جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’حکمرانی کی ناکامی‘‘ عابدہ حسین کی کہانی ان کی اپنی زبانی

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

جب جنرل آصف نواز پنٹاگان کا دورہ کرتے ہیں تو ڈیفنس سیکرٹری ڈک چینی ان کے ساتھ تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔ کہا جا تا ہے کہ اگر پاکستان ایٹمی پروگرام میں سرخ لکیر عبور کرنے سے گریز کرے تو امریکہ فوجی حکومت کو برداشت کرلے گا۔ جنرل صاحب نے انکار کردیا‘ تاہم رائے دی کہ اگر نواز شریف کو تبدیل کردیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔ تاہم عابدہ حسین کے نزدیک ‘اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ امریکیوں کو کسی فر د سے کوئی دلچسپی نہیں تھی‘ وہ اپنی بات منوانا چاہتے تھے۔ ایک اور بات جس کی وجہ سے امریکی پریشان تھے ‘ وہ یہ تھی کہ پاکستان اسامہ بن لادن اور دیگردہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے۔ بہت جلد نواز شریف کی چھٹی ہو جاتی اور وسط مدتی انتخابات میں بے نظیر کامیاب ہوجاتی ہیں۔ اْنھوں نے پہلے غلام اسحٰق خا ن کو کچھ یقین دہانی کروائی تھی اْنہیں صدر کے طور پر منتخب کرلیا جائے گا لیکن پھر وہ یہ بات بھول گئیں۔ اس کے بعد اپنی پارٹی کے وفادار‘فاروق الغاری کو صدر بنالیا۔
پاکستان کے دوسرے نوجوانوں کی طرح عابدہ حسین بھی بھٹو کی سلامتی کونسل میں خطاب سے بہت متاثر ہوئیں اور سوشلزم کے سحر میں مبتلا ہوکر 1970ء میں پی پی پی میں شمولیت اختیار کرلی جبکہ ان کی والدہ بدستور عبدالولی خان کی حامی رہیں۔ عابدہ حسین1971ء میں خواتین کی خصوصی نشست پر پی پی پی کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوگئیں۔ بھٹو کی زرعی اصلاحات کی وجہ سے ان کو 600ایکڑ اراضی سے محروم ہونا پڑا۔ عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ بھٹو نے سیلاب کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے جھنگ کا دورہ کیا۔ پی پی پی کے ضلعی صدر عمر حیات سیال نے قائدعوام زندہ باد کے نعرے لگوانے شروع کیے۔ بھٹو نے کہا ’’بیٹھ جا چمچے‘‘ عمر حیات نے کہا ’’مجھے قائد عوام کا چمچہ ہونے پر فخر ہے‘‘۔ عوام نے بھٹو کے ریمارکس سے خوش ہوکر ’’جیوے بھٹو‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ پاکستان میں خوشامدی کلچر نے ملک کو سخت نقصان پہنچایا۔عابدہ کے والدین کی خواہش تھی کہ عابدہ اپنے کزن فخرامام سے شادی کرلیں۔ دونوں نے مشاورتی ملاقات کی۔ عابدہ نے فخر امام کے سامنے یہ شرط رکھی ’’تم مجھ سے اور میرے والدین سے محبت کرو گے‘‘ ۔ فخر امام نے عابدہ کو یہ کہہ کر حیران کردیا ’’میں تم سے اس وقت سے محبت کررہا ہوں جب تم نو سال کی تھی‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…