اعداد و شمار کے مطابق 1860ء کی دہائی میں ہندوستان کے مسلمانوں کی شرح خواندگی 85 فیصد تھی کیونکہ بچوں کو بچپن ہی سے مساجد میں بھجوا دیا جاتا تھا جہاں انہیں قرآن و حدیث کے علاوہ گلستان و بوستان‘ سعدی‘ فلسفہ‘ ادب‘ فارسی زبان پڑھانے کے ساتھ ساتھ لکھنا سکھایا جاتا تھا۔ ماڈرن سائنسی تعلیم کے لئے الگ اسکول اور یونیورسٹیاں بنانا پڑیں۔ غریب بچے اس کا خرچ افورڈ نہیں کرسکتے تھے وہ پیچھے رہ گئے۔ دوسری طرف مسجد کا ایک اہم رول ذہنی تشکیل اور کردار سازی تھا وہ وقت کی دھول میں گم ہوگیا۔ پاکستان بنا تو ہماری شرح خواندگی تیرہ فیصد تھی۔ صدیوں تک مساجد کم وسیلہ حضرات اور مسافرین کے لئے جائے پناہ تھیں جہاں محلے کے لوگ ان کے کھانے کا اہتمام کرتے تھے۔ اب بے وسیلہ مسافر فٹ پاتھوں پر سوتے اور پارکوں میں بھوکے راتیں گزارتے ہیں۔ مساجد مسلمانوں میں اتحاد و یگانگت کا ذریعہ تھیں اب مذہبی منافرت اور فرقہ بندی پھیلانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ بلاشبہ ماڈرن تعلیم‘سائنس اور ٹیکنیکل ایجوکیشن قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے لیکن ماڈرن نظام تعلیم کو اپنی اخلاقی اور دینی قدروں سے محروم کرنا ایک سنگین غفلت تھی جس نے قوم کی کردار سازی میں شگاف ڈال دیئے۔۔۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































