جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

پہنئے اور پھینک دیجئے’’کاغذی کپڑوں کی کہانی

datetime 11  مئی‬‮  2015 |

ایک حقیقت یہ ہے کہ خریدار صرف قیمت دیکھ کر ہی ہر چیز نہیں خرید لیا کرتے۔ مثلاً ٹِشو پیپر جو ہر زمانے میں بے حد پر فروش اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیز چلی آ رہی ہے۔ روپیہ نہیں بچاتا لیکن صفائی و سہولت ضرور مہیا کرتا ہے۔ اسی طرح کاغذی نیپکن کوئی خاتون خانہ محض بچت کا پہلو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں خریدتی جب اس کے پاس اپنا لانڈری کا انتظام ہو۔ سالہاسال سے خواتین بڑی محنت و مشکل سے ویکیوم کلینرز کے گرد مٹی کے تھیلے صاف کرتی چلی آ رہی تھیں پھرجب کاغذی تھیلے متعارف ہوئے‘ تو انھوں نے انھیں فوراً ہی قبول عام سند عطا کردی اور قیمتوں کی بھی پروا نہیں کی۔ اب بچوں کے ڈائپرز کے بارے میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کپڑے کے بنے ہوئے ڈائپرز استعمال تو کر لیے جاتے تھے لیکن انھیں ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ ہوتا تھا لیکن اب کاغذی ڈائپرز نے یہ مشکل آسان کر دی ہے۔ استعمال کے بعد انھیں فلش میں بہا دیا جاتا ہے۔ کاغذی ڈائپرز کی سیل آج کل ہر جگہ آسمان پر پہنچی ہوئی ہے۔ یہ اقتصادیات پر سہولت کا خراج ہے۔
مابعداستعمال پھینک دی جانے والی اشیاء کے بارے میں ایک دوسری قابلِ ذکر حقیقت یہ ہے کہ ان میں بہت سی آہستہ آہستہ ہی قبول عام کی سند حاصل کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر کاغذی تولیے۔ کاغذی تولیہ جان اسکاٹ نے1967ء میں متعارف کرایا تھا۔ یہ تولیے اس لیے مقبول عام کی سند حاصل نہ کرسکے کہ یہ بہت موٹے اور بھاری تھے اورٹوائلٹ کے کام نہ آسکتے تھے۔ چوبیس سال گزرنے کے بعد انھیں گھریلو استعمال کے لیے تیار کیا جانے لگا۔ پھر بھی انھیں ایسی مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ لیکن آج کل گھریلو خواتین انھیں سالانہ اربوں کھربوں کی تعداد میں استعمال کرتی ہیں۔
اگر تجارتی تاریخ کوئی راہنما چیز ہے تو یہ استعمال کیجیے اور پھینک دیجیے‘ قسم کی چیز کی مقبولیت کا پھیلاؤ اس قسم کی دوسری اشیاء کی ایجاد اور پذیرائی کا دروازہ کھول دیتا ہے مثلاً کاغذی نیپکن نے کاغذی تولیوں کو قابل مقبول بنا دیا ہے اور کاغذی گاؤنوں نے ساحلی ملبوسات کو۔

مزید پڑھئے:دنیا کے حیرت انگیز پارک

لیکن کاغذی ملبوسات و دیگر کاغذی مصنوعات کی پذیرائی و مقبولیت خواہ کتنی ہی حد تک پہنچ جائے یہ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ کپاس‘ ریشم‘ پولیسٹر و دیگر قدرتی و غیر قدرتی ریشوں سے بنے ہوئے کپڑوں کے مقابل آسکیں گی یا نہیں۔ کاغذی کپڑا تیار کرنے والے کو اتنی اْجرت نہیں ملتی جتنی کہ دوسرا کپڑا تیار کرنے والے کاریگر کو۔ یہی حال انھیں تیار کرنے والی فیکٹریوں کا بھی ہے لیکن اس کا امکان موجود ہے کہ ان کے مسائل کا حل ضرور تلاش کر لیا جائے گا اور وہ وقت بھی دور نہیں جب دنیا بھر کے لوگ اپنی مارکیٹوں سے نہایت سستے داموں بڑی بھاری تعداد میں کاغذی ملبوسات اور دیگر کاغذی مصنوعات خرید رہے ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…