جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

سلطان محمود غزنوی عظیم فاتح یا۔۔۔

datetime 2  مئی‬‮  2015 |

اس سے بھی پرزور قصیدہ فرخی کا ہے جو اس نے فتح کی یاد گار میں لکھا:
’’فسانہ گشت و کہن شدحدیث اسکندر
سخن نوآر کہ نور احلاوتلیت دگر‘‘
اور پھر آگے چل کر سفرسومنات اور فتح کی تمام تفصیلات نظم کی ہیں۔ فرخی نے محمود کی وفات پر جو مرثیہ لکھا وہ بھی فارسی شاعری میں ایک خاص چیز ہے:
’’شہرغزنیں نہ ہمانست کہ من دیدم پار
چہ فتاداست کہ امسال دگرگوں شدکار‘‘
سلطان محمود ایک عجیب دل گردے کا مالک اور ایک عظیم الشان قوت ارادی کا انسان تھا۔1027ء میں اسے بخار رہنے لگا جس نے تپ دق کی صورت اختیار کر لی لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے معمولات میں فرق نہ آنے دیا۔ دربار اورباریابی کا سلسلہ اسی طرح برقرار رکھا۔ خراسان سے سلجوقوں کو نکالا۔ رے کی بغاوت کو فرو کیا۔ 1029ء کا موسم گرما خراسان میں اور اگلا موسم سرما بلخ میں گزارا لیکن اب صحت نے بالکل جواب دے دیا اور 22اپریل1030ء کو اسے غزنی واپس آنا پڑا۔ سات آٹھ روز بعد قضا کا پیغام آ پہنچا۔ بستر مرگ پر بھی سلطان نے اس بلند ہمتی اور قوت ارادی کا ثبوت دیا جس کا مظاہرہ ہندوستان کے معرکوں میں ہوتا تھا۔ اپنی طویل بیماری میں اس نے بستر علالت پر دراز ہونا قبول نہ کیا۔ وہ دن اور رات تکیوں کا ٹیک لگا کر بیٹھا رہتا اور اسی حالت میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…