آپ دیکھیں کراچی کو روشنیاں عطا کرنے والا‘ کراچی کو کراچی بنانے والا ہم نے اس کے مجسمے تک کو نہیں بخشا۔ وہ ہرچند رائے جس نے کراچی کو پاکستان کی معاشی شہ رگ بنا دیا ہم نے اس کا مجسمہ پہلے غائب کیا اور پھر اس کا سر ہی غائب کر دیا۔ ہم کیسے لوگ ہیں‘ ہم اپنے ہی محسنوں کے قاتل کیوں ہیں۔
مزید پڑھئے:کیا لنڈسے لوہان نے اسلام قبول کرلیا؟
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح فٹ پاتھ پر جان دے گئے مگر ہماری ایمبولینس نہ پہنچ سکی۔ مادر ملت کے خلاف دھاندلی کر کے ان کو پاکستان کے قیام کا بدلہ شکست سے دیا گیا‘ ذوالفقار علی بھٹو نے متفقہ آئین دیا‘ ہم نے اسے پھانسی چڑھا دیا‘ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کی شبانہ روز کاوشوں سے اور میثاق جمہوریت کے ثمر میں جمہوریت بحال ہوئی‘ آمر پرویز مشرف رخصت ہوا لیکن اس بے نظیر بھٹو کو بھرے اجتماع میں چھلنی کر دیا گیا۔اس ملک کو ایٹمی قوت کا اعزاز دلانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ کیا کیا نہیں ہوا‘ اس محسن پاکستان کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا‘ یہ آج بھی بے ثمر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح آپ بڑے بڑے گلوکاروں‘ فنکاروں‘ کھلاڑیوں اور ہنر مندوں کو دیکھ لیں اس ملک میں صلاحیتیں نچوڑ لی گئیں لیکن کسی کو زندگی میں تسلی ملی اور نہ ہی مرنے کے بعد آج ان کا کتبہ سلامت ہے۔ سب گمنام قبرستانوں میں کہیں گم ہوگئے۔ ہرچند رائے کراچی کا محسن تھا‘ وہ پاکستان کا محسن تھا لیکن ہم اس کے ایک بت کو برداشت نہ کر سکے‘ ہماری نفرت ‘ ہمارا تعصب یہ کہ ہم نے اس بت کا سر اڑا دیا۔ یہ حقیقت ہے جو قومیں اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہیں انہیں تاریخ بہت جلد بھلا دیتی ہے اور یہ تاریخ کا ایک عظیم نوحہ ہے۔



















































