جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

چلو چلو بیشکک چلو! جمہوریہ کرغزستان‘ایک تعارف

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

اگست1991 کو غزستان آزاد ہو گیا اور کمیونسٹ پارٹی کے اسکرا کائیف پہلے صدر منتخب ہوئے جو تین مرتبہ (انیس سو اکیانوے ‘ انیس سو پچانوے ‘دوہزار ) میں بھی منتخب ہوئے۔ ان کے دور حکومت میں ملک ترقی کے مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہونے پر عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ دو ہزار پانچ میں عوامی مطالبے کے بعد صدر اسکرا کائیف نے استعفیٰ دے دیا جس کے بعد ہونے والے الیکشن میں کرمنبیک بکائیف بھر پور عوامی حمایت کے ساتھ صدر منتخب ہوئے اور دو ہزار گیارہ میں ہونے والے انتخابات میں الماز بیک اتم بائیو صدر منتخب ہوئے۔
یہاں کی زمین کانوے فیصد سے زیادہ حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے جن کے اوپر پڑی برف‘ ان میں موجود سبزوادیاں ‘نیلے پانی کی جھیلیں ‘بل کھاتے دریا‘چوٹیوں سے گرتا پانی سیاحت کے دلداہ افراد کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ اس کے مشہور شہر اور مقامات میں دارلحکومت بشکیک ‘ نغمہ کول جھیل‘ سلیمان پہاڑ‘ برج بورانا‘ اسیک کل جھیل وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں تربیت یافتہ عقاب کے ذریعے خرگوش کا شکار بہت مقبول ہے۔ کرغیز وزیر سیاحت کے مطابق یہاں پر 2000ء میں تین ملین سے زیادہ سیاح آئے جس سے ملک کو لاکھوں ڈالر آمدنی ہوئی۔ یہاں پر موجود مساجد بھی قابل دید ہیں جن میں دنگن مسجد‘ نیلی مسجد شامل ہیں۔ 2005ء سے لے کر2014ء تک او آئی سی کیجانب سے اس کے دارالحکومت کو اسلامی ثقافت کا دارالحکومت نامزد کیا گیا ہے جو اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے۔
وسطی ایشیاء میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے صوفیاء کرام نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کرغزستانی عوام آج بھی صوفیا سے کافی عقیدت رکھتے ہیں۔ گیارہ سو تہتر صدی عیسوی میں اوش (کرغزستان ) میں صوفی بزرگ حضرت خواجہ سید محمد قطب الدین بختیار کاکی ؒ پیدا ہوئے جنہوں نے تصوف کے پرچار کے لیے کردار ادا کیا جس کی تفصیل چشتیہ سلسلہ کی تصوف پر مبنی مشہور کتاب سیرت اولاولیاء ؒ میں موجود ہے‘ آپ ؒ کا مزار مبارک دہلی میں ہے۔

کرغزستان کی معیشت کی بات کی جائے تو 2013ء کے مطابق اس کی جی ڈی پی شرح قریباً سات فیصد تھی۔ ملکی معیشت زیادہ تر سونے کے ذخائر‘ پن بجلی‘کپاس کی برآمداور سیاحت پر انحصار کرتی ہے‘ کرغزستان میں پہاڑوں میں بہتے دریا ڈیموں کے لیے بہت موزوں ہیں جس کی وجہ سے کرغزستان میں چھوٹے بڑے ڈیموں سے کل بجلی کا اسی فیصد حصہ حاصل ہوتا ہے‘ ان ڈیموں میں ذخیرہ ہونے والے پانی سے ملکی زراعت کو بھی کافی فائدہ ہوتا ہے۔ روس کے ساتھ ملکر یہ ملک میں مزید ڈیموں کی تعمیر کر رہا ہے۔ دو ہزار تیرہ میں ملکی برآمدات قریباً ڈیڑھ بلین ڈالر اور درآمدات قریباً پانچ بلین ڈالر تھیں۔ ملک میں 2013ء کے مطابق گیس کے معلوم ذخائر قریباً پانچ بلین کیوبک میٹر اور تیل کے معلوم ذخائر قریباً چالیس ملین بیرل ہیں ۔سونے کے ذخائر کی اندازاً قیمت ساڑھے پانچ بلین ڈالرہے۔
اس علاقہ کو تاریخ میں اہم تجارتی شاہراہ پرواقع ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک سو تیس قبل مسیح میں بحیرہ روم میں شروع ہونے والا سلک روٹ مشرقی اور مغربی ممالک کو آپس میں ملاتا تھا اور یہ روٹ کر غزستان کی سرزمین سے بھی گزرتا تھا جس کی وجہ سے کرغزستان کو اس روٹ کے ذریعے ہونے والی تجارت سے کافی فائدہ حاصل ہوتا تھا۔ کرغزستان نے آزادی کے بعد سے اس خطہ کے اہم ممالک سے تعلقات استوار کئے ہیں اور اس کے چین ‘روس ‘قازقستان‘ازبکستان‘ پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک سے اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں جن کی وجہ سے کرغزستان خطہ کے تمام ممالک سے ملکر ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ کرغزستان اور چین کے مابین چین سے وسطیٰ ایشیا کے درمیان ریل ٹریک بنانے کے منصوبے پربات چیت چل رہی ہے جس کی وجہ سے اس کو خطہ کی بڑی منڈیوں تک جلد رسائی حاسل ہو سکے گی۔ کرغزستان چار ملکی( پاکستان‘ چین ‘قازقستان‘ کرغزستان) تجارتی معاہدے کارکن بھی ہے جس سے یہ اس خطہ کے تمام ممالک سے وسیع پیمانے پر تجارت کر رہا ہے۔ کرغزستان ‘اکنامک کو آپریشن آرگنائزیشن ‘او آئی سی‘ اقوام متحدہ‘ ایس سی او اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن ہے۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان باہمی تعلقات کا آغاز کرغزستان کی آزادی کے ساتھ ہی شروع ہو گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے گئے۔ پاکستان اور کرغزستان کے باہمی تعلقات کی دسویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کی طرف سے یاد گاری ڈاک ٹکٹ بھی شائع کیا گیا۔ دو سو سے زیادہ پاکستان طالب علم کرغزستان میں اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان کی قریباًتین سو سے زیادہ کمپنیاں کرغزستان میں رجسٹرڈ ہیں۔ بشکیک میں نیشنل بینک آف پاکستان کی برانچ بھی دوہزار میں کھولی گئی۔ پاکستان کو کاشغر تا گوادر ریلوے ٹریک کو مزید وسعت دے کر اس کو کرغزستان تک پھیلانا چاہیے اور چین کے وسطیٰ ایشیاء کے ممالک کے ساتھ ریل روڈ منصوبہ کو اس کے ساتھ ملانا چاہیے جس سے نہ صرف خشکی میں محصور وسطیٰ ایشیاء کے ممالک کو کاشغر تا گوادر ریل روڈ کے ذریعے گہرے پانی کی بندر گاہ گوادر تک رسائی حاصل ہو گی بلکہ پاکستان کو بھی وسطیٰ ایشیاے کے ممالک تک جلد رسائی حاصل ہونے سے نئی تجارتی راہیں کھلیں گی اور تجارتی حجم بڑھنے سے پاکستان سمیت تمام وسطیٰ ایشیائی ممالک ترقی کے نئے دور کا آغاز کریں گے اور اس کے ساتھ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…