کانپور میں باغیوں نے پیشوا باجی راؤ ثانی کے گود لئے بیٹے نانا صاحب کو بغاوت کی کمان سونپی۔ انگر یز و ں نے نانا صاحب کی وراثت تسلیم نہیں کی تھی اور انہیں پونا سے جلاوطن کر دیاتھا ‘اس وقت وہ کانسپورکے پاس رہ رہے تھے۔ لکھنؤ میں بیگم حضرت محل نے قیادت سنبھالی‘معزول نواب کے لئے عوام میں بڑی ہمدردی تھی انکے بیٹے کی نوابی کا اعلان کیاگیا اور حکومت چلانے کیلئے باقاعدہ بندوبست بھی ہوا‘اہم عہدوں پر ہندو اور مسلمان برابر تعداد میں تعینات کئے گئے۔بریلی میں روہیل کھنڈ کے سابق حکمران کے وارث خان بہادر نے انگریزوں کے خلاف کمان سنبھال لی‘وہ برٹش حکومت کے پنشن یافتہ تھے اس لئے شروع میں انہوں نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انگریز کمشنر کو حکومت کے سرپرمنڈلانے والے خطرے سے بھی آگاہ کیا مگر بغاوت پھیلتے ہی انہوں نے خود انتظام سنبھال لیا اور چالیس ہزار جوانوں کو منظم کر کے ایک مضبوط فوج بنالی اور انگریزوں کے خلاف سختی سے ڈٹ گئے۔
بہار میں جگدیش پورکے زمین دار کنور سنگھ نے بغاوت کی قیادت کی۔ ستر سال کے زمیندار کنور سنگھ کو انگریزوں نے دیوالیہ کی حد تک پہنچا دیا تھا ان کی ساری جائیداد چھین لی گئی تھی ‘بار بار خوشامد کرنے کے باوجودا نگریزوں نے کوئی توجہ نہیں دی تھی اس لئے اندر ہی اندر وہ انگریزوں کے جانی دشمن ہو گئے تھے اگرچہ انہوں نے بغاوت کرنے کا کوئی پروگرام نہیں بنایا تھا مگر جوں ہی باغی سپاہیوں کادستہ دینارپور سے نکلا کنورسنگھ ان کیساتھ ہو گئے۔
بغاوت کی سب سے نمایاں اور عظیم قائدرانی لکشمی بائی تھیں۔ انہوں نے جھانسی میں سپاہیوں کی کمان سنبھالی انگریز گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے ان کے شوہر کے مرنے کے بعدان کے گود لیے منہ بولے بیٹے کو ان کی ریاست کاوارث بنانے سے انکار کر دیا تھا اور ریاست ہڑپ پالیسی کے تحت جھانسی ریاست کو انگریزی سلطنت میں ملا لیا تھا ‘رانی نے اس فیصلہ کو بدلوانے کیلئے ہر چند کوشش کی انہوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ اگر وہ ان کی بات تسلیم کرلیں تو جھانسی کی طر ف سے انگریزوں کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا مگر ان کی اپیل نہیں مانی گئی مجبوراً انہوں نے سپاہیوں سے ہاتھ ملایا اور انگریزوں کی سب سے بھیانک دشمن ثابت ہوئیں۔



















































