ایک حقیقت یہ ہے کہ خریدار صرف قیمت دیکھ کر ہی ہر چیز نہیں خرید لیا کرتے۔ مثلاً ٹِشو پیپر جو ہر زمانے میں بے حد پر فروش اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیز چلی آ رہی ہے۔ روپیہ نہیں بچاتا لیکن صفائی و سہولت ضرور مہیا کرتا ہے۔ اسی طرح کاغذی نیپکن کوئی خاتون خانہ محض بچت کا پہلو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں خریدتی جب اس کے پاس اپنا لانڈری کا انتظام ہو۔ سالہاسال سے خواتین بڑی محنت و مشکل سے ویکیوم کلینرز کے گرد مٹی کے تھیلے صاف کرتی چلی آ رہی تھیں پھرجب کاغذی تھیلے متعارف ہوئے‘ تو انھوں نے انھیں فوراً ہی قبول عام سند عطا کردی اور قیمتوں کی بھی پروا نہیں کی۔ اب بچوں کے ڈائپرز کے بارے میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کپڑے کے بنے ہوئے ڈائپرز استعمال تو کر لیے جاتے تھے لیکن انھیں ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ ہوتا تھا لیکن اب کاغذی ڈائپرز نے یہ مشکل آسان کر دی ہے۔ استعمال کے بعد انھیں فلش میں بہا دیا جاتا ہے۔ کاغذی ڈائپرز کی سیل آج کل ہر جگہ آسمان پر پہنچی ہوئی ہے۔ یہ اقتصادیات پر سہولت کا خراج ہے۔
مابعداستعمال پھینک دی جانے والی اشیاء کے بارے میں ایک دوسری قابلِ ذکر حقیقت یہ ہے کہ ان میں بہت سی آہستہ آہستہ ہی قبول عام کی سند حاصل کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر کاغذی تولیے۔ کاغذی تولیہ جان اسکاٹ نے1967ء میں متعارف کرایا تھا۔ یہ تولیے اس لیے مقبول عام کی سند حاصل نہ کرسکے کہ یہ بہت موٹے اور بھاری تھے اورٹوائلٹ کے کام نہ آسکتے تھے۔ چوبیس سال گزرنے کے بعد انھیں گھریلو استعمال کے لیے تیار کیا جانے لگا۔ پھر بھی انھیں ایسی مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ لیکن آج کل گھریلو خواتین انھیں سالانہ اربوں کھربوں کی تعداد میں استعمال کرتی ہیں۔
اگر تجارتی تاریخ کوئی راہنما چیز ہے تو یہ استعمال کیجیے اور پھینک دیجیے‘ قسم کی چیز کی مقبولیت کا پھیلاؤ اس قسم کی دوسری اشیاء کی ایجاد اور پذیرائی کا دروازہ کھول دیتا ہے مثلاً کاغذی نیپکن نے کاغذی تولیوں کو قابل مقبول بنا دیا ہے اور کاغذی گاؤنوں نے ساحلی ملبوسات کو۔
مزید پڑھئے:دنیا کے حیرت انگیز پارک
لیکن کاغذی ملبوسات و دیگر کاغذی مصنوعات کی پذیرائی و مقبولیت خواہ کتنی ہی حد تک پہنچ جائے یہ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ کپاس‘ ریشم‘ پولیسٹر و دیگر قدرتی و غیر قدرتی ریشوں سے بنے ہوئے کپڑوں کے مقابل آسکیں گی یا نہیں۔ کاغذی کپڑا تیار کرنے والے کو اتنی اْجرت نہیں ملتی جتنی کہ دوسرا کپڑا تیار کرنے والے کاریگر کو۔ یہی حال انھیں تیار کرنے والی فیکٹریوں کا بھی ہے لیکن اس کا امکان موجود ہے کہ ان کے مسائل کا حل ضرور تلاش کر لیا جائے گا اور وہ وقت بھی دور نہیں جب دنیا بھر کے لوگ اپنی مارکیٹوں سے نہایت سستے داموں بڑی بھاری تعداد میں کاغذی ملبوسات اور دیگر کاغذی مصنوعات خرید رہے ہوں گے۔



















































