جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’حکمرانی کی ناکامی‘‘ عابدہ حسین کی کہانی ان کی اپنی زبانی

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

بھٹو نے 1977ء کے انتخابات میں عابدہ کو جنرل سیٹ کیلئے انتخابات لڑنے کیلئے ٹکٹ نہ دیا۔ وہ ان کو خصوصی نشست پر اکاموڈیٹ کرنا چاہتے تھے مگر عابدہ نے بطور احتجاج پی پی پی سے فاصلے پیدا کرلیے۔ شاید ان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ بھٹو کے اقتدار کا سورج غروب ہونیوالا ہے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں فخر امام کبیروالہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ عابدہ نے جھنگ سے قومی اسمبلی کی نشست جیت لی۔ اس طرح عابدہ براہ راست انتخاب میں منتخب ہونیوالی پہلی خاتون رکن قومی اسمبلی بن گئیں۔ عابدہ نے اپنی کتاب میں سیاسی رہنماؤں‘سفارتکاروں‘ بیوروکریٹس اور جرنیلوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا احوال بیان کیا ہے۔ گورنر پنجاب جنرل جیلانی سے ملاقات کے بارے میں لکھتی ہیں کہ وہ گفتگو کے دوران میز پر مکا مارتے ہوئے کہنے لگے سندھ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لوگ ’’چھوٹے صوبوں والے ہیں‘‘۔ پنجاب ہی دراصل پاکستان ہے۔ عابدہ نے سخت لہجے میں کہا جنرل ہم نے سقوط ڈھاکا کے المیے کے بعد بھی اپنی ذہنیت تبدیل نہیں کی۔ سندھ‘ بلوچستان‘ خیبرپختونخوا اور پنجاب مل کر ہی پاکستان ہیں۔ فخرامام جنرل ضیاء الحق کی مخالفت اور دباؤ کے باوجود خواجہ صفدر کیخلاف انتخاب لڑ کر قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوگئے۔
1988ء کے انتخابات میں فخر امام نے آئی جے آئی کے ٹکٹ پر اور عابدہ حسین نے آزاد اْمیدوار کے طور پر قومی اسمبلی کی نشستیں جیت لیں۔ بے نظیر بھٹو نے فخر امام کو گورنر پنجاب بنانے کی پیشکش کی جبکہ میاں نواز شریف نے عابدہ حسین کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے کی پیش کش کی۔ دونوں نے انکار کردیا۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نمبر گیم میں مصروف تھے۔ میاں نواز شریف نے جھنگ کا دورہ کیا۔ سرسبز و شاداب کھیت دیکھ کر عابدہ حسین سے پوچھا آپ شوگر مل کیوں نہیں لگاتیں عابدہ حسین نے کہا کہ ’’سیاست اور کاروبار کا تضاد پیدا ہو جائیگا ‘‘ ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ اگر آپکو اعتراض نہ ہو تو ہم شوگر مل لگالیں اس طرح رمضان شوگر مل وجود میں آگئی۔ عابدہ کچھ عرصہ امریکہ میں پاکستان کی سفیر بھی رہیں اور ایڈ نہیں ٹریڈ کو اپنا اصول بنایا۔
عابدہ حسین نے کتاب میں قومی سیاست دانوں کے خاکے بھی لکھے ہیں۔ امریکی سفارتکاری اور امریکی انتخابات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ کتاب میں مختلف رنگ کے پھول سجے ہیں۔ فیملی لائف‘ بیٹی کی باپ سے محبت‘ آرٹ ‘آرکیٹکچر‘ سیاسی اور سماجی کلچر‘ ملبوسات‘ پارلیمانی امور‘ زراعت‘ عدالتی نظام کا چہرہ‘ فرقہ واریت کے انداز ‘ بے نظیر کے خلاف عدم اعتماد کی اندرونی کہانی سب کچھ اس کتاب میں موجود ہے۔ بے نظیر اور اکبر بگٹی کے قتل پر الگ الگ باب کتاب میں شامل ہیں۔ مصنف نے قومی مسائل کی نشان دہی تو کی ہے مگر ان کا حل پیش نہیں کیا۔ صرف یہ کہا ہے کہ اگر پاکستان میں گڈ گورننس قائم ہوجائے اور سیاستدان و حکمران ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع رکھنے پر آمادہ ہوجائیں تو ترقی کا سفر شروع ہوسکتا ہے۔ عابدہ حسین نے کتاب کا اختتام اس خواب پر کیا ہے۔ ’’میرا خواب یہ ہے کہ پاکستان کو ایسا لیڈر میسر آئے جسکی دیانت شک و شبہ سے بالا ہو۔ اسکی اہلیت معیاری ہو جو پالیسیاں تشکیل دے سکے اور ان پر عملدرآمد کرواسکے تاکہ مزید ناکامی رک جائے‘‘۔
آکسفورڈ نے یہ کتاب ہر لحاظ سے معیاری اور دیدہ زیب شائع کی ہے۔ کتاب اس سے بھی بہتر ہوسکتی تھی اگر اس کی ایڈیٹنگ کچھ بہتر ہوتی اور فقرے اور گرامر کی غلطیوں سے نسبتاً پاک ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…