ظاہر ہے کہ یہ ذکر ہے مسجد نبوی مدینہ منورہ کا جسے ہم حرم نبوی بھی کہتے ہیں۔ آپ کو علم ہے کہ مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد حضور نبی کریم کا پہلا قدم مسجد نبوی کی تعمیر تھا۔ جس کے لیے زمین دو یتیم بچوں سے خریدی گئی۔ حضور خود بھی یتیم تھے‘ یتیمی کے مسائل سے پوری طرح آگاہ تھے اور مسجد نبوی یعنی حرم نبوی کے لیے زمین کی سعادت بھی یتیم بچوں کو ہی حاصل ہوئی۔ گویا یتیم کامسلمان معاشرے پر حق افضل ترین ہے اور یتیم سے محبت میں عشق رسول کا پر تو ہوتا ہے۔ مدینہ منورہ میں اس مخصوص جگہ پر مسجد نبوی کی تعمیر اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا جس کی راہنمائی اس اونٹنی نے کی جو وہاں حکم ربی کے تحت بیٹھ گئی تھی۔ مسجد کی تعمیر میں حضور بنفس نفیس شریک رہے اور اینٹ پتھر ڈھوتے رہے۔ آپ نے مسجد کے بازو میں چند مکانات بھی تعمیر کیے جن کی دیواریں کچی اینٹ اور چھتیں کھجور کے تنوں کی تھیں۔ یہی ازواج مطہرات کے حجرے بنے۔ اب ذرا غور کیجئے کہ مصنف سیرت نبوی مسجد کے حوالے سے کیا لکھتا ہے: ’’مسجد محض ادائے نماز ہی کے لیے نہ تھی بلکہ یہ ایک یونیورسٹی تھی جس میں مسلمان اسلامی تعلیمات و ہدایات کا درس حاصل کرتے تھے اور ایک محفل تھی جس میں مدتوں جاہلی کشا کش و نفرت اور باہمی لڑائیوں سے دوچار رہنے والے قبائل کے افراد میل محبت سے مل جل رہے تھے۔ یہ ایک مرکز تھا جہاں سے اس ننھی ریاست کا سارا نظام چلایا جاتا تھا اور مختلف قسم کی مہمیں بھیجی جاتی تھیں علااوہ ازیں اس کی حیثیت ایک پارلیمنٹ کی بھی تھی جس میں مجلس شوریٰ اور مجلس انتظامیہ کے اجلاس منعقد ہوا کرتے تھے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ مسجد ان فقراء اورمہاجرین کی ایک بڑی تعداد کا مسکن تھی جن کا وہاں پر نہ کوئی مکان تھا‘ نہ مال اور نہ اہل و عیال۔ اوائل ہجرت ہی میں اذان بھی شروع ہوئی۔ یہ ایک لاہوتی نغمہ تھا جو روزانہ پانچ بار افق میں گونجتا تھا اورجس سے پورا عالم لرز اٹھتا تھا۔‘‘ آگے چل کر مصنف لکھتا ہے : ’’نئے اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے حضور نے عہد و پیمان کروایا جسے خود نبی کریم نے تحریر کیا۔ اس پیمان میں واضح کیا گیا تھا کہ ’’مسلمان باقی انسانوں سے ماسوا ایک الگ امت ہیں‘‘۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا ’’سلام پھیلاؤ‘ کھانا کھلاؤ‘ صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نمازپڑھو۔ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔‘‘



















































