو ایسے علاقے تھے جہاں سے لوگ بنگال فوج میں بھرتی کئے جاتے تھے ا س طرح سپاہیوں کی بغاوت چل پڑ ی‘ سپاہیوں کی بغاوت سے دیہی آبادی سرکاری خوف اور انتظامیہ کے اقتدار سے آزاد ہو گئی۔ اپنی دیرینہ پریشانیوں اور مصیبتوں کے اظہار کے لئے اس کی بھیڑ سڑکوں پر نکل پڑی۔ سرکاری عمارتیں برباد کر دی گئیں خزانہ لوٹ لیا گیا ہتھیاروں کا گودام تباہ کر دیاگیا ‘بیرکس اورعدالتیں جلا دی گئیں اورجیل کے پھاٹک کھول دئیے گئے ‘انگریزوں کے خلاف بغاوت کا اثر سماج کے ہر ایک طبقہ پر پڑا ‘زمیندار ٗ کسان ٗ دستکار ٗ مذہبی پیشو ا‘ پجاری ٗ نوکرپیشہ لوگ ٗدکاندار اور ملاح سبھی اس بغاوت میں شامل ہو گئے۔اس طرح سپاہیوں کی یہ بغاوت عوامی بغاوت بن گئی۔
اس عوامی بغاوت کا سبب برٹش حکومت کے طورطریقوں میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔اس کے جبر و ظلم سے سماج کے سبھی لوگ بری طرح متاثر تھے‘ لگان کے بوجھ سے کسان پست تھا وہ قرض پر قرض لے کر برابر تنگ حال ہوتا جا رہا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا واحد مقصد کم سے کم کوشش سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا تھا ۔کھیت کی پیداوار کا لحاظ کے بغیر یہ بندوبست کیاگیا کہ ٹیکس جلد سے جلد وصول کرلیا جائے مثلاً1812ء میں بریلی ضلع میں ٹیکس وصول کرنے کا کام صرف دس ماہ میں پورا کرنے کا ریکارڈ قائم کیاگیا ‘ٹیکس کی شرح بڑھادی گئی اس کے نتیجہ میں چودہ لاکھ بہتر ہزار ایک سو اٹھاسی روپے زیادہ وصول ہوئے ‘سرکار نے خوش ہو کر ٹیکس محصلین کو ان کی انتھک محنت اور سرگرمی کے لئے شاباشی دی‘ اس نے اس بات پر مطلق غور نہیں کیا کہ اتنی بڑی رقم اتنے کم دنوں میں کیسے وصول کی گئی اور کسان پر اس کا کتنا برا اثر پڑا؟ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ افسروں نے ٹیکس وصول کرنے کی غرض سے لوگوں پر بے حد ظلم ڈھائے تھے ‘ان لوگوں سے بھی ڈنڈوں کے زور سے ٹیکس وصول کیاگیا جن کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں تھا ۔روہیل کھنڈ میں1848-56ء کے دوران دو لاکھ تینتیس ہزار تین سو اٹھاسی روپوں کی رقم جبراً وصول کی گئی ان کی تنگ دستی کا سرکار کو کچھ بھی خیال نہیں تھا‘ اس کو تو صرف ٹیکس سے دلچسپی تھی بے حد خراب حالات میں کہیں کہیں معافی دی گئی‘ ایک کلکٹر نے اپنے علاقہ کی بنجر زمین کے بارے میں بارہا یہ رپورٹ حکومت کو دی کہ’’ گھاس کے علاوہ کوئی فصل وہاں نہیں اگتی ہے‘ اس لئے وہ ٹیکس وصول کرنے میں لاچار ہے ‘‘اس اطلاع پر اسے کہاگیا کہ ’’گھاس تو اچھی پیداوار ہے اسی کو فروخت کر کے ٹیکس وصول کیا جائے ‘‘۔
صرف کسان ہی پریشان نہیں تھے زمیندار بھی انگریز حکومت سے عاجز تھے ‘انہوں نے کم نقصان نہیں اٹھایا تھا۔ اودھ جو بغاوت کا خاص مرکز تھا کے تعلق داروں کی جاگیریں ضبط کرلی گئی تھیں ان کے پاس آمدنی کاکوئی ذریعہ نہیں بچا تھا ‘وہ بیچارے کام کر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگ نہیں سکتے تھے ‘پوری طرح کنگال بنا دئیے گئے تھے مجبور اً انہوں نے ہندوستانی سپاہیوں کی حمایت کی اور بغاوت میں ان کے ساتھ اس امید پر ہولئے کہ شاید ان کی کھوئی ہوئی جاگیر مل جائے۔
دستکار اورکاریگر بھی انگریز حکومت کی وجہ سے مصیبت اور پریشانی میں تھے‘ وہ بے سہارا ‘لاچارو مجبور تھے ان کی جاگیریں ضبط کر لی گئی تھیں ۔اس کے علاوہ انگریز حکومت کی پالیسی دیسی دستکاروں کی پستی کا سبب بنی ہوئی تھی اس کا مقصد ہی یہاں کی دستکاری کو برباد کرکے ا نگریزی ثقافت کو ترقی دینا تھا۔
ملک کے ماہر دستکار اس طرح روزی روٹی سے محروم کر دئیے گئے‘ بیچارے دوسرے کام میں روزگار تلاش کرنے لگے مگر روزگار تھا کہاں؟ جس تیزی سے دستکاری ختم ہوئی تھی‘ اتنی تیزی سے کارخانوں کا قیام نہیں ہوا تھا۔
افادیت پسندی کے تحت حکومت کی سماج سدھار سرگرمی نے ہندوستانی عوام کو بری طرح ناراض اور بدظن کر دیا تھا سبھی راسخ العقیدہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈر سماگیا تھا کہ حکومت عمرانی قانون بنا کر ایک طرف ان کے مذہب اور کلچر کوبرباد کرنے پر تلی ہے اور دوسری طرف عیسائی تبلیغی اداروں کو عیسائیت پھیلانے کے لئے مدد کررہی ہے ‘اس طرح سبھی کٹر مذہبی لوگ انگریزی حکومت کے خلاف صف آرا ء ہو گئے ‘اس بات کا صاف صاف ذکر باغیوں کے اعلانات میں بخوبی ملتا ہے۔
اس طرح عوام اور سپاہیوں کی ساجھی بغاوت 1857ء میں جذباتی ابال کا بے مثال مظاہرہ تھا‘ اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ یہ بغاوت اچانک ہوئی یا منصوبہ بندی طریقے سے کی گئی؟
منصوبہ بند اور منظم تو اس لئے نہیں تھی کہ باغیوں نے اس کے بارے میں کوئی پختہ ثبوت نہیں چھوڑا ‘اور ان کے لیڈروں کے کام کرنے کا طریقہ بھی ایسا نہیں لگتا ہے کہ انہوں نے پہلے سے اس کیلئے کوئی منصوبہ بندی یاپروگرام بنایا ہو‘ اگر انہوں نے ایسا سوچا بھی ہوتا تو بس وہ ان کے ذہن میں ابتدائی حالات میں ہی رہا ہوگا۔
سپاہی جب میرٹھ سے دہلی پہنچے تو بہادر شاہ ظفر کو بڑی حیرت ہوئی اس کی خبر انہوں نے فوراً لیفٹیننٹ جنرل کو بھیج دی ۔یہی کام رانی لکشمی بائی نے کیا۔ انہوں نے باغیوں کے ساتھ آنے میں تھوڑا وقت لیا۔ فیض آباد کے نانا صاحب اور مولوی احمد شاہ نے مختلف چھاؤنیوں سے خفیہ تعلقات بنا لئے تھے ‘انہوں نے بغاوت کرنے کے لئے سپاہیوں کو اکسایا تھا ان سب کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل پایا ہے‘ اسی طرح چپاتیوں اور کنول کے پھول کے ذریعہ خبر رسانی کی بات بھی ناقابل اعتبارہے۔ ہاں یہ بات تو سچ ہے کہ میرٹھ واقعہ کے بعد ایک ماہ کے اندر بغاوت کی چنگاری دور دراز تک پھیل گئی۔



















































