جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

! مائیکل اینجلو کا۔۔۔ڈیوڈ

datetime 2  مئی‬‮  2015 |

مزید پڑھیے:دفتر میں بچے کو جنم دے کر دراز میں ڈال دیا
کیسا کمالِ فن ہے یہ اْس سنگ تراش کا۔۔۔پتھر کے اس مجسمے میں ہے جان پڑ گئیئقبل ازیں’ ’ڈیوڈ‘‘ کو اصل حالت پر واپس لانے کی کوششوں نے ایک نیا جھگڑا کھڑا کر دیاتھا۔اطالوی حکومت کی طرف سے پانچ سوبرس قبل عظیم اطالوی مجسمہ ساز اور پینٹر مائیکل اینجلو کی اس تخلیق کو اصل حالت میں واپس لانے کی منظوری دینے پر دنیا بھر میں فن کے قدر دانوں نے مجوزہ منصوبے کی شدید مخالفت شروع کردی تھی اور مجسمے کو نقصان پہنچنے کے خدشات کا اظہار کیاتھا۔بنیادی جھگڑا یہ تھاکہ آیا اسے اصل حالت پر واپس لانے کیلئے پانی سے دھویا جائے یا ڈرائی کلین کیا جائے۔ ڈرائی کلین نسبتاً غیر روایتی طریقہ ہے اور پھر اس سے صرف مجسمے پر چڑھی گہری میل کے دھبے ہی اتارے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کی انتالیس عالمی تنظیموں نے مجسمے کو فلورنس میں اس کی اصل حالت میں واپس لانے کی سرکاری کوششوں کے خلاف ایک دستخطی مہم شروع کر دی تھی ۔ انہوں نے ایک غیر جانبدار کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھاجو یہ فیصلہ کرے گا کہ مجسمے کی صفائی کیلئے کون سا طریق کار سب سے بہتر ہے۔ منصوبے پر عملدرآمدکے لئے اطالوی حکومت نے پینٹنگ اور مجسموں کو اصل حالت میں بحال کرنے کے ماہر پرونچی کا تقرر کیا تھا لیکن انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا‘ ان کا مطالبہ تھا کہ مجسمے کو صرف بالوں والے برش سے صاف کیا جائے۔ پرونچی کا کہنا تھا کہ دوسرے کسی بھی طریقے سے سنگ مرمر کے مجسمے اور اس کی رگوں کے قدرتی رنگ خراب ہو نے کا خدشہ ہے۔
’’ڈیوڈ‘‘جوگیارہ برس کی طویل مدت میں تیار کیا گیاتھا‘انتہائی باریک بینی سے اس کی تفصیلات طے کی گئیں کمپیوٹر پر اس کی ڈیجیٹل تصویروں کے ذریعے ہر انچ پر موجود میل‘ خراشوں اور دراڑوں کا معائنہ کیا گیا۔ مائیکل اینجلو کے ’’ڈیوڈ‘‘ کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ایک اور عمارت میں رکھنے کے بعد1878ء میں موجودہ نمائش گاہ منتقل کیاگیا تھا۔ تب سے ہر سال اوسطاً بارہ لاکھ شائقین اسے دیکھنے کے لئے آتے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…