بھی شاہراہ پر آ گرتی ہیں جس کی وجہ سے یہ سڑک گزرنے کے قابل نہیں رہتی۔
اسی طرح یہ علاقہ اکثر زلزلوں کا بھی شکار رہتا ہے اور زلزلے کی شدت سے بھی یہ شاہراہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی ہے لیکن ان تمام تر مشکلات اور خطرات کے باوجود اس شاہراہ پر متعدد سیاحتی مقامات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں عجائب گھر‘ قبائلی قیام گاہیں‘ دستکاری کی دکانیں اور ایک خانقاہ بھی شامل ہے۔ یہاں سیاحوں کیلئے تارکو نیشنل پارک بھی ہے جہاں سیاح قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔اس گھاٹی کا اختتام ایک چھوٹے سے گاؤں پر جا کر ہوتا ہے جسے تیان سانگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ گاؤں بھی اپنی شان آپ ہے۔ یہاں بدھا کا مندر بھی ہے ‘ اس مندر کی عمارت بہت خوبصورت ہے اور اسے دیکھ کر کاریگروں کی ہنرمندی کی داد دئیے بغیر نہیں رہا جا سکتااور اس گاؤں کو تاروکو سے ملانے کیلئے ایک پل بھی تعمیر کیا گیا ہے‘ اس گاؤں میں لگ بھگ پچاس‘ ساٹھ گھر ہوں گے اور یہ اپنی خوبصورتی میں آپ مثال ہیں۔ گاؤں کے سامنے ایک دیوقامت پہاڑ ایستادہ ہے‘ درمیان میں صاف پانی کا نالا بہتا ہے اور گاؤں کے عقب میں بھی سرسبز پہاڑ ہے۔ یہاں پہنچ کر سیاح قدرت کے دلفریب نظاروں میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جاں گسل سفر کے بعد اس گاؤں میں شام اور رات گزارنے سے طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔




















































