جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیمار والدہ کی دیکھ بھال کیلئے چینی بیٹے کی لازوال قربانی،

datetime 12  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چین میں ایک سعادت مند بیٹے نے بوڑھے والدین کی خدمت کی انوکھی مثال قائم کر دی۔مشرقی صوبے ژی جیانگ کے رہائشی سکیورٹی گارڈلو چن کئی کی 84سالہ والدہ الزائمرز کے ذہنی مرض کی شکار ہیں۔

بوڑھی خاتون اکثر پہاڑوں پر جلانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرنے چلی جاتی تھیں اور کئی بار ایسا ہوا کہ وہ اندھیرا ہو جانے کے باعث وہاں گم ہو گئیں۔ ان مسائل سے پریشان ہو کر لوچن نے والدہ کو ہر وقت ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنی بوڑھی ماں کو ہر روز موٹرسائیکل پر بٹھا کر اپنے ساتھ کام پر لے جاتا ہے تاکہ وہاں ان کی خدمت کر سکے اور اس کی غیر موجودگی میں گھر میں رہتے ہوئے بوڑھی والدہ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔جب ا س سال کے آغاز میں لو چن کے والد کا انتقال ہوا تو اس نے اپنی والدہ کو اپنے ساتھ کام پر لیجانا شروع کر دیاکیونکہ اس کے سوا اس کی والدہ کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ ہر روز والدہ کواپنے پیچھے موٹر سائیکل پر بٹھاتا اور ایک کپڑے سے اس کو اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے تاکہ وہ گر نہ جائیں۔ مسٹر لوچن کا کہنا ہے کہ وہ کام پر جاتے ہوئے اپنی والدہ کی حفاظت کی غرض سے موٹر سائیکل اس قدر آہستہ چلاتا ہے کہ 4کلومیٹر کا سفر ایک گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ اس تمام وقت میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ گفتگو کرتا رہتا ہے۔وہ جس بینک کا سکیورٹی گارڈ ہے ان کی طرف سے اسے ایک کمرہ دیا گیا ہے جہاں وہ اپنی والدہ کو بٹھا دیتا ہے اور دن بھر ان کی دیکھ بھال کرتا رہتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ نے ساری زندگی اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں گزار دی ، اب یہ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی والدہ کی دیکھ بھال کرے۔اس نے کہا کہ بچپن میں میں اپنی ماں کی آنکھ کا تارہ تھا، اب وہ میری آنکھ کا تارہ ہیں۔جب ہم چھوٹے تھے تو ہماری ماں فارم میں کام کرتی تھیں اور وہ اسی طرح ہمیں اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر اپنے ساتھ کام پر لے جایا کرتی تھیں۔ اس نے کہا” ہر وقت اپنی والدہ کو دیکھتے رہنے سے میں پر سکون رہتا ہوں کیونکہ مجھے ان کے کھو جانے کا خوف لاحق ہے۔“

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…