جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہرچندرائے وشن داس ۔۔۔کون؟

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

‘‘وڈیرے جواب میں کہتے تھے، “جی قبلہ! باپ دادا سے لے کر سرکار کے بدمعاش ہیں۔”اندیشہ یہ ہوتا تھا کہ انکار کرنے سے مباداً صاحب ناراض ہو جائے اور سچ مچ ان کے خلاف کاروائی نہ کر بیٹھے۔سیٹھ ہرچند رائے نے کراچی میونسپلٹی کے صدر کی حیثیت سے اپنے دور میں کراچی میں بے حد ترقیاتی کام کروائے۔ 1846 ء سے لے کر 1884ء تک کراچی میونسپلٹی میں افسروں اور اہل کاروں کا زور رہتا تھا اور اراکین بھی ایسے نامزد ہو کر آتے تھے جن پر اہل کاروں کا زور چلتا تھا۔یہ اراکین ہمیشہ افسروں کے کہنے پر عمل کرتے تھے۔ 1885ء سے کراچی میونسپلٹی میں نامزد اراکین کے علاوہ منتخب اراکین بھی آنے لگے۔ ہرچند رائے کی ان تھک کاوشوں سے کراچی میونسپلٹی ایک عوامی ادارہ بنا۔ ہرچند رائے نے شہر کراچی میں مختلف برادریوں کے زیر انتظام کام کرنے والے سماجی اداروں کی بھی دل کھول کر مدد کی‘ان اداروں کو میونسپلٹی کی جانب سے مفت پلاٹ دئیے گئے تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کر سکیں‘ان اداروں میں سنت دھرم منڈل‘ کنیا شالا‘ ڈوسا کنیا پاٹ شالا‘ خواجہ اسماعیلی کاؤنسل‘ مشن گرلزاسکول لوھانا واڈیامنڈل‘ لوھانا انڈسٹریل و ٹیکنیکل انسٹیٹیو ٹ اور سندھ مدرسے کا ادارہ شامل تھا۔کراچی میں 1896ء سے 1897ء کے عرصے میں جب طاعون کی وباء پھیلی تو اس وقت ہرچند رائے میونسپلٹی میں کونسلر تھے‘ وباء سے نپٹنے کیلئے انھوں نے ایک عارضی ہسپتال قائم کیا جس کے انچارج ہرچند رائے اور ان کے کزن تھے۔ہرچند رائے نے پوری ٹیم کے ساتھ مل کر دن رات محنت کی‘ اس دوران خالی گھر وں میں کچھ افراد نے لوٹ مار کی تو فوج اور پولیس کے ساتھ مل کر ہر چند رائے نے ان گھروں کی حفاظت کے لیے نوجوانوں کے جتھے مقرّر کئے۔کراچی شہر میں ہر چند رائے کے دور سے قبل سڑکیں کچی ہوتی تھیں‘ سڑکوں کے کنارے پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ کا کوئی تصور نہیں تھا۔ شہر میں تارکول ڈامبر سے بنائی جانے والی سڑکیں بھی انھوں نے متعارف کروائیں اور پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ بھی۔انھوں نے لیاری ندی کا رْخ تبدیل کر کے کراچی والوں کو ایک بڑی مصیبت سے چھٹکارا دلایا۔لیاری ندی شہر کے درمیان میں بہتی تھی اور پانی کے تیز بہاؤ کے سبب شہریوں کے لیے مصیبت اور آزار کا سبب بنتی تھی۔ پانی اترنے کے بعد مچھروں کی بہتات ہو جاتی تھی جس کی وجہ سے ملیریا کا بخار پھیل جاتا تھا۔اس مسئلے سے نپٹنے کے لیے سیٹھ ہر چند رائے نے انجینئروں سے مشورے کے بعد ایک کارگر منصوبہ تیار کروایا۔ لیاری ندی گاندھی باغ (کراچی چڑیا گھر) کے قریب دھوبی گھاٹ پر بند باندھا گیا اور پانی کے بہاؤ کا رْخ تبدیل کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں مزید زمین میسر ہوئی اور اور ایک اور کوارٹر وجود میں آیا۔لوگوں کی رائے تھی کہ اس کوارٹر کا نام ہر چند رائے کے نام سے منسوب کیا جائے لیکن سیٹھ صاحب کا واضح موقف تھا کہ جب تک میونسپلٹی کی باگیں ان کے ہاتھ میں ہیں وہ اس قسم کا کوئی فائدہ نہیں لیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر چند رائے اپنے اصولوں کی کس حد تک پاس داری کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…