جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

حصول آزادی کی پہلی بڑی جدوجہد 1857ء‎:

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

بغاوت کی یہ لہر صرف بڑے مرکزوں تک ہی محدود نہیں رہی بنگال کی قریب قریب سبھی چھاؤنیوں اور ممبئی کی کچھ چھاؤنیوں کو اس نے اپنی زد میں لے لیا ۔صرف مدراس اس سے دور‘رہا وہاں فوج وفادار بنی رہی اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ انگریز بہادر کے سپاہیوں نے بغاوت کیوں کی جبکہ فوجی نوکری سے ان کی مالی حالت مضبوط ہوتی تھی اور سماج میں ان کا وقار بڑھتا تھا۔غیر یقینی مستقبل کے کئے انہوں نے اپنے فائدوں کو داؤ پر کیوں لگایا؟ اس کا جواب دہلی میں سپاہیوں کے اس اعلان میں ملتاہے’’ہم سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ انگریزوں نے ان دنوں کون سے طریقے اپنا رکھے ہیں ایک تو وہ ساری ہندوستانی فوج کو بے دین کررہے ہیں دوسرا یہ کہ وہ لوگوں کو جبراً عیسائی بنا رہے ہیں اس لئے ہم سب اپنے تحفظ کے لئے متحد ہوئے ہیں اور ہم نے کسی کافر کو زندہ نہیں چھوڑا اور ہم نے دہلی خاندان کی حکومت کو انہی بنیادوں پر دوبارہ قائم کیا ہے‘‘۔
فوج کی ناراضی سب سے پہلے اگست1824ء میں ظاہر ہوئی جب بیرکپور کی 47ویں رجمنٹ کو برما جانے کا حکم ملا اس وقت مذہبی ہندوؤں کا سمندر پارجانا برادری سے اخراج تھا اس لئے سپاہیوں نے برماجانے سے انکار کر دیا‘ چنانچہ رجمنٹ برخاست کر دی گئی اور اس کے لیڈروں کو پھانسی کی سزادی گئی۔ افغان جنگ کے دوران سپاہیوں کے مذہبی جذبات اور بھی زیادہ مجرو ح ہوئے ان کو سب کچھ کھانے کے لئے مجبور کیا جاتا تھا اس لئے جب وہ وطن واپس ہوتے برادری ان کو قبول نہیں کرتی تھی‘ گاؤں اور گھر کے لوگوں کے دلوں میں یہ بات سما گئی تھی کہ انہوں نے برادری کی قدروں اور اصولوں کو بری طرح پامال کیا ہے ‘سیتارام نام کا سپاہی جب افغانستان سے وطن لوٹا تب اس نے خود کو نہ صرف گاؤں بلکہ اپنی بیرک میں برادری سے خارج پایا اس طرح کمپنی بہادر کی فوج میں نوکر ہونے کی ناموری اس کو سماج میں جگہ نہ دلاسکی اور مذہب و ذات برادری کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوئے۔
یہ افواہ بھی پھیلی کہ حکومت بڑی خاموشی سے مذہب تبدیلی کوبڑھا رہی ہے‘ اس سے سپاہی اوربھڑک اٹھے سرکار اور عیسائی مشنری کے گہرے ر شتوں سے افواہ کی تصدیق بھی ہو تی تھی کچھ فوجی چھاؤنیوں میں ان مشینریوں کو عیسائی دھرم کے پرچار اور دوسرے دھرموں کی تنقید کی پوری آزادی تھی۔ سپاہیوں کی ناراضی کا یہ بھی ایک سبب تھا اس کے علاوہ آٹے میں ہڈی کا چوراملائے جانے کی خبر اور انفیلڈ رائفلوں کے استعمال نے سپاہیوں کے شبہ کو مزید بڑھا دیا گریس لگی کارتوسوں کو استعمال کرنے کے پہلے دانت سے کاٹنا پڑتا تھا۔ اس گریس کے بارے میں یہ خبر گرم تھی کہ یہ سور اور گائے کی چربی سے بنی ہوئی ہے۔ ان افواہوں کو دور کرنے کے لئے فوجی افسروں نے کوئی محنت نہیں کی‘ مسلمان اور ہندوسپاہیوں نے یہی محسوس کیا کہ ان کا دین واقعی خطرے میں ہے۔ ان کی ایسی بے اطمینانی صر ف مذہب تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ وہ اپنی تنخواہ اور دیگر مشاہرے سے بھی مطمئن اورخوش نہیں تھے پیادہ سپاہی کو سات اور گھڑسوار کو ستائیس روپے بطور تنخواہ ملتے تھے‘ اسی رقم میں کافی پیسے انہیں اپنی وردی اور خوراک پرخرچ کرنا پڑتے تھے اس طرح آخر میں ا ن کے پاس ایک یادو روپے ہی بچتے تھے ‘اس سے بھی زیادہ ناگوار بات یہ احساس تھا کہ ان کو اپنے ہی درجہ کے انگریز عملہ کو دی جانے والی رعایتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے ان کو ہر سطح پر یہی احساس دلایا جاتا تھا کہ وہ محکوم اور ماتحت ہیں اسی لئے ان کے ساتھ ترقی اوررعایتوں کے سلسلہ میں امتیاز برتا جا رہا ہے۔ ٹی آر ہومز نے لکھا ہے سپاہی جانتے تھے کہ وہ چاہے جتنی بہادری و ذہانت کا ثبو ت دیں ان کو انگریز سپاہی کے برابر تنخواہ نہیں مل سکتی اور ان کی تیس سالہ وفا شعار فوجی خدمت بھی اس کو نئے انگریز افسر کی گستاخ ماتحتی سے نہیں بچا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…