جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

کر لو بات؟ ناروے ہالینڈ سے جیلیں کرایے پر لے گا!

datetime 9  مئی‬‮  2015 |

ناروے کی تاریخ کا سیاہ دن تھا جب ایک سفاک قاتل نے 77 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اینڈرس بریوک نے اْس روز پہلے دارالحکومت اوسلو میں ایک سرکاری عمارت کو بموں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں آٹھ لوگ لقمہ اجل بنے۔ پھر اس نے Buskerudکاؤنٹی کی حدود میں واقع اوٹویا جزیرے کا رْخ کیا اور وہاں ورکز یوتھ لیگ کے کیمپ میں اندھادھند فائرنگ کرکے مزید 69افراد کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔
گرفتاری کے بعد اینڈرس پر مقدمہ چلا اور اگست 2012ء میں عدالت نے اسے قتل عام اور دہشت گردی پھیلانے کے جرم میں 21 برس قید کی سزا سنائی۔ یہ ناروے میں دی جانے والی سخت ترین سزا ہے۔ اینڈرس کو ماہرنفسیات نے ’’جنونی‘‘قرار دیا تھا۔ اس کیفیت کا شکار فرد اپنے نظریات کو شدت پسندی کے ساتھ درست قرار دیتا ہے اور ان کے پرچار کے لیے انتہائی اقدام اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ملزم جو قید میں رکھاگیا ہے بے حد پرسکون اور آرام کی زندگی گزار رہا ہے‘اس کا قید خانہ تین کشادہ کمروں پر مشتمل ہے‘ ایک کمرہ بیڈ روم ہے‘ دوسرے کمرے میں انٹرنیٹ‘ ٹیلی ویژ ن‘ آفس ٹیبل لگی ہوئی ہے‘ اخبارات اور کتابیں موجود ہیں‘ تیسرے کمرے میں ٹریڈمل اور دیگر ایکسرسائز کا سامان لگا ہوا ہے‘ قیدی کو کھلی فضا میں آنے جانے کی سہولت موجود ہے‘ صحت مند خوراک وغیرہ میسر ہے‘ 21 سال قید پانے کے بعد بھی متذکرہ سہولیات میسر ہیں اور رہیں گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اوسلو کی اسکین جیل میں قید اینڈرس کو کمپیوٹر‘ گیمنگ کنسول اور اخبارات جیسی سہولتیں پہلے ہی حاصل ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ دنوں ایک خبررساں ایجنسی کے مطابق حکومت کو لکھے گئے خط میں اس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے جدیدترین ’’پلے اسٹیشن تھری‘‘ فراہم کیا جائے تاکہ وہ نت نئے گیمز سے لطف اندوز ہو سکے ۔ اس کے علاوہ 77 انسانوں کے قاتل نے صوفہ سیٹ مہیا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اینڈرس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جس جم میں ورزش کرتا ہے وہ چھوٹا ہے اور اسے بڑے جم کی سہولت فراہم کی جائے۔ خط میں لکھا ہے کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ بھوک ہڑتال شروع کردے گا جو اس کے مطالبات کی تکمیل یا پھر اس کی موت تک جاری رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…