مزید پڑھیے:بیمار والدہ کی دیکھ بھال کیلئے چینی بیٹے کی لازوال قربانی،
’’محمود کی زندگی کی زبردست خواہش فتح اور حکومت کی توسیع تھی اور اسی میں اس نے ساری زندگی صرف کر دی۔ وہ اس میں بہت حد تک کامیاب رہا۔ اس نے وسط ایشیاء اور فارس کا بہت سا علاقہ فتح کرلیا اور عباسی خلیفہ بغداد کا علاقہ فتح کرنے کا ارادہ کررہا تھا کہ1030ء میں مر گیا۔ اس نے سپاہیانہ کامیابی اور لوٹ مار کے لئے ہندوستان پر کئی حملے کئے۔ کئی مندروں کو لوٹا اور جلایا لیکن اس لئے کہ ان میں زرومال جمع تھا۔ اس نے کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس نے متعدد ہندو افسروں اور سپاہیوں کو اپنی فوج میں ملازم رکھا جو اس کیلئے وسط ایشیاء اور ایران میں لڑتے رہے‘‘۔
محمود کی فوج میں جن ہندوسپہ سالاروں نے عروج حاصل کیا ٗ ان میں سوبندررائے ٗ تلک اور ناتھ خاص طورپر مشہور ہیں۔ سوبندر رائے پر حکومت کو اس قدر اعتماد تھا کہ جب محمود کی وفات کے فوراً بعد مغربی ولایت کے شہر بست میں بغاوت ہوئی تو محمود کے جانشین نے سوبندر رائے کو اس نازک موقع پر بغاوت فروکرنے کے لئے بھیجا اور وہ بڑی بہادری سے لڑتا ہوا میدان جنگ میں کام آیا۔ ناتھ کی وفا شعاری بھی اسی قسم کی تھی۔ اسے مسعود نے نیال تگین کی سرکوبی کیلئے روانہ کیا اور جب وہ کئی فتوحات کے بعد لڑائی میں ماراگیا تو مسعود کو اتنا رنج ہوا کہ اس نے تین روز تک کھانا نہ کھایا اور اس کی جگہ اس کا ہم مذہب (تلک)نامزد کیا۔



















































