ہسپتال اور ڈاکٹر بہت پہلے ہی سے بعد استعمال پھینک دیے جانے والے ملبوسات‘ جیکٹیں اور سرجیکل گاؤن وغیرہ استعمال کر رہے ہیں۔ معاشی پہلو سے کاغذی ملبوسات کے استعمال سے بچت ہی بچت ہے۔ ایک پھینکے جانے والے کاغذی گاؤن کی قیمت پچیس سینٹ ہوتی ہے۔ جبکہ عام کپڑے کے گاؤن کی دھلائی میں چالیس سینٹ خرچ ہوتے ہیں۔ ایک پرائیویٹ گائناکالوجسٹ کی رپورٹ کے مطابق کاغذی گاؤنوں کے بچت کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ وہ ایک ڈبے میں پچاس پچاس کی تعداد میں بند ہوتے ہیں۔ آسانی سے اسٹور کیے جاسکتے ہیں۔ ان کے ساتھ داغ دھبوں‘ پھٹنے اور باندھنے کے کوئی مسائل نہیں ہوتے۔ مزیدبراں مریض بھی ایسے گاؤن پسند کرتے ہیں جنھیں پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔
کاغذی کپڑے اب صرف ریاست ہائے متحدہ امریکا ہی میں نہیں بلکہ جنوبی امریکی ممالک‘ یونیورسٹیوں میں کاغذ کے بنے ہوئے ڈگری گاؤن اور کیپ متعارف کرانا شروع کردیے ہیں۔ جنھیں بعد از استعمال پھینک دیا جاتا ہے۔ مردوں کی پیراکی کی نیکریں جو کاغذی چادروں کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ مارکیٹوں میں عام دستیاب ہیں۔ ڈیونٹ پیپر کمپنی نے کاغذی چادروں کو کتابوں کی جلدیں بنانے اور دیواریں ڈھانپنے سے لے کر پیراکی کے لباس تیار کرنے تک ترقی دی ہے۔ ہوٹلوں میں کاغذی رومالوں کو بھاری تعداد میں خریدا جاتا ہے اور گاہکوں کو مہیا کیا جاتا ہے۔ استعمال کرنے میں رومال بے حد عمدہ اور موزوں معلوم ہوتے ہیں اور دیکھنے میں خوبصورت۔
کاغذی کپڑے سے بچوں کے بِب اور دوسرے کپڑے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح کاغذی چادریں تکیوں کے غلاف بھی۔ کاغذی چادریں اتنی بڑی بڑی ہوتی ہیں کہ پورا بستر ڈھانپ لیتی ہیں۔ امریکی محکمہ افواج میں یہ چادریں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اِستعمال ہوتی ہیں۔ ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہر سال فوجیوں کے لیے لاکھوں کی تعداد میں کاغذی زیر جاموں‘ کاغذی جوتوں اور چادروں کے آرڈر دیے جاتے ہیں۔ ٹرینوں اور ہوائی جہازوں میں کاغذی بالا پوشوں اور سرپوشوں کا اِستعمال عام ہے۔ کاغذی رومال بھی ان میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔



















































