جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

پہنئے اور پھینک دیجئے’’کاغذی کپڑوں کی کہانی

datetime 11  مئی‬‮  2015 |

ہسپتال اور ڈاکٹر بہت پہلے ہی سے بعد استعمال پھینک دیے جانے والے ملبوسات‘ جیکٹیں اور سرجیکل گاؤن وغیرہ استعمال کر رہے ہیں۔ معاشی پہلو سے کاغذی ملبوسات کے استعمال سے بچت ہی بچت ہے۔ ایک پھینکے جانے والے کاغذی گاؤن کی قیمت پچیس سینٹ ہوتی ہے۔ جبکہ عام کپڑے کے گاؤن کی دھلائی میں چالیس سینٹ خرچ ہوتے ہیں۔ ایک پرائیویٹ گائناکالوجسٹ کی رپورٹ کے مطابق کاغذی گاؤنوں کے بچت کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ وہ ایک ڈبے میں پچاس پچاس کی تعداد میں بند ہوتے ہیں۔ آسانی سے اسٹور کیے جاسکتے ہیں۔ ان کے ساتھ داغ دھبوں‘ پھٹنے اور باندھنے کے کوئی مسائل نہیں ہوتے۔ مزیدبراں مریض بھی ایسے گاؤن پسند کرتے ہیں جنھیں پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔
کاغذی کپڑے اب صرف ریاست ہائے متحدہ امریکا ہی میں نہیں بلکہ جنوبی امریکی ممالک‘ یونیورسٹیوں میں کاغذ کے بنے ہوئے ڈگری گاؤن اور کیپ متعارف کرانا شروع کردیے ہیں۔ جنھیں بعد از استعمال پھینک دیا جاتا ہے۔ مردوں کی پیراکی کی نیکریں جو کاغذی چادروں کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ مارکیٹوں میں عام دستیاب ہیں۔ ڈیونٹ پیپر کمپنی نے کاغذی چادروں کو کتابوں کی جلدیں بنانے اور دیواریں ڈھانپنے سے لے کر پیراکی کے لباس تیار کرنے تک ترقی دی ہے۔ ہوٹلوں میں کاغذی رومالوں کو بھاری تعداد میں خریدا جاتا ہے اور گاہکوں کو مہیا کیا جاتا ہے۔ استعمال کرنے میں رومال بے حد عمدہ اور موزوں معلوم ہوتے ہیں اور دیکھنے میں خوبصورت۔
کاغذی کپڑے سے بچوں کے بِب اور دوسرے کپڑے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح کاغذی چادریں تکیوں کے غلاف بھی۔ کاغذی چادریں اتنی بڑی بڑی ہوتی ہیں کہ پورا بستر ڈھانپ لیتی ہیں۔ امریکی محکمہ افواج میں یہ چادریں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اِستعمال ہوتی ہیں۔ ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہر سال فوجیوں کے لیے لاکھوں کی تعداد میں کاغذی زیر جاموں‘ کاغذی جوتوں اور چادروں کے آرڈر دیے جاتے ہیں۔ ٹرینوں اور ہوائی جہازوں میں کاغذی بالا پوشوں اور سرپوشوں کا اِستعمال عام ہے۔ کاغذی رومال بھی ان میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…