سلطان محمود نے نہ صرف فتح ممالک اور جمع اموال میں کمال حاصل کیا بلکہ علم و ادب کی بھی سرپرستی کی اور اپنے دربار میں زمانہ بھر کے منتخب شعراء و علماء و فضلا جمع کر دئیے ۔واقعہ یہ ہے کہ برگزیدہ شعراء کا جم غفیرمحمود کے دربار میں تھا ۔ایران و توران کے کسی دوسرے فرمانروا کو میسر نہیں ہوا۔ ان شعراء کی بذلہ سنجیوں اور نکتہ آفرینیوں نے محمود کی فتوحات کو چار چاند لگا دئیے اور نہ صرف سیاسی تاریخ میں بلکہ فارسی ادب کے اوراق میں بھی محمود اور اس کے دربار کو بلند جگہ مل گئی۔ جن شعراء نے محمود کے دربار میں شہرت پائی ان میں فردوسی ٗ عنصری ٗ عسجدی اور فرخی خاص طورپر مشہور ہیں۔ فردوسی کے سوا باقی تین شعراء نے ایسے اشعار لکھے ہیں جن میں سلطان کی ہندوستانی فتوحات کی طرف اشارہ ہے۔ عسجدی شاید سلطان کی مہم سومنات میں شریک بھی تھا اور اس نے اس کے متعلق ایک زبردست قصیدہ لکھا تھا جس کے چند شعر محفوظ ہیں۔ مطلع تھا:
’’تاشاہ خسرواں سفر سومنات کرد
کردار خویش راعلم معجزات کرد‘‘



















































