جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

یونان میں کرائے کے قبرستان

datetime 3  مئی‬‮  2015 |

لیکن آج بھی سب کچھ اسی طرح ہو رہا ہے جیسے پہلے ہوتا تھا۔ اور یہ سب کچھ آپ کو یاد بھی رہتا ہے۔‘مسٹر ایلاکیوٹِس کو یقین ہے کہ اگر مردے جلانے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف قبرستانوں میں صورتِ حال بہتر ہو جائے گی بلکہ لواحقین پر مالی دباو¿ میں بھی کمی آ جائے گی۔ لوگوں کے لیے یہ سستا بدل ہوگا۔ تین برس کے لیے کرائے کی قبر ڈھائی ہزار سے تین ہزار یورو میں پڑتی ہے لیکن لاش جلانے سے خرچہ آدھا ہو جائے گا۔یہ مسئلہ اس آزادی کا ہے جو آپ کے جسم کو اس کی آخری منزل تک پہنچانے کی آزادی ہے اور جو داو¿ پر لگی ہوئی ہے۔ٹھیک اسی طرح جیسے آپ کو اپنے اعضا عطیہ کرنے کی آزادی حاصل ہے۔تھیسالونِکی کے میئر یانس باو¿ٹرس بھی کرائے کی قبروں کے ’ناخشگوار اور غیر انسانی‘ نظام کے بدلے کوئی دوسرا نظام چاہتے ہیں۔گزشتہ سال انھوں نے وزیرِ ماحولیات کو ایک درخواست دی کہ قانون میں تبدیلی کر کے یہ پابندیاں ختم کی جائیں کہ مردے جلانے کی بھٹیاں کہاں بن سکتی ہیں اور کہاں نہیں۔ انھیں کامیابی ہوئی ہے۔ قانون کا نیا مسودہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مردے جلانے کی جگہیں قبرستانوں کے باہر بنائی جا سکتی ہیں۔ اب امکان ہے کہ ایسی بھٹیاں بن سکیں گی۔میئر کہتے ہیں ’ہم مناسب جگہ دیکھ رہے ہیں اور ہم یقیناً اس منصوبے پر پیسے لگانے کے طریقوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔‘تاہم چرچ نے قانون میں اس تبدیلی کو ’زندگی کے ہر پہلو سے دین کو ختم کرنے‘ کی کوشش قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔ پادریوں کو حکم ملا ہے کہ اگر کوئی مردہ جلانا چاہے تو جنازے کی آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کر دیا جائے۔لیکن مسٹر باو¿ٹارس پر عزم ہیں کہ وہ اپنے منصوبے پر کابند رہیں گے اور ان کا کہنا ہے کہ تھیسالونِکی میں سنہ 2016 تک مردوں کو جلانے کی بھٹی بن چکی ہوگی۔میئر کی والدہ اس سال کے شروع میں چل بسی تھیں اور انھوں نے اپنی والدہ کی میت کو یونان سے باہر جا کر جلانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مردے جلانے کی بھٹیاں بنانا جمہوری ہی نہیں بلکہ عملی مسئلہ بھی ہے۔یانس باو¿ٹرس کے بقول ’ یہ مسئلہ اس آزادی کا ہے جو آپ کے جسم کو اس کی آخری منزل تک پہنچانے کی آزادی ہے اور جو داو¿ پر لگی ہوئی ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے آپ کو اپنے اعضا عطیہ کرنے کی آزادی حاصل ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…