جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’حکمرانی کی ناکامی‘‘ عابدہ حسین کی کہانی ان کی اپنی زبانی

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

’’ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں فخر امام کبیروالہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ عابدہ حسین نے جھنگ سے قومی اسمبلی کی نشست جیت لی‘ اس طرح عابدہ حسین براہ راست انتخاب میں منتخب ہونیوالی پہلی خاتون رکن قومی اسمبلی بن گئیں‘‘‘
جب عابدہ حسین واشنگٹن میں سفیر تعینات کی گئیں تو اْنھیں حقیقی سیاست‘ یا سفارت کاری کے اہم رموز‘ کے اہم سبق سیکھنے کا موقع ملا۔ اْس وقت تک افغان جہاد کا اختتام ہوچکا تھا۔جینوا معاہدے پر دستخط ہوچکے تھے اور امریکی پاکستان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرے۔ پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان کو ملنے والی تمام امداد روک لی جاتی ہے۔ انڈر سیکرٹری برائے سیاسی معاملات’ Bartholomew Reginald‘اسلام آباد کا دورہ کررہے ہیں۔ عابدہ حسین وہیں موجود ہوتی ہیں جب وہ صدر غلام اسحٰق کو ایک سخت پیغام دیتا ہے۔ صدرصاحب اْسے ایک خط دکھاتے ہیں جو اْنھوں نے امریکی صدر کے نام لکھا ہے۔ عابدہ حسین بتاتی ہیں’’خط پڑھنے کے بعد’ Bartholomew Reginald‘فائل میز پر پھینکتے ہوئے بڑبڑاتا ہے کہ اگر تم پاکستانی یہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ امریکہ کیا چاہتا ہے تو یہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل جاتا ہے۔‘‘
امریکی پابندیوں کا مطلب تھا کہ ہمیں ایف سولہ طیارے نہیں ملیں گے حالانکہ ہم اْن کی ادائیگی‘ پانچ سو ملین ڈالر‘ کرچکے تھے۔ ان کی ایک اور قسط‘ دو سو ملین ڈالر بھی ادا کیے جانے کا وقت آچکا تھا۔ اگر ہم ادائیگی روک لیتے تو ہمیں ایک سو پچاس ملین ڈالر جرمانہ ہوتا۔ تاہم معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں تھی کہ اگر پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان کو وہ طیارے نہ مہیا کیے جائیں تو فراہم کرنے والوں کو بھی کوئی جرمانہ ہوگا۔ اس طرح وہ یک طرفہ معاہدہ تھا۔
عابدہ حسین پنٹاگان جاتی ہیں تو اْنہیں ’’مکمل پروٹوکول ‘‘ملتا ہے۔ اْن کا استقبال ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری کارل فورڈ کرتا ہے۔ وہ ان کے سامنے ایک پیڈ رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ اْنہیں تھوڑا سا حساب کتاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ادائیگی نہیں کرتے تو ہمیں ایک سو پچاس ملین ڈالر’’بطور انتظامی اخراجات‘‘ ادا کرنے پڑیں گے۔ ان کا کیا مقصد ہے؟ یہ وہ رقم تھی جو پے منٹ سے پہلے ہی منہا کی جاچکی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ رقم ’’درمیان کے آدمیوں‘‘کی جیب میں چلی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…