ہر چند رائے ایک آزاد خیال اور مذہبی رواداری پر یقین رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی سماجی اور سیاسی زندگی کے دوران ہمیشہ اس بات کا ثبوت دیا کہ ان کے نزدیک مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔جب سندھ کو بمبئی پزیڈینسی سے علیحدہ کرنے کی تحریک چلائی گئی تو کچھ ہندو اس تحریک کے سخت خلاف تھے مگر آپ نے اپنی قوم کی مخالفت کے باوجود اس تحریک میں دل و جان سے حصہ لیاتھا۔کراچی میں جب کٹر ہندؤوں نے شدھی تحریک چلائی تو آپ نے کھل کر اس گھناؤنی تحریک کی مخالفت کی اور اس کی سرکوبی کے لیے میدان میں اتر آئے۔آپ سائمن کمیشن کے بائیکاٹ میں بھی شریک رہے غرض کہ آپ بے حد غیر متعصب اور بے لوث سماجی رہنما تھے۔سائمن کمیشن کا بائیکاٹ کیوں ہوا؟ انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ جس کے قائد جناح تھے نے اس کمیشن کا بائیکاٹ کیا لیکن ایک مسلم لیگ سر محمد شفیع کی قیادت میں پنجاب میں بھی تھی، انھوں نے سائمن کمیشن کو خوش آمدید کیا تھا۔بہرحال کانگریس اور جناح صاحب کا موقف یہ تھا کہ چوں کہ کمیشن میں کوئی بھی ہندوستانی شامل نہیں اس لیے یہ کمیشن ناقابل قبول ہے۔سائمن کمیشن کی آئینی منظوری کے لیے انڈین قانون ساز اسمبلی کے 1 فروری کو ہونے والے اجلاس میں وائسرائے نے تقریر کی۔ ہرچند رائے اس وقت خراب صحت کی بناء پر کراچی میں تھے۔ اسمبلی میں کمیشن کے حوالے سے ووٹنگ ہونا تھی۔ ہرچند رائے نے اپنی خراب صحت کے باوجود اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔”14 فروری کو وہ بہ ذریعہ ٹرین لاہور میل کے ذریعے کراچی سے روانہ ہوئے۔ ٹرین جب سماسٹہ اسٹیشن پہنچی تو شدید سردی کے سبب ان کی حالت بگڑنے لگی۔ وہ خون کی اْلٹیاں کرنے لگے۔ انھیں علاج کے لیے کہا گیا لیکن وہ دہلی جانے کے لیے بضد تھے۔16 فروری کی صبح وہ دہلی پہنچے ان کی حالت بہت خراب تھی‘ انھیں ٹرین سے کرسی پر بٹھا کر موٹر میں سوار کرایا گیا اور اسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بضد تھے کہ اسمبلی جا کر ووٹ دیں گے۔ اسمبلی کی جانب آتے ہوئے ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی بالآخر وہ اسمبلی کے گیٹ پر جان کی بازی ہار گئے۔ یہ تھی ان کی نظریاتی وابستگی اور سیاسی خلوص کی انتہا۔ ان کی آخری رسوم شان و شوکت سے ادا کی گئیں۔آخری رسومات میں پنڈت مدن موھن مالویہ، پنڈت موتی لال نہرو‘ وٹھل بائی پٹیل سمیت بے شمار نامور شخصیات شریک ہوئیں‘ ان کا اگنی سنسکار جمنا ندی کے کنارے پر کیا گیا۔ہرچند رائے نام و نمود کے سخت خلاف تھے۔ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کی یاد میں 28فروری 1928ء کو خالق دینا ہال میں ایک عوامی جلسہ منعقد کیا گیا۔ موتی رام سترام داس کے مطابق جلسے میں فیصلہ کیا گیا کہ مرحوم کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کی جائے‘ اس سلسلے میں ایک کمیٹی ترتیب دی گئی۔6 سال بعد 16 فروری 1934 کو کراچی میونسپلٹی کمپاؤنڈمیں ان کے مجسمے کی تقریب رونمائی کی گئی۔ مجسمہ بنانے پر 16 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ یہ رقم کراچی کے شہریوں سے حاصل کی گئی تھی۔ یہ مجسمہ مسٹر ٹام نے بنایا تھا۔آنجہانی ہرچند رائے وشن داس کے کراچی پر بڑے احسانات ہیں۔ ان کے کردار اور خدمات کے اعتراف میں کراچی میں ان کا ایک مجسمہ نصب تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد ہٹا دیا گیا۔مجسمہ ہٹانے تک تو خیر لیکن ان کے نام سے موسوم سڑک کا نام تبدیل کر کے اسے ایک دوسرے سربراہِ بلدیہ صدیق وہاب سے موسوم کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے اس مجسمے کے بارے میں اطلاعات آئیں کہ یہ مجسمہ میونسپلٹی کے گوداموں میں موجود ہے‘ پھر اطلاعات آئیں یہ مجسمہ مہوٹہ پیلس میں موجود ہے بعدازاں بعض صحافیوں اور محققین جن میں اخترحسین بلوچ پیش پیش تھے انہوں نے وہاں پہنچ کر مجسمہ دیکھا تو وہ سر سے محروم تھا۔ یہ ایک دل دہلا دینے والا منظر تھا۔



















































